پاکستان کو درپیش چیلنج!۔۔۔۔(نجم سیٹھی)
امریکی صدر اوبامہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں تاکہ ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجوں کا جائزہ لیں اور طے کریں کہ ان چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے امریکہ پاکستان کی کیونکر مدد کرسکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ داخلی سیاست ‘اقتصادیات اور خارجہ تعلقات کے مابین نقائص سے پاک رابطہ پہلی بار قائم کیا گیا ہے۔ اس سے قوم کی بہتری اور بقاء کی خواہش کے واضح خدو خال سامنے آسکیں گے ۔
1:۔ پاک فوج نے عرصہ دراز سے قومی سلامتی کا ایک مخصوص نظریہ اپنارکھا ہے جس میں بھارت اور امریکہ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے بلاشبہ فوج کو خارجہ پالیسی پر پائیداراور فیصلہ کن غلبہ اور سیاسی اقتدار کی قلمرومیں اہم کرداربر قرار رکھنے کا موقع ملا۔ فوج کی مکمل حمایت کے بغیر کسی پاکستانی حکومت کی علاقے اور بیرونی دنیا کیلئے خارجہ پالیسی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ باضابطہ طور پر سویلین حکومت کے سپرد کرنے کے باوجود فیصلہ کرنے کا عملاً اختیار فوج کے پاس ہے۔ لہٰذا ہالبروک کیلئے ذیادہ اہم ہے کہ وہ نہ صرف سویلین حکومت سے بلکہ پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ سے بھی براہ راست بات کریں تاکہ مشترکہ مقاصدکا تعین اور ان کے حصول کا طریقہ وضع کیا جاسکے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی یہ تجویز اس سمت میں ایک اچھا آغاز ثابت ہوسکتی ہے کہ مشترکہ پالیسی اور انٹیلی جنس کی تشکیل کیلئے دونوں ملکوں کے سول و فوجی حکام پر مشتمل فورم بنایا جائے۔
2:۔ پاکستانی معیشت کی پیداواری رفتار گھٹ کر 3 فیصد رہ گئی ہے جس سے لا محالہ معاشرے میں بے چینی بڑھے گی اور سیاسی خلفشار کو ہوا ملے گی۔ اس کے اثرات پاکستان کے سرحدوں کے پار افغانستان ، مغرب میں وسطی ایشیا اور مشرق میں بھارت تک جا ئیں گے اور ان علاقوں میں اسلامی بنیاد پرستی پھیلے گی۔ تاہم معیشت کے ڈھانچے کی کمزوریوں کے سبب اس کا خود سے پاؤں پر کھڑا ہونا مشکل ہے۔ معیشت کو سہارا دینے کے لئے پاکستان کو بھاری مقدار میں غیر ملکی امداد کی ضرورت ہے جو امریکہ کی بالخصوص اور عالمی برادری کی بالعموم مدد اور حمایت کے بغیر نہیں مل سکتی۔ نتیجتاً اسلام آباد اور راولپنڈی میں تناؤ کم نہ ہوگا۔ ادھر آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو پورا کرنا مشکل ہے۔ پاکستان کے لئے دس سال تک ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ امداد دینے کا مجوزہ بائیڈن لوگر بل جو بش کے دور میں کانگریس میں پیش کیا گیا تھا تاخیر کی نذر ہوچکا ہے۔’’ فرینڈز آف پاکستان‘‘ جن کا کہ بڑا چرچا تھا اور جس میں سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک شامل تھے، کہیں سوئے پڑے ہیں۔ ان سے فوری مالی امداد ملنے کی توقع تھی لیکن وہ بھی اب پاؤں کھسکارہے ہیںاور اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے اشارے کے منتظر ہیں۔ اس سے بھی بدترصورتحال یہ ہے کہ پاک فوج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے جو نقد امداد اور خصوصی آلات درکار ہیں، وہ بھی نہیں مل رہے کیونکہ امریکہ نے پچھلے کئی ماہ سے اپنے ملکی حالات اور تبدیلی کے عمل کی وجہ سے ہاتھ روک رکھا ہے۔ لہٰذا امریکہ اور پاکستان کے حکام انٹیلی جنس ‘ دفاع اور دیگر امور پر مشترکہ قابل قبول پالیسی وضع کرنے کیلئے جتنی جلد مل بیٹھیں اتنا ہی بہتر ہے۔ اس کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ پاکستان کو ملنے والی اقتصادی امداد جو، رکی ہوئی ہے جلد اس تک پہنچ سکے گی۔
