قومی اسمبلی کا اجلاس 13 یا 14 اگست کو بلائے جانے کا امکان

اسلام آباد: نگران وزیر اطلاعات و نشریات علی ظفر کا کہنا ہے کہ 13 یا 14 اگست کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جاسکتا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر کا کہنا تھا کہ 15 اگست تک آئین کے مطابق ہر صورت قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا ہے لہذا 13 یا 14 اگست کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا چناؤ ہوگا جس کے بعد وزیراعظم کا انتخاب ہوگا۔

علی ظفر نے کہا کہ آزاد امیدواروں کو اپنی پسند کی جماعت میں شمولیت کا وقت دیا جائے گا تاہم انہیں 10 روز کے اندر گوشواروں کی تفصیلات جمع کرانا ہوں گی جس کے بعد الیکشن کمیشن انتخابی نتائج کا اعلان کرے گا۔

واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 2 کے تحت پولنگ ڈے سے 21 دن کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا ضروری ہوتا ہے۔ نو منتخب ارکان قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں حلف اٹھاتے ہیں۔

نو منتخب ارکان کی حلف برداری کے بعد کا مرحلہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا ہوتا ہے جس کے بعد ارکان اسمبلی قائد ایوان یعنی وزیراعظم کے لیے رائے شماری کرتے ہیں۔

تحریک انصاف کی جانب سے نئے وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری 14 اگست سے پہلے کرانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے تاکہ عمران خان یوم آزادی پر سرکاری تقریبات میں بحیثیت وزیر اعظم شریک ہوں۔

لیکن اب نگران وزیر قانون کی جانب سے قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 13 یا 14 اگست کو بلائے جانے کے اعلان کے بعد عمران خان کی بطور وزیر اعظم یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت مشکل نظر آرہی ہے۔

Comments
Loading...