طالبانیت کی روح غائب ہے۔۔۔۔(ایاز امیر)
میرا خیال ہے کہ ہم اس سارے معاملے کو سمجھ نہیں پا رہے۔ افغانستان میں جاری طالبانیت امریکی تسلط کے خلاف بغاوت ہے۔ وہ لوگ جو اس سادہ سی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے ، انہیں ازسرنو کسی تعلیم بالغاںکے ادارے میں داخلہ لینے کی ضرورت ہے۔ سو اگر ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ طالبانیت ، امریکی تسلط کے خلاف بغاوت ہے تو اس نکتہ نظر سے افغان بغاوت کا حقیقی سرپرست یا سرچشمہ تو پھر متحدہ ریاست ہائے امریکہ ہی ہے۔
لیکن جہاں تک پاکستانی طالبانیت کا تعلق ہے تو وہ کچھ قطعی مختلف قسم کا معاملہ لگتا ہے، پاکستانی طالبانیت کے مظہرجنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود اور سوات میں مولانا فضل اللہ ہیں۔ پاکستانی طالبانیت کے ڈانڈے شاید افغان جنگ سے جا ملتے ہوں اور شاید یہ افغان جنگ کے ذیلی اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) کہلائے جا سکتے ہوں لیکن اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ پاکستانی طالبانیت کے طور طریقے اور اطوار کچھ بدلے بدلے سے ہیں اور لگتا ہے کہ اس نے کچھ اپنی ہی شکل و صورت نکال لی ہے۔
پاکستانی طالبانیت کے مظاہر خاصے دقیانوسی بلکہ وحشیانہ کہلائے جا سکتے ہیں، سکولوں کو بم دھماکوں سے اڑادینا، خواتین کو عمومی معاشرتی دھارے سے الگ تھلگ کر دینے پر زور دینا اور گلے پر چھریاں پھیرنا۔۔۔یہ سب پاکستانی ریاست کے خلاف بغاوت ہے۔ یا پھر یوں کہیں کہ پاکستانی ریاست کی غیر فعالیت کے خلاف بغاوت ہے۔
اس بغاوت کا قلع قمع کرنا یا اسے کچل دینا تو دور کی بات، اس پر اب تک کوئی قابو بھی نہیں پایا جا سکابلکہ یہ بغاوت تو کچھ پھیلتی اور پھلتی پھولتی نظر آرہی ہے۔ اب تک تو یہ بغاوت صرف صوبہ سرحد تک ہی محدود تھی لیکن 7فروری کو اس بغاوت نے پہلی بار دریائے سندھ عبور کیا اور میانوالی(قدرت آباد میں وان بچران کے قریب) میں ایک پولیس چیک پوسٹ کوطالبان جنگجوؤں نے نشانہ بنایا ۔ اور پھر 11فروری کو عیسیٰ خیل کے قریب ایک اور پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا۔
میانوالی اور بھکر ، دریائے سندھ کے کنارے واقع دو ایسے خستہ حال اضلاع ہیں جہاں طالبان بلاروک ٹوک گھس سکتے ہیں۔ اور اگر طالبان نے ان علاقوں میں کسی قسم کا کنٹرول حاصل کر لیا، تو پھر اللہ ہی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ میرا ضلع چکوال بھی یہاں سے کچھ ذیادہ دور نہیں اور نہ ہی پھر سرگودھا اور خوشاب کچھ ذیادہ دوری پر ہیں۔ اور پھر ان اضلاع سے وسطی پنجاب میں سرائیت کر جان کونسی بڑی بات رہ جائیگی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کوئی طالبان کی طرف متوجہ ہی کیوں ہو گا؟ کیا ہمیں معلوم نہیں ہے کہ طالبان کیا ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟ اور پھر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخر پنجاب ، طالبان کو پاؤں دھرنے کی جگہ ہی کیوں دیگا؟ ان سوالوں کے جوابات شاید اتنے سادہ اور آسان نہیں ہیں۔
