پاکستا ن کا سلامتی کونسل سے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ

#/h#
نیویارک (آن لائن)پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپنی قراردادوں پر عمل کرانے کے لئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل میں تخصیص سے سلامتی کونسل کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کے کام کے طریق کار کے عنوان پر مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے تجویز دی کہ کونسل اپنی قراردادوں خاص طور سے جن کا تعلق جموں و کشمیر جیسے طویل عرصہ سے حل طلب مسائل سے ہے، کو ایک خاص مدت کے بعد زیربحث لانے کا طریق کار اختیار کرے۔انہوں نے سلامتی کونسل کے اقدامات کو زیادہ موثر اور شفاف بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی طرف سے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکامی سے نہ صرف اس ادارے کی اپنی بلکہ اقوم متحدہ کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل اپنا اعتماد بحال رکھنے کے لئے اپنی قراردادوں پر بلاتخصیص عملدرآمد کرائے۔اپنی قراردادوں پر عملدرآمد میں تخصیص سلامتی کونسل کی ساکھ کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ سلامتی کونسل کے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے تعامل کو وسعت دینا بھی ضروری ہے کیونکہ عالمی سطح پر امن و سلامتی میں ہر ملک کا کردار اور دلچسپی ہے۔اس حوالے سے سلامتی کونسل کے کھلے اجلاسوںکی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور فیصلہ سازی کے عمل میں سلامتی کونسل متعلقہ ممالک خاص طور سے عالمی ادارے کو امن مشنز کے لئے فوجی اور پولیس اہلکار فراہم کرنے والے پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ بات چیت بھی بڑھائے۔کونسل اپنے ذیلی اداروں کے ساتھ تعامل کو زیادہ شفاف اور متوازن بنائے۔ کونسل کے منتخب ممبران کو مسائل کے حل میں مساوی بنیادوں پر کردار دیا جائے۔کونسل تنازعات کے پر امن حل کے لئے سفارتکاری کو ترجیحی طور پر استعمال کرے اور باب ہفتم کے تحت عملدرآمد کے اقدامات سے ممکن حد تک گریز کرے کیونکہ یہ اقدام تنازعات کے حل میں تعطل کا باعث بنتا ہے اس کی بجائے باب ہشتم کے تحت مسائل اور تنازعات کے حل کے لئے علاقائی تنظیموں کو بروئے کار لایا جائے۔ سلامتی کونسل میں زیادہ نمائندگی اور جمہوری طرز کار کو یقینی بنانے کے لئے اس کے کام میں احتساب اور شفافیت میں بھی اضافہ کیا جائے۔

Comments
Loading...