Official Web

سپریم کورٹ کا وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو اصغرخان کیس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اصغرخان کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سماعت کی، اس موقع پر اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اصغر خان کیس میں فیصلہ دے چکی ہے، نظرثانی کی درخواستیں خارج کی جا چکی ہیں اور اب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہونا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘کیا یہ معاملہ ایف آئی اے میں جانا ہے یا نیب میں، وفاقی حکومت نے آج تک فیصلے کے بعد کوئی ایکشن نہیں لیا، صرف ایف آئی اے نے تحقیقات کی لیکن ایک جگہ پر یہ تحقیقات رک گئی’۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل ہونا چاہیے، یہ نہیں معلوم آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجداری ٹرائل ایف آئی اے کی تحقیقات کے بعد ہوگا جب کہ اصغر خان مرحوم کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اسد درانی اور اسلم بیگ کے خلاف ایکشن اور دیگر کے خلاف تحقیقات ہوں گی۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں سابق فوجی کے خلاف کارروائی کی شق نہ ہو تو اقدامات کے تحت کارروائی ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کا فیصلہ حکومت نے کیا، ہم اصغر خان کیس عملدرآمد کا معاملہ حکومت پر چھوڑتے ہیں، وفاقی حکومت اور ایف آئی اے اصغر خان فیصلے کی روشنی میں ایکشن لے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وفاقی حکومت اصغر خان کیس پر عملدرآمد کرے اور اس کے لیے کابینہ کا اجلاس طلب کر کے اصغر خان کیس پیش کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت فیصلہ کرے کہ ان کے خلاف کیا کارروائی کرنی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ 2 ہفتے کا وقت دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ہفتے کا وقت ملے گا، کابینہ کا خصوصی اجلاس بلالیں۔

اصغر خان کیس کیا ہے ؟

1990 میں اسلامی اتحاد کی تشکیل اور انتخابات میں دھاندلی کے لیے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق ایئر فورس کے سابق سربراہ اصغر خان مرحوم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 2012 میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم اور 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ داری مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درنی پر عائد کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا۔

مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی نظرثانی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے عدالت مسترد کرچکی ہے۔

Comments
Loading...