لیکن یہ اظہر و من الشمس حقیقت کسی بھی مشاہدہ کرنیوالے شخص پر واضح ہے کہ پاکستان میں تین طبقات ہیں، ایک تو مراعات یافتہ لوگوں کا طبقہ ہے ، ایک مڈل کلاس ہے جو کسی حد تک آرام و سہولت سے زندگی گذار رہاہے اور پھر ایک بڑی وسیع آبادی ہے جو خستہ حال عوام پر مشتمل ہے، جنکا روز و شب پر کوئی اختیار نہیں اور جن کے دن بھی راتوں کی طرح سیاہ ہیں ۔
آخر وہ کون لوگ ہیں جو وزیرستان میں بیت اللہ محسود کے جھنڈے تلے اکھٹے ہوئے ہیں اور وہ کون لوگ ہیں جو سوات میں فضل اللہ کے گرد جمع ہوئے ہیں؟ ان لوگوں میں خان خوانین اور ملک شامل نہیں بلکہ یہ سارے وہ خستہ حال عوام ہیں کہ جنکے مقدر میں سیاہی بھر دی گئی ہے۔ اور خبردار کرتے چلیں کہ اگر ہماری پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ شمال مغرب میں اس بغاوت کو کچلنے میں ناکام رہی تو یہ بغاوت رینگتے ہوئے ملحقہ پنجاب پہنچ جائیگی اور یہاں ایسے خستہ حال عوام کی کوئی کمی نہیں جو چارہ بننے کے لئے تیار ہے۔
پنجاب کے ہر چھوٹے بڑے قصبے میں مساجد ہیں اور ذیادہ نہیں تو کم از کم ایک مسجد توان قصبوں میں ضرور ایسی ہو گی جسے طالبان برانڈ کے اسلام کے ساتھ ہمدردی ہوگی۔ سومساجد کی شکل میں ایک فوری نیٹ ورک ایسا ضرور موجود ہے جس کی مدد سے طالبان کا نظریاتی سفر جاری رہ سکتا ہے خواہ ہم طالبان نظرئیے کو پسند کریں یا نہ کریں، یہ ایک قطعی مختلف ایشو ہے ، ہاں یہ نیٹ ورک ہوچی منہہ ٹریل کی طرح جاری رہے گا۔
اگر یہ نیپال ہوتا تو یہاں ماؤ پسند بغاوت برپا ہو چکی ہوتی۔ اگر یہ لاطینی امریکہ کا کوئی ملک ہوتا تو یہاں کسان کب کے بغاوت کا علم بلند کر چکے ہوتے۔
سوات میں صورتحال اس وقت خراب ہونی شروع ہوئی جب مولانا صوفی محمد نے یہاں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ لیکن اب ملاحظہ فرمائیے کہ انکے داماد مولانا فضل اللہ کی قیادت میں اس وقت سوات میں حالات کس طرف جا چکے ہیں۔ یہ صورت حال تو مولانا صوفی محمد کے خیال و خواب میں بھی نہیں ہو گی۔
اسی طرح سے افغان مزاحمت کے پاکستان پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں بھی ملا عمر یا اسامہ بن لادن نے نہیں سوچا ہوگا۔ حالات کا وسیع تناظر میں جائزہ لیا جائے تو یقیننا القاعدہ کو ایک اہم پہلو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن پاکستان میں طالبان بغاوت نے اپنی ہی ایک شکل و صورت اختیار کر لی ہے۔
ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، جن کے کرنے کو کوئی کام کاج نہیں اور جنہیں زندگی میں آگے بڑھنے کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ اگر کوئی انکے ساتھ برا برتاؤ کرتا بھی ہے تو انکی اتنی ہستی یا حیثیت نہیں کہ وہ اپنا جواب دے سکیں۔ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنہیں پولیس سٹیشنوں میں روزانہ جسمانی و ذہنی اذیتوں سے گذرنا پڑتا ہے، ایسے لوگوں کا بھی کوئی شمار قطار نہیں جنکی زندگیاں کورٹ کچہری کے چکروں میں پس جاتی ہے۔ کرپشن کے ایک لامتناہی سلسلے نے ہمارے گرد ایک جال بن رکھا ہے۔حکومت کا ہر محکمہ خود آپ اپنی خدمت میںمگن ہے، عوام کا کہیں کوئی پرسان حال نہیں۔تو ایسے میں طالبانیت کو فروغ نہ ملے تواور کس چیز کی امید رکھی جا سکتی ہے؟
