آرٹیکل 62 ون ایف کیس: فراڈ کرنیوالوں پر تاحیات پابندی ہونی چاہیے: چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق درخواستوں پر سماعت، نوازشریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ عدالت میں پیش ہوئے، وکیل نواز شریف نے کیس کی تیاری کے لیے تین دن کی مہلت مانگی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

وکیل نواز شریف نے کہا عام لوگ بھی اس کاروائی کا حصہ بننا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پبلک نوٹس ان لوگوں کے لیے تھا جو متاثرہ ہیں، متاثرہ لوگ اپنے لیے ایک مشترکہ وکیل کر لیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے مقدمے میں مدت کا تعین کرنا چاہتے ہیِں۔ وکیل نواز شریف نے کہا عدالت کے پبلک نوٹس میں ابہام ہے جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا پبلک نوٹس میں غلطی ہو گئی ہو گی، پبلک نوٹس صرف متاثرین کے لیے ہے۔

عدالتی معاون منیر اے ملک نے دلائل میں کہا آرٹیکل 62 اور63 کو ملا کر پڑھنے کی ضرورت ہے، 18ویں ترمیم میں پارلیمنٹ کی تاحیات نااہلی کی بھول بھلیوں سے نکلنے کی نیت واضح ہے۔ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن نے قرار دیا کہ جب تک نا اہلی کا ڈیکلریشن موجود ہے اس کے اثرات رہیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا ایک کیس میں فیصلہ آ چکا ہے کہ ڈیکلریشن کو ختم کرنے کیلئے ڈیکلریشن نہیں دیا جا سکتا۔

فاضل بنچ نے استفسارات کئے کہ اگر عدالت کسی کو ذہنی معذور یا غداری کا مرتکب قرار دے تو کیا نااہلی مستقل نہیں ہو گی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ پارلیمینٹیرنز کے لیے ایمانداری بہت ضروری ہے، ہم قوم کے لیڈر، ممکنہ وزیراعظم اور وزیر کی بات کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا ایماندار آرٹیکل 62 کا بنیادی جزو ہے، بے ایمانی کا مطلب چیٹنگ اور فراڈ ہے، ایسا کرنے والوں پر تاحیات پابندی ہونی چاہیے۔ کیس کی مزید سماعت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔

Comments
Loading...