قانون اجازت دے تو زینب کے قاتل کو چوک میں لٹکایا جائے، شہباز شریف

قصور: وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچیوں کے نام اسکول منسوب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زیادتی کا شکار بچیوں کے والدین سے نظریں نہیں ملا سکتے۔

دورہ قصور کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ‘اگر قانون اجازت دے تو 7 سالہ زینب سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم کو لاہور یا قصور کے کسی چوک پر لٹکا کر پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ پوری دنیا اسے دیکھے’۔

شہباز شریف نے کہا کہ زینب کی طرح عاصمہ بھی قوم کی بیٹی ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے متاثرین کو کہا ہے کہ جس کسی ذمے دار نے کوتاہی کی ہے تو وہ ان کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی میں جاکر بتائیں۔

ساتھ ہی انہوں نے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کروائی۔

اس موقع پر انہوں نے صوبہ پنجاب میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ پنجاب فارنزک لیب جنوبی ایشیا کی بہترین لیب ہے جہاں اسکاٹ لینڈ تک سے نمونے بھجوائے گئے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ صوبے کے 5 اضلاع میں سی ٹی اسکین مشینیں لگائی جارہی ہیں،کمپنیاں خود مشین لگائیں گی اور چلائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (ڈی ایچ کیو) اسپتالوں میں 700 الٹراساؤنڈ مشینیں جبکہ 200 رورل ہیلتھ سینٹرز میں الٹراساؤنڈ مشینیں لگائی جائیں گی جب کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں 54 موبائل اسپتال بھی کھولے جائیں گے۔

اس موقع پر انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ‘قوم نے موقع دیا تو ملک کی لوٹی ہوئی دولت دنیا کے آخری کونے سے واپس لائیں گے، پھر زرداری کو کہیں جگہ نہیں ملے گی’۔

شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کاش عمران خان نے ساڑھے 4 سال دھرنوں اور لاک ڈاؤن میں ضائع نہ کیے ہوتے اور اگر انہوں نے خیبرپختونخوا میں کام کیا ہوتا تو انہیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) وہ واحد جماعت ہے، جس نے اس ملک کی صحیح معنوں میں خدمت کی ہے۔

Comments
Loading...