پاکستان گڈ اور بیڈ طالبان میں کوئی فرق نہیں رکھتا: ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر نفیس ذکریا کا کہنا ہےکہ پاکستان گڈ اور بیڈ طالبان میں کوئی فرق نہیں رکھتا۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے پاک افغان امور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں مفاہمت اور امن کے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے، افغان قیادت کو طے کرنا ہے کہ وہ کسی عمل کے تحت قیام امن چاہتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی کہ دہشت گرد ملا فضل اللہ افغانستان میں مارا گیا ہے، ملا فضل اللہ اے پی ایس کےبچوں سمیت کئی پاکستانیوں کے قتل کا ذمہ دار ہے۔

ترجمان کا کہنا تھاکہ پاکستان گڈ طالبان اور بیڈ طالبان میں کوئی فرق نہیں رکھتا، پاکستان تحریک طالبان پاکستان کو نشانہ بنائے گا۔

نفیس ذکریا نے پاکستان اور بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 6 ماہ میں 291 بھارتی قیدیوں کو آزاد کیا ہے اور عید پر سیز فائر معاہدے کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کی کشمیر سے متعلق رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل کمیشن کے قیام کی تجویز کا بھی خیر مقدم کرتا ہے، بھارت کی جانب سے رپورٹ کو مسترد کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بھارت حقائق چھپا نہیں سکتا، بھارت اگر کچھ چھپانا نہیں چاہتا تو کمیشن کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے دے، پاکستان کمیشن آف انکوائری کو آزاد کشمیرکےدورےکی دعوت دیتا ہے۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھاکہ بھارت اس سے پہلےکلبھوشن کےمعاملے پر بھی بھاگ چکا ہے، پاکستان نے کلبھوشن سے متعلق سامنے رکھنے کا کہا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت سے کشمیری صحافی شجاعت بخاری کے قتل کی آزادنہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شجاعت بخاری کا بہیمانہ قتل بھارتی فوج کےظلم کاعکاس ہے، کشمیر میں صحافیوں کو بھی تحفظ حاصل نہیں، بھارت نےشجاعت بخاری کے قتل کا سیاسی استعمال کرنےکی کوشش کی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ ایف اے ٹی ایف پر امریکا سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہیں اور پاکستانی وزارت خزانہ اس حوالے سے اقدامات کر رہی ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی سےمتعلق نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہیوسٹن میں قونصل جنرل نے 23 مئی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کی، انہوں نے متعلقہ امریکی حکام سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے بدسلوکی کا معاملہ اٹھایا ہے۔

ترجمان نے سابق پاکستانی سفیر جمشید مارکر اور ممتاز مزاح نگار مشتاق احمدیوسفی کے انتقال پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔

Comments
Loading...