کیا آپ امریکہ آنا چاہتے ہیں۔۔۔۔(انجم نیاز)
امریکہ کی سرزمین پر اترنے والے گندمی رنگ والے ایشیائی لوگوں کی جانچ پڑتال کیلئے خفیہ پولیس کی خدمات لی گئی ہیں۔ اس پولیس کے پاس خان‘ حسن‘ علی‘ محمد اور حسین وغیرہ جیسے ناموں کی فہرست ہے ۔ یہ نام غضبناک طور پر ریڈ الرٹ کی علامت ہیں۔برائے مہربانی آگے بڑھیے! کھڑکی پر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا امیگریشن کا افسر بغیر مسکرائے حکم دیتا ہے‘ نام پڑھتا ہے‘ آ پکے چہرے کی طرف دیکھتا ہے اور کوئی لفظ کہے بغیر آپ کو کہتا ہے بائیں جانب راہداری میں سے گزر کر بائیں مڑ جائیں اور ثانوی سوال و جواب کا انتظار کر یں۔اب اس منظر کو ذہن میں لائیں، بالی وڈ کے سپر سٹار شاہ رخ خان ممبئی سے نیو یارک کی فلائیٹ پر نیو جرسی کے ایئر پورٹ پر اترتے ہیں۔ انہیں امریکہ میں والہانہ استقبال کی توقع ہے۔ شکاگو میں بھارت کی آزادی کی تقریبات کے روح رواں کے طور پر خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔ بھارتی فنکار امیگریشن کلیر ہونے کے بعد شکاگو جانے کیلئے طیارے میں سوار ہونے کیلئے بالکل تیار تھا۔ راستے میں طیارے کو اڑانے والے پائلٹ سمیت تمام انڈین کیبن کے سٹاف نے اس کی خوب ناز برداری کی۔ ائیٹر سٹیوارڈ اور تمام مسافر اسے زمین پر اللہ کا انعام سمجھ رہے تھے۔ خان جب بھی بھارت یا باہر کہیں اور جاتا تھا اس کی اسی طرح عزت افزائی کی جاتی تھی لیکن امریکہ ایک نرالی قسم کی دنیا ہے، وہ ایک اجنبی خطہ ہے۔اگرچہ وہ بالی وڈ سے تاثر لے کر بنائی گئی فلم سلم ڈاگ ملینیر کو آسکر ایوارڈ سے نواز دیتا ہے لیکن نیو یارک ایئر پورٹ پر بیٹھے 8 ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے اجرت وصول کرنے والے افسروں کو بالی وڈ کے اس عظیم فنکار کے بارے میں کیا معلوم۔ ان کے نزدیک تو تمام خان اسی قابل ہیں کہ انہیں گھسیٹا جائے اور پچھلے کمرے میں ثانوی سوالات (امریکی امیگریشن کے ہاں ایک مہذب اصطلاح ہے)کیلئے بھیج دیا جائے۔لڑکوں کی چال اور خوبصورت نظرآنے والے شاہ رخ کے ذہن میں آخری منظر یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو مسلمان ناموں والے گھبرائے ہوئے لوگوں سے بھرے کمرے میں پایا ۔ اس کو ڈرایا گیا‘ تصور کریں کہ عظیم خان کو ایسے عام لوگوں کے ساتھ بٹھایا گیا جن کا گناہ صرف مسلمان ہونا تھا اور یہ کہ وہ 20 سے 50 سال کی عمر کے تھے۔ مزید حیرت ناک بات یہ ہوئی کہ ایک طرف لیجا کر اس کی تلاشی لینا شروع کر دی گئی تاکہ اس سے کوئی خفیہ ہتھیار یا غیر قانونی ڈرگ برآمد کی جا سکے۔شاید طیارے کے سفر سے تھکا ہوا‘ بکھرے بالوں اور خمیدہ آنکھوں والے فنکار پر عقاب کی نظر رکھنے والے افسروں کو غیر قانونی نشے کا شبہ ہو۔ شاہ رخ کا سیل فون اس سے لے لیا گیا۔ یقین کریں یا نہ لیکن شاہ رخ خان کو مدد کے آنے تک 2 گھنٹے تک مسلسل اذیت دی جاتی رہی پھر اسے ایک کال کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس نے نیویارک میں انڈین کونصلیٹ جنرل کو فون کیا، وہاں کا آفیسر فوراً حرکت میں آیا اور اس نے نئی دہلی میں امریکن سفارتکار کو فون لگایا۔نئی دہلی میں امریکی عجیب و غریب سفارتکار ٹموتھی جے رومر کا بیان اس سے بھی زیادہ تعجب خیز تھا۔ ’’ہم مسئلے کے حقائق کو معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ کہہ رہے ہیں کہ شاہ رخ خان جیسے ایک فنکار اور عالمی علامت امریکہ کا انتہائی معزز مہمان ہے۔ کئی امریکی اس کی فلموں سے پیار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ! واہ کیا بات ہے؟‘‘ 9/11 کے بعد منصفانہ بات کی جائے تو اس نے امریکہ میں آنے والے مردوں میں سے متوقع دہشت گردوں کو نکالنے کیلئے امریکی امیگریشن نے ٹھیک طور پر اپنی جانچ پڑتال میں اضافہ کر دیا ہے۔تفتیش کرنے والے افسر نرم اور کام سے کام رکھنے والے لوگ ہیں‘ یہ پروفیشنل افسر صرف اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ امریکی قانون کی پابندی کرنے والا ہر شہری چاہے وہ کالا ہو یا بھورا‘ مسلمان ہو‘ عیسائی ہو‘ ہندو ہو یا یہودی‘ اس کا فرض ہے کہ وہ امریکہ کو محفوظ رکھنے کیلئے قانون لاگو کرنے والے افسروں کے ساتھ جتنا ممکن ہو تعاون کرے۔ ایک انڈین امریکی ITسپیشلسٹ وین کنورو (Ven Kanuru) ہے اور نیو جرسی میں رہائش پذیر ہے،اسکا کہنا ہے ،’’اگرچہ شاہ رخ خان کو دو گھنٹے تک روکے رکھنے‘ تلاشی لینے اور تکلیف دینے سے اس کی عزت نفس کو تکلیف پہنچی لیکن میں امیگریشن افسروں کے اس عمل کی مخالفت نہیںکرونگا۔ وہ صرف اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے جیسا کہ ہم ان سے چاہتے ہیں۔‘‘فلپ کی دلیل بھی سنئے!’’ تصور کیجئے اگر 9/11 کا واقعہ انڈیا یا پاکستان میں ہوتا اور 19 ہائی جیکرز امریکی ہوتے تو آپ ان ملکوں کے ساحل سمندروں پر جانے والے امریکن کے بارے میں کیا کہتے؟ کیا ان کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک نہ کیا جاتا جیسے نیو یارک ایئر پورٹ پر شاہ رخ خان کے ساتھ کیا گیا ۔‘‘
میرے پاس کوئی جواب نہیں! غالباً وین (Ven)اپنی اس دلیل میں درست ہو کہ شاہ رخ خان سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، لیکن اگر وہ کسی جاب کی تلاش میں ہو اور اس کے مقابل کوئی دوسرا گورا ہو اور وہ گورا اس نوکری کو حاصل کرنا چاہے تو تمام چیزوں کے برابر ہونے کے باوجود شاید اس گورے کو نوکری مل جائے گی۔ اگرچہ وین اپنے اختیار کردہ اس ملک کے بارے میں کوئی بھی منفی بات کرنے کیلئے تیار نہیں لیکن وہ دلبرداشتہ ہو کر یہ کہتا ہے کہ امریکہ کا آغاز سورج غروب ہونے کی جگہ سے ہوتا ہے۔ اس کی آبادی بوڑھی ہے اور کم ہو رہی ہے اس کو چلانے والے لوگ آخر کار بھارتی‘ پاکستانی (اگر انہیں اجازت دی گئی) اور چائنہ کے تارک وطن ہونگے۔ وہ عمرمیں چھوٹے ہونگے اور خطرات مول لینے سے گھبرائیں گے نہیں! امریکی بے بی بومرز کی نسل (بوڑھے امریکی) ختم ہوتی جا رہی ہے‘ لیکن میرے خیال میں امریکہ اب تک دنیا کا عظیم ملک ہے۔جلد ہی وین کو خدا حافظ کہنے کا وقت آ جائے گا۔ میں جب اپنے کمرے سے باہر نکلی تو دیکھا کے دو بے بی بومزر اپنے اس کمرے سے نکل رہے تھے‘ جہاں انہوں نے پچھلے کئی گھنٹے سنگلز کے ساتھ ڈانس کرتے گزارے تھے۔ میں نے سنگلز کے بار کے گرد جانے کے بجائے ان سے سوال کیاکہ کیا آپ دونوں شادی شدہ ہیں اور کیا آپ کا کوئی بچہ ہے۔ وہ مجھ پر برس پڑے ہم بچے کے خواہشمند نہیں۔وین کی پیشین گوئی شاید ٹھیک ہو جائے اور وائٹ بادشاہت ختم ہو جائے۔ اس موقع پر پاکستانیوں کیلئے امیگریشن فری نصیحت یہ کی جاتی ہے کہ کیا وہ امریکہ ہجرت کرنا چاہتے ہیں تو یہ وقت بالکل مناسب ہے لیکن انہیں ایئر پورٹ پرایذا رسانی کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
