جوہرآباد کی گلناز نے سوتے ہوئے اجمل، دو بیٹوں اور دوبیٹیوں پر کلہاڑیوں سے وار کئے۔ فوٹو: فائل

 جوہرآباد کی گلناز نے سوتے ہوئے اجمل، دو بیٹوں اور دوبیٹیوں پر کلہاڑیوں سے وار کئے۔ فوٹو: فائل

سرگودھا: شادی ایک ایسا بندھن ہے، جس کے ذریعے دو خاندانوں کے درمیان ایک خصوصی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ میاں اور بیوی زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز کرتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی اور سہارا بنتے ہیں، ایسے میں اگر ان کے بیچ کوئی خلا پیدا ہو جائے تو پورے کا پورا خاندان ہی تباہ ہو جاتا ہے۔

گھریلو لڑائی جھگڑے ہمارے معاشرے میں آج معمول کی بات بن چکے ہیں، لیکن یہ معمول اس وقت غیرمعمولی اور تباہی کا باعث بن جاتا ہے، جب ان جھگڑوں میں شدت پیدا ہو جائے اور انسان عدم برداشت کی بھینٹ چڑھ جائے۔ ایسا ہی ایک واقعہ جوہر آباد کے موضع پیل پدھڑار میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون کی برداشت جواب دے گئی اور پھر وہ ہوا جو معمول سے بہت ہٹ کر ہر شخص کے لئے سوگواری کا باعث بن گیا۔

پیل پدھڑار کے رہائشی اجمل کی 11 سال قبل 2004ء میں گلناز نامی خاتون کے ساتھ شادی ہوئی۔ شادی کے بعد دونوں میاں بیوی کی زندگی میں مثالی پیارو محبت کا جذبہ پروان چڑھتا رہا اور دونوں ہنسی خوشی زندگی کی ڈور کھینچتے رہے۔ اس دوران قدرت نے انہیں بے پناہ خوشیوں سے نوازا۔ شادی کے ایک سال بعد ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کا نام فہد رکھا گیا۔ فہد کی پیدائش پر گھر بھر میں جیسے خوشیوں کا بسیرا ہو گیا۔ اس کے بعد قدرت نے انہیں مزید دو بیٹوں اور ایک بیٹے کی خوشی سے نوازا۔ دوسری طرف جب گھریلو اخراجات بڑھے تو اجمل نے جوہر آباد میں آکر رکشہ چلانا شروع کردیا اور بعد ازاں اس نے اپنی فیملی بھی ریاض ٹاؤن جوہر آباد منتقل کر لی۔ دن مہینوں اور مہینے سالوں میں ڈھلتے چلے گئے۔

بڑا بیٹا فہد 13 سال، ایک بیٹی عائشہ 10 سال ، دوسری بیٹی عاصمہ 8 سال اور سب سے چھوٹا بیٹا عبداللہ ڈیڑھ سال کا ہو گیا۔ لیکن پھر خوشیوں بھرے اس گھر کو کسی کی نظر لگ گئی اور ہنستے بستے گھر میں لڑائی جھگڑے روز مرہ کا معمول بن گئے۔ میاں بیوی میں اکثر کسی نہ کسی بات پر تلخی رہنے لگی اور بعد ازاں نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی تھی۔ روز روز کے لڑائی جھگڑوں سے گلناز سخت پریشان تھی اور وہ ہروقت کسی گہری سوچ میں گم رہتی تھی ۔اور پھر وہ ہوا جس کا نہ تو کسی کو وہم وگمان تھا اور نہ ہی کوئی یقین کرنے کو تیار ہے۔

