مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک اور نوجوان شہید

سری نگر: قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے کشمیری نوجوان نے 15 دن بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مقامی اسپتال میں دم توڑ دیا۔

کشمیری میڈیا سیل کے مطابق 25 جون کو بھارتی فوج کی بربریت کا نشانہ بنانے والے گیارہویں کلاس کے طالب علم عبید منظور لون نے مقامی اسپتال میں 15 دن تک موت و زیست کی جنگ لڑنے کے بعد جام شہادت نوش کرلیا۔ طالب علم کو انڈین بارڈر فورس نے اس وقت گولی کا نشانہ بنایا تھا جب وہ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ہمراہ بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

دریں اثناء ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج کا سرچ آپریشن جاری ہے۔ داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے رہائشیوں کی نقل وحمل کو بند کر رکھا ہے ضلع شوپیاں کے رہائشی اسحاق نائیکو کو دل کا دورہ پڑنے پر سیکیورٹی اہلکاروں نے اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دی جس کے باعث وہ انتقال کرگئے۔

دوسری جانب کشمیر کے علاقے کنڈالاں میں سینٹرل ریزرو فورس اور پولیس کے مشترکہ سرچ آپریشن کے خلاف علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر اور ایک سپاہی زخمی ہو گیا۔ جس کے بعد مزید نفری کو طلب کرلیا گیا ہے۔

Comments
Loading...