نیب نے چوہدری نثار کے مدمقابل ن لیگی امیدوار کو گرفتار کر لیا

نیب نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 59 سے چوہدری نثار کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار انجینئر قمر الاسلام کو گرفتار کر لیا۔

مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے انجینیئر قمر الاسلام کبھی چوہدری نثار کے دیرینہ رفیق ہوا کرتے تھے لیکن اس بار پارٹی نے انہیں چوہدری نثار ہی کے مدقابل امیدوار کھڑا کیا ہے۔

قمر الاسلام نے 2013 کے عام انتخابات میں بطور ایم پی اے پورے پاکستان میں سب سے زیادہ 41000 کی برتری حاصل کی تھی۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ہی نیب حرکت میں آ گئی اور انجینیئر قمر الاسلام کو گرفتار کر لیا۔

نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق ایم پی اے انجینیئر قمر الاسلام کو صاف پانی اسکیم میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

نیب حکام کا کہنا ہے کہ قمرالاسلام کو صاف پانی سے متعلقہ کمپنیوں کے اسکینڈل کے حوالے سے پہلے سے جاری تفتیش میں گرفتار کیا گیا ہے۔

انجینئر قمر الاسلام گزشتہ روز منکیالہ کے جلسے میں اپنے مدمقابل چوہدری نثار علی خان پر خوب گرجے تھے۔

انہوں نے چوہدری نثار علی خان کی آزاد حیثیت کو بے وفائی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا تھا کہ چوہدری صاحب ہمیشہ مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا لندن میں اس حوالے سے کہنا تھا کہ انجینئر قمرالاسلام کی گرفتاری کی خبر انتہائی افسوسناک ہے اور اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

دوسری جانب چوہدری نثار نے بھی اپنے بیان میں نیب کی جانب سے انجینیئر قمرالاسلام کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

چوہدری نثار کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ایک امیدوار کو گرفتار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نیب کے اقدام سے الیکشن متنازع ہو سکتا ہے۔

Comments
Loading...