مجھے چند مثالوں سے وضاحت کی اجازت دیجئیے۔ چکوال میں حال ہی میں اٹھارہ کروڑ روپے کی لاگت سے سیوریج سسٹم پراجیکٹ کا آغاز ہوا۔ اس پراجیکٹ کی ذمہ داری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی ہے۔ لیکن ڈیپارٹمنٹ نے وہ ہا ہا کار مچائی ہے کہ الامان و الحفیظ۔اس قدر غیر معیاری کام کیا گیا کہ نالیاں تنگئی داماں کا شکوہ کرتی ہوئی ہر لحظہ بندرہتی ہیں اور گلیاں گندے پانی سے اٹی رہتی ہیں، اس ساری بد انتظامی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔
جب میں نے ایسے ہی ایک علاقے کا دورہ کیا تو متعلقہ محکمے کے افسران عذر لنگ تراشنے لگ گئے لیکن میں نے انہیں دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ اس طرح کر کے وہ خدائی غضب کو دعوت دے رہے ہیں۔ میں نے انہیں تخویف دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اس روز سے ڈرو جب مسائل سے تنگ آئے لوگ معاملات اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے اور طالبان طرز انصاف فروغ پانے لگے گا۔
کوئی ایک ہفتہ قبل پنجاب کے چیف سیکریٹری نے چکوال کا دورہ کیا۔ انکا جلوس بڑی سرعت و تندہی سے ضلع کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں پولیس گاڑیوں اور ہارنوں کے ہالے میں گردش کرتا رہا، یہ سب کچھ خاصا متاثر کن تھا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انہیں کسی نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی بپا کردہ ہنگامہ آرائیوں کی خبر دی تھی؟
چکوال کی مرکزی سڑک از سر نو تعمیر کی گئی ہے اور اسکے دونوں جانب کشادہ نالیاں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔ تعمیر نو کا یہ کام اس قدرغیر معیاری بلکہ گھٹیا طریقے سے کیا گیا ہے کہ بہتر ہوتا اگر ٹھیکدار نام نہاد سیمنٹ کی بجائے صرف ریت ہی بھر دیتا۔ سو چیف سیکریٹری آئے اور چلے بھی گئے لیکن یہ کام اسی طرح ہے۔ سو چیف سیکریٹری کے عظیم الشان دورے نے کیا مقاصد حاصل کئے؟
ملک بھر کے پولیس سٹیشنوں میں پیسہ بولتا ہے۔ ہر نیا آنیوالا چیف منسٹر اعلان کرتا ہے کہ وہ تھانہ کلچر کا خاتمہ کر دیگا۔لیکن کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ یقیننا معاملات بہتر ہونے کی بجائے دن بہ دن بدحالی کی طرف جا رہے ہیں اور ہم میں سے اکثریت کو اس کا احساس تک نہیں۔
امریکی کہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان دی جانیوالی امداد کو ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے نہ کہ فوج پر۔ کسی زمانے میں امریکی کانگریس میں بڈن لوگر بل پیش کیا گیا تھا، جو اب اپنی موت آپ مر چکا ہے لیکن اس بل کے تحت پانچ سال تک پاکستان کو 15ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا۔ اب اوبامہ انتظامیہ یہ کہتی ہے کہ پاکستان کو امداد اس صورت میں ملے گی اگر وہ طالبان اور انتہا پسندی کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ زاویۂ فکر اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ امریکی یہ فرض کئے بیٹھے ہیں کہ پاکستان کو امریکی امداد کی ضرورت ہے اور اسی امداد کے طفیل طالبان کو شکست دی جا سکتی ہے۔ لیکن تجربات اس کے برعکس ہیں۔
