نائن الیون کی روحیں۔۔۔۔(نجم سیٹھی)
اس سال نائن الیون کی یاد میں منائی جانے والی تقریبات پاکستان، امریکہ ، افغانستان اور بھارت کے لئے کئی وجوہات سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ 8سال پہلے اس تباہ کن دن کے بعد پہلی مرتبہ پاکستانی فوج نے سوات میں طالبان کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا۔ اہم دہشت گردوں کو مارڈالا یا گرفتار کر لیااور اب وہ وزیرستان میں القاعدہ کے خلاف لڑنے کے لئے بھی تیار ہے ۔
یہ بڑی پیش رفت امریکہ کے افغانستان پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پاکستان کو لاحق اندرونی خطرات کی حقیقت کو نمایاں کرتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آخر کار پاکستانی حکومت ، اپوزیشن، فوج اور میڈیا کا اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا کہ یہ جنگ صرف امریکہ کی جنگ نہیں بلکہ پاکستان کی جنگ ہے ۔ اور ملک کو لاحق متوقع خطرات سے نمٹنے کے لئے جنگ اگرچہ اکیلی کافی نہ ہو مگرضروری ہو چکی ہے ۔
تیسرا یہ کہ آخر پاکستانی فوج نے عوام کی اس رائے کو تقریبا تسلیم کر لیا کہ اگرچہ بھارت مسلسل پاکستان کی سیکیورٹی کے لئے ایک خطرہ ضرور ہے لیکن وہ اب دشمن نہیں رہا۔ تاہم اب اس امن عمل کی طرف آگے بڑھنا ضروری ہے جس کا آغاز 1999ء میںنواز شریف نے کیا تھا اور بعدمیں جس کو جنرل مشرف نے بھی آگے بڑھایا تھا۔
چوتھی وجہ یہ ہے کہ اوبامہ کی زیر انتظامیہ حکومت نے تصادم کے حل کے لئے اس طریقہ کار کی ضرورت کو سمجھ لیا ہے جو نا صرف افغانستان میں موجود اہم کرداروں سے متعلق ہو بلکہ پاکستان اور بھارت اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان تصادم کے حل سے بھی متعلق ہو۔
اور یہ بات پاکستان کے اس موقف کی تائید کرتی ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام کے لئے ضروری یہ ہے کہ افغانستان کم از کم پاکستان کے ساتھ سیاسی دوستانہ مراسم رکھتا ہو ورنہ زیادہ سے زیادہ اسے پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے والاہونا چاہیے۔
پانچویں وجہ یہ ہے کہ امریکی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ افغانستان میں سرکشی روکنے کے لئے جس طرح فوجی آپریشن ضروری ہے اسی طرح کابل میں اختیارات کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے نئے سیاسی اقدامات اٹھانا بھی ضروری ہیں۔
اس مقابلے کو درست ثابت کرنے کے لئے اس سال صدارتی انتخابات کو استعمال کرنے کی حکمت عملی کو رد نہیں کیا گیا جیسا کہ صدر حامد کرزئی پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات سے ظاہر ہورہا ہے۔ اس طرح سے افغانستان میں استحکام کاحصول اور مشکل ہوجائے گااور تصادم کے حل کے لئے قابل عمل فارمولے کی تشکیل کے لئے طالبان عناصر کو متوجہ کرنے کے لئے پاکستان پر امریکہ کا انحصار بڑھ جائے گا۔
یہ طریقہ افغانستان میں آگے بڑھنے کے لئے زیادہ حقیقی ثابت ہوگا بنسبت پچھلے فوجی استعمال کے طریقہ کارکے جس کا انحصار صرف کرزئی پر تھا۔
