کھراب سسٹم کی کھراب نیکیاں۔۔۔۔(مستنصر حسین تارڑ)
ایک مرتبہ کسی انٹرویو کے دوران ایدھی بابا سے پوچھاگیا کہ جناب یہ جوصاحب حیثیت لوگ غریب لوگوں کیلئے دیگیںچڑھاتے ہیںاورانہیں اپنے ہاتھوںسے تقسیم کرتے ہیں یاکسی خاص دن خیرات تقسیم کرتے ہیں تواس کے بارے میں آپ کاکیاخیال ہے تو ایدھی صاحب نے اپنے مخصوص لہجے میںکہا’’یہ کھراب سسٹم کی کھراب نیکیاںہیں‘‘ یعنی اگر معاشرہ بے ایمان اوربے انصاف ہے ،مساوات پرقائم نہیںہے تو اس میں کی جانے والی نیکیاں بھی اسی کاایک پرتوہوںگی میںاس نوعیت کی کھراب نیکیاں اپنے آس پاس دیکھتارہتاہوں۔
مین بلیوارڈ کی ایک محل نماکوٹھی کے باہرہفتے کے ایک مخصوص دن لوگ صبح سے جمع ہونے لگتے ہیں،پریشان حال اوربے آسرا بھوکے لوگ ان کے بچے پھٹے ہوئے کپڑوں میںادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں کئی بار یہ لوگ سارا سارا دن اس کوٹھی کے باہر فٹ پاتھ پرکڑی دھوپ میں خیرات کے منتظر ہوتے ہیں اورپھر گیٹ کھلتاہے اورکچھ لوگ دیگیں اٹھائے چلے آرہے ہیں اورتب ایک بھگدڑ مچ جاتی ہے اورلمحوں میںدیگیں خالی ہوجاتی ہیں اورچھوٹے بچے سڑک پرگرجانے والے چاولوں کے دانے جمع کرنے لگتے ہیں۔ماڈل ٹاؤن کی ایک کوٹھی کے باہر بھی یہ سماں دیکھنے کوملتاہے شنیدہے کہ مخیر حضرات جوبے سہاروں کی مدد پریقین رکھتے ہیں تب تک اپنی کوٹھی سے باہر نہیں آتے جب تک مناسب ہجوم نہ جمع ہوجائے اورپھردیگرملازموں کے ہمراہ ان کاظہورہوتاہے اوروہ اپنے ہاتھوںسے غریبوں کوخیرات دیتے ہیںاس انداز سے کہ علاقے والے واضح طورپر دیکھ سکیں کہ وہ کتناثواب کاکام کررہے ہیں ان مخیر حضرات نے جس طور بے پناہ دولت سمیٹی ہے اس کے بارے میںبہت سی کہانیاں ہیں ایک زمانے میںمخیر حضرات اوروزیرصاحبان کاپسندیدہ مشغلہ بیواؤں میں سلائی مشینیں تقسیم کرتے ہوئے تصویریں اتروانا اورانہیں خصوصی درخواست پراخباروں میںشائع کرواناتھا ان تصاویر میں آپ مخیر حضرات کاپرتقدس چہرہ یاوزیرصاحب کاپرتکبر چہرہ اورچادر میںلپٹی ایک لاچار عورت کودیکھ سکتے تھے اورہاں وہ سلائی مشین جس نے اس بیوہ کی تقدیر بدل دینی تھی وہ بھی صاف نظر آتی تھی۔ ان دنوں سلائی کی مشین چونکہ بہت مہنگی ہوتی ہے اسے ترک کردیاگیاہے اوراس کی جگہ آٹے یاچاول کے تھیلے نے لے لی ہے آج ہی کے اخبار میں اپنے گورنر پنجاب کی ایک تصویر ہے جس میںوہ ایک مسحق خاتون کوآٹے کاایک تھیلا عطا کررہے ہیںاوراپنے سیاہ چشمے کے پیچھے مسکرارہے ہیں یہ ایک ’’مستحق‘‘ خاتون جانے گورنر ہاؤس کے اندر کیسے جاپہنچی کیونکہ تصویرمیںکسی اور’’مستحق‘‘ کادور دور تک کوئی نشان نہیںملتا۔
کراچی میںبیس ماؤں کو،بیس بہنوںاوربیس بیٹیوں کوغربت کی ذلت نے کچل کررکھ دیا بے شک ماہ رمضان برکتوں والامہینہ ہے اورصرف اس مہینے میں کی جانے والی نیکیوں کاثواب کئی گنا زیادہ ملتاہے اسی لیے ہم اپنی نیکیوں کواس مہینے کیلئے سنبھال کررکھتے ہیں یہ بیس عورتیں جوچاول کے ایک تھیلے کیلئے ماری گئیں یہ غریب یالاچار نہ تھیں دراصل ان کے حصے کی دولت غیرملکی بینکوں میں جمع کروادی گئی ہے تاکہ محفوظ رہے ورنہ ان عورتوں نے فضول خرچی کرکے اسے دنوں