امریکی بیان نامناسب، پاکستان کا گلا دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، نگراں وزیر خارجہ

اسلام آباد: 

 نگراں وزیرخارجہ عبداللہ حسین ہارون نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پیکیج اورچین سے متعلق امریکا کابیان نا مناسب ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کا گلہ دبانے کی کوشش کررہا ہے ،سسکیاں لے لے کر نہیں جی سکتے، امریکا کی طرف سے بھارت کودفاع بہتربنانے کیلیے انفرادی طورپرجدید اسلحے کے لائسنس جاری کیے گئے ہیں اور یہ اس وقت کیا جارہا ہے جب امریکا نے ہمیں پیسے دینے ہیں،امریکا کواتحادی فنڈزکی مدمیں پاکستان کوادائیگیاں کرنی ہیں۔ ہم جب پیسے مانگتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارے پاس پیسے نہیں۔

عبداللہ حسین ہارون نے کہا کہ آئی ایم ایف پیکیج کاسی پیک سے کوئی تعلق نہیں،سی پیک پاکستان کے مستقبل اور سرمایہ کاری کیلیے اہم ہے ،ہمیں امریکا کے پیسے نہیں چاہییں پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف بھاری قیمت چکائی، ہمیں ڈو مورکہنے والے دیکھیں کہ انھوں نے کیا کیا؟۔نئے وزیراعظم کی تقریب حلف برداری دیگرملکوں کے سربراہان کے آنے سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے،متعلقہ وزارتیں اس معاملے کودیکھ رہی ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پیکیج کو سی پیک سے مشروط کرنادرست نہیں،آئی ایم ایف کے پاس جانا نگراں حکومت کا مینڈیٹ نہیں،نئی منتخب حکومت اس بارے میں پالیسی وضع کریگی، پاکستان کو امریکی امداد کی ضرورت نہیں، انہوں نے کہا کہ چین پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہاہے،پاک چین دوستی پرکسی کو مداخلت کی ضرورت نہیں،کوئی بھی سی پیک میں رکاوٹ نہیں بن سکتا،حکومت پاکستان سی پیک منصوبوں کو مکمل کرنے کیلیے پرعزم ہے ،پاکستان سے افغان طالبان کومذاکرات کی میزپر لانے کیلئے کہا جارہا ہے۔
Comments
Loading...