موجودہ صورتحال میں افغان طالبان سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے افغانستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دہشت گرد حملوں کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس صورتحال میں طالبان سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے حوالے سے امریکا کی پالیسی کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ ہم اس وقت مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہم طالبان سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے، وہ دائیں بائیں ہر جگہ بے گناہ لوگوں کو قتل کررہے ہیں‘‘۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’’ہوسکتا ہے مذاکرات کا وقت آجائے لیکن وہ وقت بہت دور ہے‘‘۔

خیال رہے کہ افغانستان میں گزشتہ 10 روز کے دوران متعدد بڑے حملے ہوئے ہیں۔

21 جنوری کو کابل میں واقع انٹر کانٹیننٹل ہوٹل میں حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 11 غیر ملکیوں سمیت 22 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

24 جنوری کو افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں غیر ملکی این جی او ‘سیو دی چلڈرن’ کے دفتر پر دہشت گردوں کے حملے میں 3 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

27 جنوری کو کابل میں وزارت داخلہ کی پرانی عمارت کے باہرایمبولینس کے ذریعے خود کش دھماکا کیا گیا جس کے نتیجے میں 95 افراد ہلاک اور 158 زخمی ہوئے۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم طالبان نے قبول کی تھی۔

29 جنوری کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقع ملٹری اکیڈمی مارشل فہیم نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے قریب آرمی پوسٹ پر حملے کے نتیجے میں 11 اہلکار ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے۔

حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

Comments
Loading...