صبا قمر کا خود پر تنقید کرنیوالوں کو کرارا جواب

راچی: پاکستانی اداکارہ صبا قمر نے ڈراما سیریل ’’باغی‘‘ اور خود پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دے دیا۔

پاکستانی سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کی زندگی پر مبنی ڈراما’’باغی‘‘ اپنی پہلی قسط سے شائقین کی توجہ کامرکز بناہوا تھا، لوگ نا صرف ڈراما سیریل دیکھ رہے تھے بلکہ ڈرامے کے ذریعے قندیل کے زندگی کے مختف پہلوؤں پر بات بھی کررہے تھے جب کہ ڈرامے میں قندیل بلوچ کا مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ صبا قمر کی اداکاری کو بھی بے حد سراہا جارہا تھا، لیکن جہاں ڈرامے نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑے وہیں پچھلے کچھ عرصے سے ڈراما شدید تنقید کی زد میں بھی رہا۔

ڈرامے کے حوالے سے کئی باتیں گردش کررہی ہیں جن کے مطابق ڈرامے میں قندیل کی کہانی کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے جب کہ ڈراما بنانے سے قبل قندیل کے گھر والوں سے اجازت نہیں لی گئی، اس کے علاوہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ قندیل کے گھر والوں کو ڈرامے سے حاصل ہونے والی آمدنی اور منافع سے حصہ بھی نہیں دیا گیا۔

 

ان تمام افواہوں کے پیش نظر گزشتہ روز ڈرامے کی مرکزی اداکارہ صبا قمر نے انسٹاگرام پر وضاحت کی ہے کہ ’’سب سے پہلے تو میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جو ڈرامے کی کامیابی میں ہمارے ساتھ تھے۔ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پرڈرامے کے حوالے سے غلط افواہیں گردش کررہی ہیں، ان افواہوں کے بارے میں میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ڈرامے میں قندیل کی زندگی کے کچھ پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہےاور ڈراما بنانے سے قبل ہم نے قندیل بلوچ کے والدین سے باقاعدہ اجازت لی تھی اور یہ اجازت ’’اردو‘‘میں لی گئی تھی جسے سب باآسانی سمجھ سکتے ہیں۔

 

اس معاہدے پر ان لوگوں نے اپنے دستخط کیے تھےاس کے علاوہ ان لوگوں نے ہم سے اس کہانی کے بدلے ایک پرکشش رقم کا مطالبہ کیا جسے دینے پر ہم راضی ہوگئے۔ لیکن اب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کو سن کر میں سکتے میں رہ گئی، زیرگردش تمام افواہیں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔ صبا قمر نے جھوٹی خبریں شائع کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر لوگ الزامات لگانے سے پہلے تمام حقائق دیکھ لیتے تو اچھا ہوتا۔ ہم جانتے ہیں یہ ایک حساس موضوع ہے لیکن ہم نے اسے ذمہ داری کے ساتھ بہتر انداز میں پیش کیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ڈراماسیریل ’’باغی‘‘کو  غیر معمولی مقبولیت کے پیش نظر لکس اسٹائل ایوارڈز میں 5 نامزدگیاں ملی ہیں۔ جب کہ گزشتہ رات ڈرامے کی آخری قسط پیش کی گئی تھی۔

Comments
Loading...