امریکہ سرد جنگ کی ذہنیت کو ترک کرے: چین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے پہلے سٹیٹ آف یونین خطاب میں چین کو امریکی اقدار کے لیے خطرات کی فہرست میں شامل کرنے پر چین نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ سرد جنگ کی ذہنیت کو ترک کر دے۔

حالیہ دنوں میں امریکی حکام نے ایسی دفاعی حکمت عملی کی بنیادیں رکھنا شروع کر دی ہیں جن میں روس اور چین جیسی طاقتوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف پیش بندی کرنا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو امریکی کانگریس میں اپنے’سٹیٹ آف یونین’ خطاب میں کہا کہ چین اور روس ‘ہمارے مفادات، ہماری معیشت اور ہماری اقدار کے لیے’ ایک چیلنج بن گئے ہیں۔

چین کی طرف سے چین کے وزیر اعظم لی کی یانگ نے اپنے رد عمل میں کہا کہ چین اور امریکہ کے باہمی مفادات دونوں ملکوں کے باہمی اختلافات سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔

چینی وزیر اعظم نے برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے سے ملاقات میں کہا کہ انھوں نے کہا کہ امریکہ اور چین کے مستحکم تعلقات پوری دنیا کے مفاد میں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ چین کو امید ہے کہ امریکہ چین سے اپنے تعلقات کو مثبت انداز میں دیکھے گا اور ان تعلقات کو برقرار رکھے گا۔

چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہو چی انگ کی طرف سے زیادہ سخت رد عمل سامنے آئے ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سرد جنگ کی دقیانوسی ذہینت کو ترک کر کے امریکہ کو چین کے ساتھ مشترکہ اہداف حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے جس میں اپنے اختلافات کو ایک حد میں رکھنا اور دونوں ملکوں کی ترقی کے لیے کام کرنا شامل ہے۔

Comments
Loading...