3:۔ تیسرا چیلنج پاکستان میں سیاسی استحکام اور گڈ گورننس لانا ہے۔جو کھچاؤ جاری ہے وہ عوام میں اعتماد پیدا کرنے اور اچھی گورننس اور استحکام کیلئے ساز گار نہیں ہے۔ گیلانی کی جانب سے قومی سلامتی کے مشیر میجر جنرل (ر) محمود درانی کو زرداری کے اور سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کو ان کے باس مشیر خزانہ شوکت ترین کے مشورہ کے بغیر عہدہ سے ہٹانا مستحسن اقدام نہیں ہے۔ بدقسمتی سے شوکت ترین نے اس اقدام پر اعلانیہ ناگواری کا اظہار کیا جو انہیں نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس طرح میڈیا کو، چھوڑنے کیلئے ایک اور شوشہ مل گیا۔ ڈاکٹر مسعود مختلف وزارتوں اور محکموں کیلئے پسندیدہ نہیں ہیں کیونکہ وہ آئی ایم ایف کے سخت ترین پروگرام کے نفاذ کے انتظامات کر رہے تھے ۔ یہ ایک سنگین اور عجیب صورتحال ہے کیونکہ حکومت کے ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط کی چٹان ہے اور دوسری طرف فنڈز کیلئے عوامی مطالبوں کی گہری کھائی ! حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کس طرف جائے۔ ادھرپیپلزپارٹی کی حکومت اوراپوزیشن مسلم لیگ(ن) کے درمیان کشیدگی بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ پریشانی کی ایک اور بات یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ نوازشریف کو نااہل قرار دیتی ہے اور پنجاب حکومت وکلاء تحریک کی مدد کرتی ہے تو سب گھاٹے میں رہیں گے۔ ایک ایسی حکومت جو داخلی محاذ پر الجھی ہوئی ہو ، بیرونی محاذ پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتی۔ آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قومی ہم آہنگی کا شدید فقدان ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت کی جذباتی اور غیر محتاط میڈیا نے برین واشنگ کررکھی ہے ۔ لوگوںکے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ صرف امریکہ کی جنگ ہے۔ اس سے زرداری حکومت کیلئے مشکلات کھڑی ہوں گی ۔وہ اقتصادی امداد کیلئے امریکہ سے بہتر انداز میں مذاکرات کرسکتی ہے نہ فوج پر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹے اور نہ میڈیا اور اپوزیشن سے سیاسی حمایت حاصل کرسکتی ہے۔
4:۔ چوتھا چیلنج بھارت اور امریکہ سے خارجہ تعلقات سے متعلق ہے۔ دونوں ملکوں کی جتنی توجہ پاکستان پر اب ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان سے ان کے سیکورٹی مفادات کو خطرہ ہے۔ بھارت مجروح ‘ ناراض اور غصے میں ہے جبکہ امریکہ بے صبری اور الجھاؤ کا شکار ہے۔ دونوں ملک اپنے سیکورٹی کے مفادات کے تحفظ کیلئے آپس میں مل گئے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان سیاسی طور پر منقسم اور اقتصادی لحاظ سے کمزور ہونے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
پاکستانی حکومت‘فوج ‘اپوزیشن اور میڈیا کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلئے متحد ہونا ہوگا۔ اگرچہ یہ مشکل کام ہے لیکن اس کے سوا کوئی چارہ نہیں!