10 جولائی کی رات اجمل سارا دن محنت مزدوری کرنے کے بعد رات کو گھر لوٹا تو حسب معمول کھانا کھانے اور بچوں کے ساتھ گپ شپ لگانے کے بعد سو گیا، جس کے بعد چاروں بچے بھی نیند کی آغوش میں چلے گئے، لیکن ان بے چاروں کو کیا علم تھا کہ اب قیامت سے پہلے کوئی صبح ایسی آنے والی نہیں جب وہ حسب معمول بیدار ہوں گے۔ آدھی رات کے وقت اجمل اور چاروں بچے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے لیکن گلناز کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی، وہ لیٹے لیٹے کبھی اٹھ کر چار پائی پر بیٹھ جاتی، صحن میں چلنا شروع کر دیتی تو کبھی کسی دیوار کا سہارا لے کر کھڑی ہو کر آسمان کی وسعتوں میں جھانکنے لگتی۔ محسوس یوں ہوتا تھا جیسے اس کے اندر کوئی جنگ چھڑی ہوئی ہو اور وہ اس سے نجات پانا چاہتی ہے۔

کبھی وہ اپنے خاوند کے سرہانے کھڑی ہو کر اس کا چہرہ تکتی رہتی کبھی سوئے ہوئے بچوں کو پیار کرنے لگتی ۔اسی دوران گلناز نے آخری بار بچوں کو پیار کیا اور گھر میں رکھی ہوئی کلہاڑی اٹھا کر سوئے ہوئے اپنے خاوند اور بچوں کے پاس پہنچ گئی،وہ کچھ دیر ساکت وجامد کھڑی ہو کر اپنے خاوند اور بچوں کو کھوئی کھوئی نظروں سے دیکھتی رہی پھر اچانک اس نے پوری قوت کے ساتھ کلہاڑی کا وار اپنے خاوند اجمل کی گردن پر کیا، جس پر خون کا ایک فوارہ پھوٹا اور اجمل جسم سے روح کوچ کرنے کے عمل کے باعث تڑپنے لگا، اسی دوران گلناز نے دوسرا وار پھر اس کی گردن پر کر دیا، اجمل کی کے منہ سے دلخراش چیخ بلند ہوئی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا۔ والد کی چیخ سن کر بچے بیدار ہو گئے لیکن گلناز نے کسی کو چارپائی سے اٹھنے اور کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہ دیا اور پے در پے وار کر کے پل بھر میں چاروں بچوں کو بھی ابدی نیند سلا دیا۔

قتل کی اس اندوہناک واردات کے بعد سارا گھر خون سے بھر گیا۔ خون کی ہولی کھیلنے کے بعد گلناز نے کلہاڑی ایک طرف پھینک دی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور بہت دیر تک روتی رہی۔ پھر وہ اٹھی اور اپنے میاں بچوں کی نعشوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے لگی۔

بعد ازاں سحری کے وقت اس نے کلہاڑی اٹھائی اور آلہ قتل سمیت تھانہ سٹی جا کر اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ اسی دوران مقتول اجمل کا بھائی اکرم سحری کے وقت اپنے بھائی کے گھر پہنچا تو گھر کے تمام دروازے کھلے تھے جبکہ اس کا بھائی اور بچے 13سالہ بیٹا فہد اور ڈیڑھ سالہ بیٹا عبداﷲ ‘ بیٹیاں 10سالہ عائشہ اور 6سالہ بیٹی عاصمہ کی خون میں لت پت نعشیں پڑی تھیں جبکہ اس کی بھابھی گلناز گھر پر موجود نہیں تھی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقہ میں کہرام مچ گیا، لوگ جائے وقوعہ پر اکٹھے ہونے لگے، معصوم بچوں کے اس بہیمانہ قتل پر ہر شخص افسردہ اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔

اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی، جس نے نعشوں کو قبضہ میں لے کر ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد نعشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ تھانہ سٹی جوہرآباد پولیس نے ملزمہ گلناز کے خلاف مقتول محمد اجمل کے بھائی محمد اکرم کی مدعیت میں زیر دفعہ 302ت پ مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون نے یہ بیان بھی دیا کہ اسے کئی روز سے ایک خواب آرہا تھا کہ وہ اپنے خاندان کی قربانی دے، اس لیے اس نے اپنے خاوند اور بچوں کو ذبح کرکے ان کی قربانی دی ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایس ایچ او جوہرآباد منیر احمد کے مطابق قتل کی یہ المناک واردات گھریلو جھگڑوں کاشاخسانہ ہے، تاہم پولیس 5 افراد کے قتل کی اس واردات کی ہر پہلو سے تفتیش کررہی ہے۔