سپرسپیڈ کارگو منصوبہ، دبئی سے سعودی عرب تک 45 منٹ میں مسافروں اور سامان کو پہنچایا جاسکے گا

دبئی: دبئی بین الاقوامی بندرگاہ کمپنی نے اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس نے ’ورجن ہائیپر لوپ ون‘ کمپنی کے تعاون سے دنیا کا تیز ترین کارگو ٹرین سسٹم تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد دبئی سے سعودی عرب تک 45 منٹ میں مسافروں اور سامان کو پہنچایا جاسکے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر کم سے کم 10 ارب ڈالرخرچ ہوں گے اور اس پر سرمایہ کاری کے لیے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بھارت کے شامل ہونے کے امکانات ہیں۔

دبئی بین الاقوامی بندرگاہ کونسل کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر سلطان احمد بن سلیم کا کہنا ہے کہ ہائپرلوپ ون کمپنی کے ساتھ ایک باضابطہ تقریب میں سپر سپیڈ ٹرین منصوبے پر اتفاق کیا گیا۔ اس معاہدے کو برطانوی ارب پتہ رچرڈ پرانسن کا تعاون حاصل ہے جو ہائیپر لوپ کے سب سے بڑے سرمایہ کار قرار دیے جاتے ہیں۔

دبئی میں ہونے والی اس تقریب میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور حاکم دبئی الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے بھی شرکت کی۔
دونوں کمپنیوں نے ہائپر لوپ کے نام کو ’بین الاقوامی بندرگاہ کارگو سپیڈ‘ کا نام دینے سے اتفاق بھی کیا۔

مسٹر سلیم کا کہنا تھا کہ ہم ٹرانسپورٹ کی دنیا میں ایک نیا انقلاب لانا چاہتےہیں۔ سامان کی ترسیل کی تیز ترین کارگو سروس کی تکمیل کے بعد سعودی عرب سے دبئی کے درمیان سامان کی تریل 14 گھنتے سے کم ہو کر پونے گھنٹے یا ایک گھنٹے تک آجائے گی۔

خیال رہے کہ بین الاقوامی دبئی کمپنی کے 40 ممالک میں 78 اسٹیشن ہیں۔ یہ کمپنی سالانہ 80 مال بردار بحری جہازوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
درایں اثناء ورجن ہائپرلوپ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو روپ لویڈ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طورپر تجرباتی کارگو ٹرین سروس 10 سے 15 کلو میٹر تک چلائی جائے گی۔ اس کے بعد منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے کام آگے بڑھایا جائے گا۔ لویڈ کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ منصوبہ بھارت اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ہے مگر اسے امریکا اور کینیڈا تک توسیع دی جاسکتی ہے۔

’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے مسٹر لویڈ کا کہنا تھا کہ سنہ مجھے یقین ہے کہ رواں سال کے آخر تک ہمارے پاس حکومت کی فنڈ سے تین منصوبے شروع کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ ان میں سے دو سنہ 2019ء اور ایک 2020ء میں شروع کیا جائےگا۔

Comments
Loading...