نواز شریف اور مریم نواز آج شام لاہور پہنچیں گے

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ آج شام وطن پہنچیں گے۔

احتساب عدالت سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز آج نجی ایئرلائن کی پرواز ای وائے 423 کے ذریعے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔

فلائٹ شیڈول کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز رات ایک بجے لندن سے براستہ ابوظہبی لاہور کے لیے روانہ ہوں گے، ابوظہبی میں چند گھنٹے قیام کے بعد نجی ایئرلائن کا طیارہ لاہور کے لیے روانہ ہوگا اور آج شام 6 بجے کے قریب لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے۔

(ن) لیگ نے استقبال کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی

لاہور میں مسلم لیگ (ن) نے نوازشریف کے استقبال کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ شہباز شریف لوہاری گیٹ سے قافلے کی صورت میں لاہور ایئرپورٹ جائیں گے جب کہ (ن) لیگ کے انتخابی امیدوار مال روڈ اور ریگل چوک پر مرکزی جلوس میں شامل ہوں گے، مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے دوسرے شہروں سے آنے والے قافلوں کو سیدھا ایئرپورٹ پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

سول ایوی ایشن نے لاہور ایئر پورٹ پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریاں کرلی ہیں ، اے ایس ایف سمیت پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ڈیوٹی پر تعینات ہوں گے، اندرون اور بیرون ملک جانے والوں مسافروں کو چار گھنٹے پہلے پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے ، ایئر پورٹ کی حدود میں صرف ٹکٹ ہولڈرز کو داخلے کی اجازت ہوگی۔

نوازشریف اور مریم نواز کو ہیلی کاپٹرسے اسلام آباد منتقل کیا جائے گا 

دوسری جانب نوازشریف اور مریم نواز کو ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرنے کے لیے نیب ٹیم نے اپنی تیاری مکمل کرلی ہے، دونوں کو ایپرن سے ہی گرفتار کرکے ہیلی کاپٹرسے اسلام آباد منتقل کیا جائے گا جب کہ نیب نے وزارت داخلہ سے ایئرپورٹ سے گرفتاری کی اجازت لے لی ہے۔

گرفتاری کے لیے وارنٹ کے مطابق عمل درآمد ہوگا

ادھر چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے لیے وارنٹ کے مطابق عملدرآمد ہوگا اور رکاوٹ ڈالنے والوں کےخلاف کارروائی کریں گے۔

سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات اور موسم کی خرابی کے باعث جہاز کا رخ موڑا جاسکتا ہے، ایس او پی میں شامل چار میں سے کسی ایک وجہ پر بھی جہاز کا رخ تبدیل جاسکتا ہے۔

شہباز شریف کا لاہور پولیس پر غنڈہ گردی کا الزام

قبل ازیں لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا، گھروں پر چھاپے مارے گئے، دروازے توڑے گئے، لاہور میں پولیس نے غنڈہ گردی کی، حامیوں کو بدترین مظالم کا نشانہ بنایا اور خواتین کی توہین کی، ہمارے ساتھ کھلا ظلم، زیادتی اور دھاندلی ہورہی ہے، الیکشن کو داغدار کیا جارہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ 30 تاریخ تک کسی سیاسی کارکن کو گرفتار نہ کیا جائے، اس کے باوجود نگراں وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کی براہ راست نگرانی میں سیکڑوں کارکن گرفتار کیے گئے، ن لیگ کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، کچھ تو دال میں کالا ہے، یہ کیا تماشا ہے کہ دفعہ 144 کے باوجود عمران خان لاہور میں جلسہ کررہے ہیں لیکن ہمیں اجازت نہیں دی جارہی۔

Comments
Loading...