وہ میرا گھر ہے ، جہاں روشنی نہیں ہوتی !۔ ۔ ۔ (1) ) رانا عبداباقی)

منگل ستمبر 15, 2009

پاکستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے موجودہ سیاسی منظر نامے کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ہمارے حکمران ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں نہ صرف تاریخ سے سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں بلکہ خطے کی اُلجھنوں کو سمجھنے ، پاکستان کو درپیش مسائل کا معروضی جائزہ لینے اور اِس سے منسلک جدید تقاضوں کا ادراک کرنے سے بھی محروم نظر آتے ہیں ۔ عہد حاضر میں پاکستان کو کیا خطرات درپیش ہیں اور اِن خطرات کے پیش نظر بانیانِ پاکستان کی وراثت کو کس طرح محفوظ کیا جا سکتا ہے ، وہم و گمان سے بے نیاز ہمارے حکمران کسی بھی نازک صورتحال سے بے پرواہ ہو کر آج پھر سے باہم دست و گریباں ہیں ۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے بعد جو کچھ کہا تھا وہ آج کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی منطبق نظر آتا ہے ۔ اُن کا کہنا تھا ،، دنیا کی تمدنی ترقی کے باوجود بدقسمتی سے آج بھی جنگل کا قانون نافذ ہے یعنی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ، آج بھی طاقتور کمزور کا استحصال کرنے سے نہیں چوکتا، آج بھی خود غرضی، لالچ اور اقتدار کی ہوس افراد اور اقوام پر مسلط ہے ۔ پاکستان کی بہتری اِسی میں ہے کہ ہم جلد از جلد وقت کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر اِس ملک کے لامحدود امکانات کو سمجھیں اور ہر فرد انصاف ، مساوات اور اخوت کے عظیم مقاصد کے حصول کی ضرورت کو محسوس کرے جو قیامِ پاکستان کے بنیادی تقاضے بھی ہیں اور ایک عادلانہ معاشرتی نظام کے مظہر بھی،،۔یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بانیانِ پاکستان کی جلد وفات اور خفیہ ہاتھوں کی سازشوں کے باعث پاکستان میں جمہوریت کا پودہ ایک تن آور درخت نہیں بن سکا اور حکومتیں تواتر کیساتھ آمریت اور جمہوریت کے درمیان منقسم ہوتی رہیں۔ اِسی طرح نوے کی دھائی میںایسے ہی ایک منظر نامہ میں پاکستان میں جمہوری ثقافت پر انتقامی سیاست کا بھوت سوار ہوا جسے خفیہ ہاتھوں نے آمرانہ نظام کے حق میں استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کی بساط کو لپیٹ کر رکھ دیا۔ چار جمہوری حکومتیں تواتر سے تبدیل کی گئیں اور بلاآخر وردی کی حکومت وطن عزیز کے در و دیوار کا حصہ بنی ۔ آمرانہ دور حکومت میں سترہویں ترمیم نے 1973 کے جمہوری آئین کا حلیہ بگاڑ دیا اور آئین کی رہی سہی جمہوری شکل کو جنگل کا قانون سمجھتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت نے 3 نومبر 2007 کے منی مارشل لاء کے ذریعے عوامی امنگوں کا خون کر دیا جس کے خلاف سول سوسائیٹی اور عوام الناس نے 2008 کے انتخابات میں جنرل مشرف کی حکومت کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا اور مشرف حکومت کو ایوانِ اقتدار سے نکال باہر کیا ۔ لیکن جنرل مشرف کو اقتدار کے ایوانوں سے رخصت کرنے کے باوجود یہ اَمر حیران کن اور ناقابل فہم ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے ملکی سیاسی حالات کا بخوبی جائزہ لینے اور تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے عوامی اُمنگوں کے مطابق مشرف حکومت کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو ملکی آئین سے نکال باہر کرنے کے بجائے اقتدار کی سیاسی جنگ میں اِنہی آمرانہ اقدامات کو اپنی سیاسی ساکھ اور حاکمیت کے دائرے کو بڑھانے کیلئے ہی استعمال کرنا شروع کردیا ۔