چھٹی بات یہ ہے کہ افغانستان میں جنگ کے حق میں عوامی رائے کاسیلاب امریکہ میں دم توڑ چکا ہے ۔ یورپی عوام کی طرح امریکی لوگوں کی اکثریت بھی اپنے نوجوانوں کی واپسی کی طلبگارہے۔ اگلے سال کے کانگریسی انتخابات کے موقع پر اوبامہ انتظامیہ افغانستان میں ایک خاص حد تک کامیابی کے اظہار کاطریقہ تلاش کر رہی ہے ۔ یہ مقصد مکمل طورپر مستحکم پاکستان اور اسکے اسٹریٹجک مفادات کی مکمل حمایت کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے لئے اپنے جہادی اثاثوں کو طالبان اور القاعدہ سے الگ نہیں کرسکا۔ او ر ایسے ناپختہ عمل پر اسے پاکستانی طالبان کی صورت میں بڑی قیمت چکانی پڑی ۔ اس طرح امریکی بھی اپنے اس نظریے کو برقرار نہیں رکھ سکتے کہ افغان طالبان اور القاعدہ متحد ہیں اور یہ ہی ہمارے لئے اصل خطرہ ہیں۔ جبکہ پاکستانی طالبان اور پاکستانی جہادی گروہ پاکستان کادرد سر ہیں ا ن کا امریکہ کو ان سے کوئی سروکار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کو پاکستانی طالبان کی اذیت کو ختم کرنے کے لئے صرف اس وقت تک اکٹھے مل کر کام کرنا ہوگا جب تک انکے لئے افغان طالبان اور القاعدہ کے درمیان خلا پیدا کرنے کے لئے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کام کرنا ضروری ہے ۔ افغان طالبان اور القاعدہ کو علیحدہ کرنے کے لئے مستقبل میں اول الذکر کو حکومت میں حصہ دینا ہوگا اور موخرالذکر کا خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ مسئلے کا جڑ سے خاتمہ ہو جائے ۔
ساتویں وجہ یہ ہے کہ بھارت کو اس علاقے میں سیکیورٹی کے حصول میں اہم کردار ادا کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ اس کی بلوچستان اور افغانستان میں پاکستان کے ساتھ خفیہ مذاکرات قائم مقام جنگ جوکہ درحقیقت پاکستان کی کشمیرمیں دخل اندازی ختم کرنے کے لئے شروع کی گئی اب آہستہ آہستہ ختم ہونے جارہی ہے۔ اس لئے جتنا جلدی بھارت پاکستان کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کا آغاز کرے اتنا ہی اچھا ہے اور بھارت کی نئی کانگریسی حکومت کے لئے یہ بات مشکل نہ ہو نی چاہیے کیونکہ وہ پاکستان میں نئی سیاسی تقسیم کے ساتھ دیرپا امن کے قیام کیلئے اور اندرون وبیرون ملک انتہا پسندی کے خلاف اس کے ہاتھ مضبوط کرنے کی دوراندیشانہ سوچ رکھنے کے قابل ہے
اگر نائن الیون ہر کسی کے لئے بڑی مصیبت نہ بنا رہے تو اگلے 12مہینے بڑے اہمیت کے حامل ہیں ہر فریق کو لازمی طورپر سمجھوتہ کرنا ہوگا۔ امریکہ کو ایسے حالات پیدا کرنا ہونگے جس سے طالبان کی کابل کی نمائندگی واپس آجائے۔پاکستان کو یہ قبول کرنا پڑے گا کہ پاکستان کے پچھلے کچھ اثاثے اب اس کی ذمہ داریاں بن چکے ہیں جنہیں اسے ادا کرنا ہے۔ بھارت کو یہ قبول کرناہوگا کہ جیسا کروگے ویسابھروگے اور صفرفائدے کے حامل نمونے اب زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے اب اسے پاکستان کے ساتھ برادرانہ لو اور دو کی بنیاد پر مسائل حل کرنا ہیں۔ ورنہ نائن الیون کے وہ روحیں جنہیںسوئے ہوئے زیادہ دیرنہیں ہوئی پھرسے علاقے میں انارکی پھیلا دیں گے۔
اصولی طورپر نائن الیون کے بعد صدر مشرف کا بش کادایاں بازو بننے کافیصلہ درست تھا مگر دونوں ایک دوسرے سے کھیل کھیلتے رہے اور ایک دوسرے پر بھروسہ نہ کیا جس کے نتیجے میں تباہی پھیلی ۔یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان امریکہ کی نئی حکومتوں کودوبارہ اتحاد کرنا ہے اور زمینی حقائق کو دوبارہ درست اندازمیں سمجھنا ہے ۔ حامد کرزئی کا افغانستان اور ڈاکٹرمنموہن کا ہندوستان ان انتظامات میں جتنا جلد شامل ہوتے ہیں اتنا ہی بہترہے ۔
