جمہوریت کو کبھی پٹڑی سے اُترنے نہیں دیں گے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار  کا کہنا ہے کہ عدلیہ آزاد ہے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ جمہوریت کو کبھی پٹڑی سے اُترنے نہیں دیا جائے گا۔

عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ‘بھول جائیں کہ یہاں کوئی سازش ہورہی ہے، آئین کی حفاظت ہماری ذمےداری ہے، انشاء اللہ اس سے پہلو تہی نہیں کریں گے اور عدلیہ کی عزت و تکریم کے لیے کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے’۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا، ‘کہا گیا کہ ہم نےوفاقی حکومت کو مفلوج کردیا لیکن وفاقی حکومت کی وجہ سے یہ نہیں پتہ ہم کتنےمفلوج ہوئے ہیں’۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ‘ملک میں عظیم لیڈر اور عظیم منصف آجائیں تو ملک کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا’۔

 ‘مجھے ٹارگٹ دل اور جذبے سے چاہئیں’

اجلاس کے دوران ججز کو مخاطب کرکے چیف جسٹس نے کہا کہ ‘انصاف دینے کے لیے کسی چیز کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، مجھے ٹارگٹ دل اور جذبے سے چاہئیں’۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قیامت کے دن ایک عادل قاضی کو اللہ کی رحمت کی چھاؤں نصیب ہوگی، یہ بڑا جید کام ہے، لہٰذا اپنی ذمے داریاں نوکری سمجھ کر نہیں فرض سمجھ کر ادا کریں۔

‘صرف ایک سال قوم کو دے دیں’

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میرے پاس کیسز آرہے ہیں جس میں ایک ایک سال بعد فیصلے لکھے گئے، میں تھک گیا ہوں کہہ کہہ کر ایک مہینے میں فیصلہ دیں۔

ساتھ ہی ججز کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا، ‘ایک سال کے لیے آپ اپنا وقت قوم کو تحفے میں دے دیں اور ایک سال بعد دیکھیے گا کہ کیا تبدیلی آئی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بڑے بڑے مگرمچھوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے، خدا کے واسطے انصاف کی فراہمی کے لیے جو کرسکتے ہیں کر گزریں، اگر عدلیہ نے کارکردگی نہ دکھائی تو ریاست لڑکھڑا جائے گی’۔

‘کل کیا قانون آئے گا ہمیں اس کا انتظار نہیں کرنا’

چیف جسٹس نے کہا کہ ‘آئین کے تحت پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اور آئین سازی پارلیمنٹ نے کرنی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کل کیا قانون آئے گا ہمیں اس کا انتظار نہیں کرنا، ہمیں موجودہ حالات اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے’۔

اجلاس سے خطاب میں چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ‘اس ملک میں عدلیہ سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے سرکاری اہلکار ہیں لیکن کیا ہم اس کا حق ادا کر رہے ہیں’۔

جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ ‘احتساب عدالت اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کے ججز بہت اہمیت کے حامل ہیں اور انسداد دہشت گردی عدالتوں کے لیے تگڑے بندے چاہئیں’

یاد رہے کہ 13 جنوری کو چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے مقدمات میں تاخیر کی چھان پھٹک اور زیر التوا مقدمات کی بڑھتی تعداد سے نمٹنے کے لیے پوری عدلیہ کو نئے رہنما پالیسی خطوط جاری کیے تھے۔

نئی گائیڈ لائنز میں یہ ہدایات بھی شامل ہیں کہ احکام امتناع، کرایہ اور وراثت سے متعلق مقدمات کا فیصلہ 6 ماہ میں ہوجانا چاہیے، ضلعی عدلیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ دلائل سننے کے بعد 30 دن میں فیصلہ دے جبکہ ہائی کورٹس میں فیصلہ 3 ماہ سے زائد عرصے کے لیے محفوظ نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری جانب محفوظ فیصلے بھی جلد سنانے کا ٹائم فریم مقرر کردیا گیا ہے۔

Comments
Loading...