امریکی بیان سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بڑھ گئی

کراچی: 

پاکستان کے لیے قرضوں کے اجرا سے متعلق امریکا کی آئی ایم ایف کو ڈکٹیشن دینے کی خبروں نے کئی روز کے بعد اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب بڑھا دی جس کے نتیجے میں بدھ کو امریکی ڈالر کی قدر1.50 روپے بڑھ کر124 روپے کی سطح پر آگئی۔

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدز مزید تنزلی سے دوچار ہوئی اور ڈالر کے انٹربینک ریٹ مزید36 پیسے گھٹ کر123.98 روپے کی سطح پربند ہوئے۔ اس طرح کئی روز کے بعد دونوں منڈیوں میں ریٹ کا فرق ختم ہوگیا۔

واضح رہے کہ بدھ کو تمام دن زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر میں اتارچڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا، انٹربینک مارکیٹ میں ایک موقع پر ڈالر کی قدر123.80 روپے تک بھی گرگئی تھی اوراوپن کرنسی مارکیٹ میں 121.45 روپے کی سطح تک آ گئی تھی۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے پاکستان کے قرضوں سے متعلق امریکی حکام کے بیان نے مقامی مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے اور جولوگ گزشتہ 6 روز سے اپنے ہولڈ شدہ ڈالر فروخت کرنا چاہتے تھے، انہوں نے بدھ کو ڈالر کی فروخت روک دی۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ذخائرسرپلس نہیں ہوئے حالانکہ گزشتہ 6 روز سے اوپن مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر ڈالر کے سرپلس ذخائرجمع ہورہے تھے۔

ملک بوستان نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے امریکا کی آئی ایم ایف کو ڈکٹیشن دینے پر پاکستانی شدید ردعمل پایا جاتا ہے اور پاکستانی عوام کی خواہش ہے کہ نئی حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے بجائے اپنے دیرینہ دوست چین اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے رجوع کرے۔

Comments
Loading...