میںختم کردیناتھا صرف ان بیس کی نہیںبلکہ ان جیسی لاکھوں عورتوں کے حصے کی دولت بھی لندن، سوئٹزرلینڈ اور دبئی میں بالکل محفوظ ہے یہ بھی تو سوچئے کہ اگر اس ملک میںکوئی بھی اتنا غریب نہ ہوتا کہ آٹے کے ایک تھیلے کیلئے جان دے دیتا توپھرغریبوں کیلئے درد دل رکھنے والے مخیر حضرات کیسے ڈھیروں ثواب کماتے اوراپنی آخرت کوسنوارتے تویہ غریب لوگ بے حد ضروری ہوتے ہیں اوراگر یہ آٹے کے ایک تھیلے کیلئے مارے جائیںتو انہیں بھی بے حد ثواب ہوتاہے۔
کرشن چندر کے بارے میںاردو کے ایک انگریز نقاد کاکہناہے کہ وہ اکثرنہایت پھسپھسی اور بے روح کہانیاں لکھتے ہیں لیکن پھرایک ایسی کہانی لکھتے ہیں جوصرف ایک عظیم ادیب ہی لکھ سکتاہے بہت عرصہ پیشتر میں نے کرشن چندر کی ایک ایسی ہی کہانی پڑھی تھی اس کامرکزی خیال کچھ یوں تھا کہ بمبئی کاایک ہندو مارواڑی سیٹھ جب بے شمار دولت جمع کرلیتاہے تواسے خیال آتاہے کہ اب اسے اپنی آخرت کیلئے بھی کچھ کرناچاہیے اورغریبوں کی مدد کرنی چاہیے وہ اپنے منشی کوبلاکراس سے مشورہ کرتاہے کہ ایک تو مجھے یہ بتاؤ کہ یہ غریب کہاں ہوتے ہیںاورپھر یہ کہ اگر وہ مل جائیںتو ان کی مدد کیسے کروں۔انہیں کپڑے لے دوں، کھانا کھلاؤں یاپھرکیش رقم دان کردوں۔ منشی مشورہ دیتاہے کہ سیٹھ صاحب نقد رقم بہترہے وہ جوچاہے خریدلیں لیکن ایک مسئلہ ہے کہ اگر آپ اعلان کریںگے کہ میںغریبوں کی مدد کروںگا تو ساری دنیا غریب بن کرآجائے گی اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کیسے جان لیںگے کہ کوئی شخص سچ مچ غریب ہے یاغریب ہونے کی اداکاری کررہاہے اس کافیصلہ کیسے کریںگے سیٹھ صاحب شش وپنج میں پڑ جاتے ہیں اورمنشی سے کہتے ہیں کہ تم ہی کوئی ترکیب بتاؤ کہ صاف طے ہوجائے کہ یہ شخص دراصل غریب ہے منشی کچھ سوچ بچار کے بعد کہتاہے کہ سیٹھ صاحب ترکیب ذہن میں آگئی آپ اعلان کردیں کہ فلاں تاریخ کوآپ غریبوں کی مدد کریںگے لیکن ہرشخص کواپنے آپ کوغریب ثابت کرنے کیلئے دس جوتے کھانے پڑیںگے لیکن سب کے سامنے نہیںبلکہ الگ سے ایک کمرے میں تاکہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو سیٹھ صاحب کوتجویز پسند آجاتی ہے اوراس تاریخ کی منادی کروادی جاتی ہے جب سیٹھ صاحب ہرغریب کوالگ کمرے میں لے جاکرجوتے ماریںگے اورپھر نقد رقم پیش کریںگے اس تاریخ کوسیٹھ کے دفتر کے باہر غریبوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے ہیں پولیس کولاٹھی چارج کرناپڑتاہے سیٹھ صاحب کوغریبوں کوجوتے مارنے کیلئے عملہ بھرتی کرناپڑتاہے کیونکہ وہ تنہا یہ کارخیرانجام نہیںدے سکتے۔ جوتے اتنے ٹوٹتے ہیں کہ کم پڑ جاتے ہیں ایک بوڑھی عورت درخواست کرتی ہے کہ بیٹا میںبہت دن سے بھوکی ہوں ،زور سے جوتے نہ مارنا کئی لوگ صاف ستھرے کپڑوں میں آتے ہیں لیکن۔
قارئین کیا آپ کوکرشن چندر کی اس کہانی میںاپنے ہاں کے کوئی سیٹھ نظر آئے جوغریبوں کی مدد کرناچاہتے ہیں جوثواب حاصل کرناچاہتے ہیں البتہ ان کی مہربانی ہے کہ وہ غریبوں کوصرف ذلیل کرتے ہیں اگر دس بیس مرجائیںتو مرنے دیتے ہیں لیکن کتنے نرم دل ہیں کہ انہیںجوتے نہیںمارتے۔
کھراب سسٹم کی کھراب نیکیاں