مندرجہ بالا منظر نامے کے پیشِ نظر گذشتہ آٹھ سالہ آمرانہ دور میں جب مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کو ڈیل یا ڈھیل کے تحت کسی حد تک سیاسی عمل سے باہر کر دیا گیا تھا تو اِن جماعتوں کی مقبول لیڈر شپ ( محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف ) کو ملک سے باہر رہتے ہوئے نہ صرف ماضی کی غلطیوں کا احساس ہوا بلکہ اسلامی اور مغربی دنیائے سیاست کے متحرک عوامل کو قریب سے دیکھنے ،پرکھنے اور سمجھنے کے باعث پاکستان میں جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کا بے پایاں احساس بھی ہوا ۔ چنانچہ اِسی نئی سوچ اور نئے سیاسی رجحان کے پیش نظر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے مابین بہتر ی کے آثار سامنے آئے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ نے ماضی کی غلطیوں اور تلخیوں کو بھلا کر میثاقِ جمہوریت کے نکات سے اتفاق رائے کرتے ہوئے پاکستان کی نئے نسلوں اور سول سوسائیٹی کو ایک بہتر مستقبل دینے کا فیصلہ کیا ۔ لہذا بیرون ملک اُبھرنے والی اِس نئی سوچ کے تحت دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے عوامی مینڈیٹ کو برداشت کرنے اور انتقامی ذہنیت سے پاک ایک ایسے جمہوری کلچر کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا جو نہ صرف ملک سے مستقبل کی سیاسی سازشوں کا قلع قمع کر دے بلکہ سیاسی گھٹن کے ماحول میں پاکستانی عوام کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا بھی ثابت ہو ۔ چنانچہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف نے لندن میں میثاقِ جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کر کے پاکستان میں ایک نئی جمہوری فکر کی تاریخ مرتب کرتے ہوئے مثبت سیاسی مفاہمت کی بنیاد رکھی ۔ اِسی جمہوری فکر نے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکمرانی کے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جرأت انکار اور وکلاء کی تحریک کو مہمیز دی جس کے باعث دونوں جِلاوطن سیاسی قوتوں کی ملک واپسی کا راستہ ہموار ہوا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی وطن واپسی ہوئی ۔ لیکن صد افسوس کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی بے وقت شہادت کے بعد جہاں پاکستان اپنی ایک بے مثال لیڈر ( محترمہ بے نظیر بھٹو ) سے محروم ہوا ۔ ملک میں اِس سیاسی خلا کو آصف علی زرداری نے پُر کیا لیکن اُن کے قومی سیاسی افق پر نمودار ہونے کے فوراً بعد عدلیہ کی عدم بحالی کے باعث عوامی سطح پر مایوسی کے جذبات پیدا ہوئے لیکن میاں نواز شریف کے لانگ مارچ نے صورتحال کو کسی حد تک بدل دیا جب صدر زرداری نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بلاآخر چیف جسٹس کو اُن کے اعلیٰ مقام پر بحال کر دیا ۔
اِسی طرح پنجاب میں شریف برادران کی حساس سیاسی پوزیشن کے نظرانداز کئے جانے پر اُنکے شدید سیاسی ردعمل کے سبب یہ فکری ورثہ مزید توڑ پھوڑ کی سیاست کا شکار ہوا۔ حقیقت یہی ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی اور صدر زرداری کی جانب سے اُنکی بحالی میں تاخیر کی وجہ سے ملک کی سیاسی صورتحال کشیدگی کا شکار ہوئی لیکن سپریم کورٹ کے اہم فیصلے کے باعث شریف برادران کی سیاسی نااہلی کو ختم کر دیا گیا۔ دریں اثنا پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی عدلیہ کے ایک متنازعہ فیصلے کے ذریعے برطرفی اور فہم و دانش سے خالی اقدام کے ذریعے پنجاب میں پارلیمنٹ کو نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا موقع دئیے بغیر گورنر راج کا فیصلہ بھی جمہوریت سے انحراف کے مترادف ہی سمجھا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ صوبہ پنجاب میں گورنر راج کے بعد صوبے کی انتظامی مشینری میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی لیکن وکلاء تحریک نے ، سول سوسائٹی اور عوام الناس کی قومی یکجہتی کو ممکن بناتے ہوئے، لانگ مارچ کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔



Weather Update

Click for Lahore, Pakistan Forecast