پاناما لیکس سامنے لانے والی فرم موسیک فونسیکا 75 فیصد کلائنٹس سے لاعلم تھی

3 اپریل 2016 کو دنیا بھر میں پاناما لیکس کے نام سے تہلکہ مچانے والی لاء فرم موزیک فونسیکا سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ اپنے 75 فیصد کلائنٹس سے لاعلم تھی اور کلائنٹس کی شناخت کے لیے اس کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔

پاناما کی قانونی فرم موزیک فونسیکا نے 12 لاکھ  نئی دستاویزات جاری کی ہیں جس میں انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی پاناما میں آف شور کمپنیوں کے 75 فیصد اصل مالکان سے متعلق لاعلم تھی جب کہ برٹش ورجن آئرلینڈ کی 72 فیصد آف شور کمپنیوں کے اصل مالکان سے متعلق بھی موزیک فونسیکا کو کوئی علم نہیں تھا۔

جرمن اخبار سوڈیچ زیتونگ نے پاناما لیکس کمپنی کی جاری کردہ دستاویزات حاصل کرنے کے بعد امریکی تنظیم انٹرنیشنل کنزورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹ ( آئی سی آئی جے) کے ساتھ اس کا تبادلہ کیا۔

دستاویزات کے مطابق موزیک فونسیکا نے 3 مارچ 2016 کو جاری کردہ دستاویزات کے بعد آف شور کمپنیوں کے اصل مالکان کی شناخت کے لیے ان کے موکلوں سے رابطے شروع کیے۔

کمپنی نے اس دوران لیک ہونے والی اپنے موکلوں کی ایک کروڑ سے زائد فائلیں دیکھیں اور ایک کروڑ 20 لاکھ فائلیں 2016 سے دسمبر 2017 کے عرصے پر محیط ہیں۔

عالمی سطح پر جانچ پڑتال کے بعد موزیک فانسیکا نے حکمت عملی میں 2 بڑی تبدیلیاں کیں اور اپنے موکلوں سے تعلق کو چھپانے کے لیے اپنا کاروباری نام بدل کر ساموا میں سینٹرل کارپوریٹ سروسز کا نام اختیار کیا۔

موزیک نے پاناما میں اپنے موکلوں کو آربس لیگل سروسز کمپنی میں منتقل کیا اور فونسیکا نے آف شور کمپنی مالکان سے پاسپورٹ کاپی، گیس بل اور ریفرنس لیٹر بھی اچانک مانگنا شروع کر دیے۔

جن افراد کو موزیک فونسیکا نے نوٹس بھیجے ان میں بالی وڈ نگری کے بے تاج بادشاہ امیتابھ بچن، جہانگیر سراب جی، شوکھیمکا، کے پی سنگھ، جیولر نوین مہرا اور حاجرہ اقبال میمن شامل ہیں۔

فونسیکا نے امیتابھ کو بطور ڈائریکٹر لیڈی شپنگ اور ٹریژر شپنگ 90 روز کا نوٹس بھیجا جس میں انہیں کہا گیا کہ آپ کی سی بلک شپنگ نے تقاضے پورے نہیں کیے جب کہ نئی دستاویزات سامنے آنے کے بعد امیتابھ بچن نے بھارتی میڈیا کے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔

یاد رہے کہ 3 اپریل 2016 کو پاناما پیپرز سامنے آتے ہی موزیک فونسیکا پر پریشان موکلوں کی ای میلز کا تانتا بندھ گیا تھا اور پریشان موکل جاننا چاہتے تھے کہ بینیفیشل اونر شپ سے متعلق کہیں حساس معلومات تو افشا نہیں ہوگئیں۔

سوئس منیجر نے موزیک فونسیکا کو ای میل میں کہا کہ 11 لاکھ 60 ہزار دیگر دستاویز کی طرح یہ دستاویز بھی شاید سامنے آجائے لیکن انہیں کوئی پرواہ نہیں، ای میلز بھیج کر تم قائل کرنے کی کوشش کررہے ہو کہ صورتحال پر قابو پالو گے۔

لکسمبرگ سے موزیک فونسیکا کو موصول ہونے والی ای میل میں کہا گیا کہ پاناما پیپرز کی وجہ سے میرے موکل کو کینیڈا میں مشکلات کا سامنا ہے اس لیے پتہ فوراً تبدیل کیا جائے جب کہ فرانسیسی مشیر نے موزیک فونسیکا کو ای میل میں لکھا کہ میرا نام اپنی تمام فائلوں سے ڈیلیٹ کر دو۔

کئی بھارتی شخصیات کے نام نئی دستاویزات میں شامل

دو سال قبل پاناما دستاویز نے 500 سے زائد بھارتیوں کے اثاثے ظاہر کیے تھے اور ایک مرتبہ پھر پاناما دستاویز میں کئی بھارتی شخصیات کے خفیہ مالیاتی معاملات سامنے آئے ہیں اور دستاویز منظر عام پر آنے کے بعد کئی بھارتی سرمایہ کاروں نے موزیک فانسیکا کو کمپنی بند کرنے کی درخواست کی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 12 لاکھ نئی دستاویز میں سے کم سے کم 12 ہزار پیپرز بھارتیوں سے متعلق ہیں جس میں پی وی آر سینما گھروں کے مالک اجے بجلی، ہائیک میسینجر کے سی ای او بھارتی متتل اور بیٹے سنیل کے علاوہ دیگر نام شامل ہیں۔

لیونل میسی، قازقستان کے صدر کی بیٹی سمیت دیگر آف شور کمپنیاں بنانے والوں میں شامل 

مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ارجنٹائن کے اسٹار فٹبالر لیونل میسی کی بھی آف شور کمپنی سامنے آئی ہے جو پاناما میں میگا اسٹا انٹرپرائز کے نام سے ہے جب کہ میسی اور ان کے والد پر بلیز اور یوروگوائے میں آف شور کمپنیاں کھولنے کا الزام بھی ہے۔

مغربی میڈیا کے مطابق قازقستان کے صدر نور سلطان کی بیٹی بھی برٹش ورجن آئی لینڈز میں داریگا سینیٹ کمپنی کی سربراہ ہیں جو نائب وزیراعظم بھی رہ چکی ہیں۔

مستعفی روسی سینیٹر وتالے مالکین 2 برٹش ورجن آئی لینڈز کمپنیوں کے مالک ہیں اور ان کی ایک آفشور کمپنی کے سوئس اکاونٹ میں 2 سو ملین ڈالر جمع ہیں۔ اسی طرح ارجنٹینا کے صدر ماوریسیوماکری کے اہل خانہ کی بھی آفشور کمپنی ہے جو بہاماس میں آفشور کمپنی کو کنٹرول کرتے ہیں۔

مغربی میڈیا کے مطابق کویت کےسوشل سیکیورٹی کےسابق سربراہ فہدالرجان کی بھی آفشورکمپنی ہے،الرجان ٹاؤنی رئیل اسٹیٹ کے مالک ہیں جس کا سوئس اکاؤنٹ اور مکاؤ میں اپارٹمنٹ بھی ہے اور ان پر 47 ارب 40 کروڑ روپے غبن میں فرد جرم بھی عائد کی جاچکی ہے۔

Comments
Loading...