نواز شریف کا سیاسی تدبر!…..(نجم سیٹھی )

جمعہ اگست 28, 2009

نواز شریف نے حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان قیام امن کیلئے ایک بھارتی اخبار کو بڑا جوشیلا اور خوش آئند بیان دیا ہے، جس کا حوالہ یہ ہے ’’بھارت سے ممبئی حملوں کے بعد خراب ہونے والے تعلقات کی بحالی کیلئے پاکستان میں سیاسی اتفاق موجود ہے۔‘‘ انہوں نے بڑی اہم بات یہ کی ’’مجھے معلوم ہے کہ بھارت کو نقصان ہوا اور میں قبول کرتا ہوں کہ پاکستان کو اپنے فرائض جلد از جلد ادا کرنے چاہئیں تاکہ بیک چینل کے ذریعے سے قیام امن کا عمل دوبارہ شروعکیا جا سکے۔‘‘
نواز شریف قیام امن کیلئے بی جے پی سمیت تمام بھارتی پارٹیوں کو ساتھ لینے کے خواہشمند ہیں اور نئی دہلی کے ساتھ امن کے قیام کی کوششوں میں پیپلز پارٹی سے تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پچھلے مہینے شرم الشیخ میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے تعاونی جذبے کو سراہااور ان کی پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کو مذاکرات آگے بڑھانے کے سلسلے میں خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے جسونت سنگھ کی محمد علی جناح اور پارٹیشن کے موضوع پر کتاب کی تعریف کی، جس میں مصنف نے کہا ہے کہ مسٹر جناح قابل تعریف شخصیت تھے اور جواہر لعل نہرو سمیت کانگریس رہنماؤں کے کٹر اور غیر لچکدار رویے کی وجہ سے ہی وہ مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کی طرف مائل ہوئے ۔
انہوں نے سابقہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی کوششوں کو بھی سراہا کہ انہوں نے 1999ء میں لاہور کا دورہ کیا اور پاکستان کی حیثیت کو تسلیم کرنے کیلئے مینار پاکستان جا کر خود کو دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے وقف کیا۔نواز شریف کی انڈیاپاکستان میں قیام امن کی پالیسی کو دیکھیں تو یہ 1997ء سے شروع ہوتی ہے‘ جب انہوں نے انڈیا کے ’’تمام مسائل پر مذاکرات‘‘ کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے اُسے سیکرٹری سطح کے مذاکرات کے لئے تیار کیا۔ یہ مذاکرات کشمیر سمیت تمام مسائل پر تھے نا کہ صرف مسئلہ کشمیر پر !
نواز شریف کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب بھارتی وزیراعظم نے 1998ء میں انتخابات کی آمد پر کشمیر کے مسئلے پر مذاکرات کے عمل کو ختم کر دیا۔ اسی سال مئی میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کر کے اس عمل کو متاثر کیا اور پاکستان کو بھی دھماکے کرنے پر مجبور کر دیا، لیکن نواز شریف مایوس نہ ہوئے۔ اس دفعہ انہوں نے سابق پاکستانی سیکرٹری نیاز اے نائیک کے ذریعے بیک چینل مذاکرات کا دروازہ کھولا اور دونوں ملک مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بہت پہلے ہی چناب فارمولے پر تیار ہو گئے۔ لیکن جنرل مشرف کی کارگل میں غلط مہم جوئی اور پھر اکتوبر 99ء کے اقتدار پر قبضے نے اس تمام پیش رفت پر پانی پھیر دیا۔
آخری مرتبہ 2006ء میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تو اس کی ایک اہم شق بھارت سے قیام امن کے بارے میں بھی تھی۔ بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی پالیسی کے حوالے سے نواز شریف کی بنیادی سوچ بالکل ٹھیک ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بھارت دشمنی کے خوف کی بنیاد پر پاک فوج کے پاکستان کو نام نہاد نیشنل سیکورٹی سٹیٹ (اگرچہ اس کے حقیقی فوائد کچھ بھی ہوں) بنانے نے دراصل پاکستان میں فوج کو قانونی طور پر طاقت فراہم کی ہے تاکہ وہ جمہوریت پر دباؤ بڑھا سکے اور عام شہریوں کی حق تلفی کر سکے۔
دو مرتبہ فوج کے زیر اثر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں اپنی حکومت گنوا کر وہ اب پہلے سے زیادہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فارن پالیسی کو فوج کے ہاتھوں سے لے لیا جائے۔ اس نظریاتی تصور پر کہ بھارت ہمارا دشمن نمبر ایک ہے، قائم یہ فارن پالیسی ایک ایسی فوج کو ضروری قرار دیتی ہے جو معاشی فلاح کے لوگوں کے حق کو چھین کر فوجی بجٹ کے ایک بڑے حصے کو ہڑپ کر جاتی ہے۔
نواز شریف دراصل 1988ء کے اس نکتے تک پہنچ چکے ہیں جب فوجی اسٹیبلشمنٹ نے نیم دلی سے جمہوری عمل کی اجازت دی اور بے نظیر بھٹو نے راجیو گاندھی کے زیر اثر بھارت سے ملکر امن بلاک قائم کیا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز (جو اصل میں خود ایک فوجی پارٹی ہے) اور پیپلز پارٹی میں اس اتفاق رائے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت مضبوط ہو گی جو مغربی بارڈرز پر افغانستان اور اندرونی طور پر طالبان سے لڑنے کے دوران بھارت کے ساتھ اپنے مشرقی بارڈر کو محفوظ کرنا چاہتی ہے۔ جب تک ہماری پالیسیاں ملک کے معاشی مفادات کی بنیاد کے بجائے اس بنیاد پر بنائی جائیں گی کہ ہم نے اپنے بہت زیادہ طاقتور ہمسائے سے کیسے لڑنا ہے، ہمارے ملک میں کوئی منتخب حکومت محفوظ نہیں ہو سکتی۔نواز شریف نے پاکستان کو ایٹمی ہتھیار دیئے‘ لیکن ان کا ارادہ اسے بھارت پر پھینکے کا نہیں تھا۔ اس کا مقصد جیسا کہ انہوں نے 1999ء میں بیان کیا یہ تھا کہ پورے اعتماد سے بھارت کے ساتھ امن کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ مکافات عمل ہی تھا کہ جنرل پرویز مشرف جنہوں نے 1999ء میں ان کی بھارتی پالیسی کو دو مرتبہ خراب کیا‘ انہیں بھی 2003ء سے 2007ء تک بھارت کے ساتھ امن پالیسی اختیار کرنا پڑی۔ بھارت کو ملک کی دو بڑی پارٹیوں میں اتفاق رائے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اسے اپنے ہمہ پہلو مذاکرات کی شرط ختم کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے۔ کانگریس اب انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کر کے اقتدار میں آئی ہے اور اس کے کندھوں پر دوسروں کا زیادہ بوجھ نہیں۔ کسی دوسرے ممبئی حملے کو بھی مذاکراتی عمل متاثر کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب دہشت گردانہ مفادات کے حصول کی کوششوں اور خطرات کے باوجود قیام امن پر پوری طاقت سے قائم رہا جائے۔ سرد آغاز کے متبرک اصول کے زیر اثر قومیت کے بے فائدہ کھیل کا حصہ بننے سے دہشت گردی کے حملوں سے بچاؤ یقینی نہیں۔



Weather Update

Click for Lahore, Pakistan Forecast