ملک میں کھیلوں کا معیار گرنے پر اظہار تشویش

اسلام آباد / لاہور: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ملک میں کھیلوں کا معیار گرنے پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔

سینیٹ کی خصوصی کمیٹی میں کھیلوں کا معیار گرنے پر اراکین نے گہری تشویش کا اظہارکیا ہے، سینیٹر میاں عتیق نے کہا کہ  18ویں ترمیم کے بعد کھیل زوال آمادہ ہوئے، سینیٹر کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ کھیلوں کو تعلیمی اداروں میں واپس بحال کرایا جائے۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ فیفا کسی کی ذاتی جائیداد یا جاگیر نہیں، معاملات حل کرنے کے لیے دونوں گروپس کو باہر کیا جائے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ فٹبال کا کوئی ٹورنامنٹ منعقد نہیں کرایا جارہا ہے۔ ایچ ای سی کے ذریعے انٹرکالجیٹ مقابلے شروع کرائے جائیں۔

خیبر پختونخوا کے حکام نے آگاہ کیا کہ ارباب کرکٹ اسٹیڈیم پشاور کے لیے 1ارب 40کروڑ روپے کا بجٹ منظور ہوگیا ہے۔ یونین کونسل سطح پر کھیلوں کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

آزاد کشمیر کے حکام نے بتایا کہ روس میں منعقدہ مقابلوں میں فٹبال ٹیم نے بھارت کو شکست دی۔ بلوچستان حکام نے بتایا کہ کھیل کی سہولیات کم ہیں۔ سندھ کے حکام نے بتایا کہ کھیلوں کا بجٹ 20کروڑ کردیا گیا ہے۔ این ای ڈی یوتھ ہاسٹل کے استعمال اور کھیلوں کے مقابلوں کے لیے اسلام آباد سے اجازت لینی پڑتی ہے۔

فاٹا حکام نے بتایا کہ 125خالی اسامیوں پر بھرتی کی اجازت کے لیے معاملہ وفاقی وزارت خزانہ میں زیر التوا ہے۔ پنجاب کے حکام نے بتایا کہ پنجاب اسپورٹس بورڈ اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس دو الگ الگ شعبے ہیں۔ پنجاب کا سپورٹس بجٹ 8ارب روپے ہے، ضلعی و صوبائی 72ویں گیمز اپریل میں شروع ہونگی۔

ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس نے کہا کہ بجٹ کم ہے یہ بجٹ پنجاب اسپورٹس بورڈ کے برابر کیا جائے۔ اجلاس میں سینیٹرز آغا شاہزیب درانی، کلثوم پروین کے ساتھ سیکریٹری وزارت پاکستان اسپورٹس بورڈ، ایڈمنسٹریٹر فٹبال فیڈریشن اور چاروں صوبوں فاٹا، آزاد کشمیر کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

Comments
Loading...