امریکیوں نے مشرف دور حکومت میں پاکستان کو امداد دی۔ لیکن کیا ڈالروں کی اس ریل پیل نے طالبان کے خلاف جنگ کے حوالے سے ہماری صلاحیتوں میں کوئی اضافہ کیا؟ ہاں اگر کوئی اضافہ ہوا ہے تو ان خطرات میں ہوا ہے جو اب ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں اور پہلے سے کہیں بڑھ کر سنگین شکل اختیار کر گئے ہیں۔ امریکی ، افغانستان میں بھی ڈالر انڈیل رہے ہیں۔ کیا وہاں حالات میں کوئی بدلاؤ یا استحکام آیا ہے؟ اور اب کرزئی انتظامیہ پر وسیع پیمانے پر کرپشن کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔
تیسری دنیا کے ممالک میں امدادی رقوم کا یہی حشر ہوتا ہے اور خاص طور پر ان ممالک میں جنہیں جنگوں کا سامنا ہو۔ اگر صرف ڈالروں کی بہار دکھانے سے ہی معاملات درست ہو سکتے ہوں تو پھر امریکہ کو ویتنام میں کبھی بھی شکست کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔ صرف ڈالروں کے بل بوتے پر آپ افغانستان یا پاکستان میں جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
اگر تاریخ کو اپنا رہنما مان لیا جائے تو مان لیجئیے کہ افغانستان میں امریکی کوششوں کا انت ہو چکا ۔ افغانستان کو سلطنتوں کا قبرستان ویسے ہی نہیں کہا جاتا۔ امریکیوں کو اس حقیقت کا ادراک جلد یا بدیر ہو جائے گا لیکن شاید اس وقت تک ہمارے لئے بہت دیر ہو چکی ہو۔
طالبانیت ،انتہاپسندی اور انقلاب کی ہی ایک قسم ہے۔ اس سے نمٹنے کا آسان نسخہ یہ ہے کہ ہماری قیادت بھی انقلابی ہو۔ لیکن کیا ہمارے ہاں اس قسم کی قیادت کا وجود ہے؟ پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے تو سٹیٹس کو کے ساتھ بندھن باندھ رکھا ہے۔ دونوں ہی جماعتیں امریکی آشیر باد کے بغیر سانس لینے کا تصور تک نہیں کر سکتیں، دونوں ہی جماعتیں امریکہ کے ساتھ چلنے کی خواہاں ہیں اور بدقسمتی سے دونوں ہی جماعتیں آذادی سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔
دسمبر 2003میں قطر میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پاکستان سے مشاہد حسین، انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز کے اعجاز حیدر اور راقم الحروف نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں رچرڈ ہالبروک بھی مدعو تھے۔ موصوف نے اس موقع پر ایک حیرت انگیز بیان دیا ۔ فرمانے لگے کہ اگر کانفرنس کے مدعوئین کو اسرائیل فلسطین تنازعے یا پھر عراق جنگ پر خیال آرائی کرنی ہے تو پھر وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ انکا انداز بیان یا پھر یوں کہیں طرز تخاطب کچھ ایسا تھا جیسے انہیں دنیا کے سارے سوالوں کے جواب معلوم ہوں۔اس سہ روزہ کانفرنس کے موقع پر انہوں نے مدعوئین پر یہ تاثر قائم کیا کہ وہ ایک ایسے ضدی اور ہٹیلے شخض ہیں جو میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔اور اب ہماری سول اور فوجی قیادت گذشتہ چند روز سے ہالبروک جیسے شخص کی جی حضوری اور خوشامد میں لگی ہوئی ہے۔ سو اپنی قیادت کا ماتم کرنے کے سوا اور کیا کیجئیے کہ یہی شے ہمارے ہاں نایاب ہے۔
لیکن ہمارے اجتماعی سیاسی شعور و آگاہی کے طفیل ہمیں یہی قیادت میسر آئی ہے اور یہی ہمارابہترین اثاثہ ہے۔ اور اسی قیادت نے طالبان بغاوت کو کچلنا ہے اور اسے شکست دینی ہے ،گو کہ یہ کام کوئی اتنا آسان بھی نہیں۔
ختم شد۔
