ڈالر کی قدر 1 روپیہ بڑھ کر 123.50 روپے ہو گئی

راچی: 

اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایکس چینج کمپنیوں کو کسٹمرز کے گھر دفاتر اور متعلقہ بینکوں میں زرمبادلہ کی ترسیل پر پابندی کے باعث اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی فروخت 20 فیصد تک محدود ہوگئی ہے تاہم ہفتے کو انٹربینک مارکیٹ بند ہونے کے سبب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر یک دم 1 روپے بڑھ کر 123روپے50 پیسے کی سطح پر بند ہوئی جبکہ جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 124 روپے 4 پیسے پر بند ہوئی تھی۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے ایکسپریس کو بتایا کہ ایکس چینج کمپنیوں کو اپنے کسٹمرز کے لیے زرمبادلہ کی براہ راست ترسیل پر اسٹیٹ بینک کی نئی پابندی کے باعث ڈالر کے بڑے سرمایہ کار اوپن مارکیٹ سے غائب ہوگئے ہیں کیونکہ بڑی مالیت میں اوپن مارکیٹ زرمبادلہ کے خریدار ممکنہ ڈکیتی اور زرمبادلہ چھینے جانے کے خطرات کے پیش نظر ایکس چینج کمپنیوں کے سیل کاؤنٹرپر آنے گریز کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہفتے کو ملک بھر کی اوپن کرنسی مارکیٹ سے کسٹمرز نے بمشکل 7 تا 8 لاکھ ڈالر کی خریداری کی لیکن ایکس چینج کمپنیوں میں امریکی ڈالر کے فروخت کنندگان کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔

ملک بوستان نے بتایا کہ اوپن مارکیٹ دیگرغیرملکی کرنسیوں جن میں درہم ریال برطانوی پاؤنڈ یوروکرنسی شامل کی آمد کا حجم 30 تا 40 لاکھ ڈالر کے مساوی تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ حجاج کرام کی جانب سے ریال کی خریداری سرگرمیاں ختم ہوگئی ہیں اس لیے اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال کی بھی وسیع پیمانے پر آمد ہورہی ہے لہذا ایکس چینج کمپنیاں ڈالر کے علاوہ مذکورہ دیگر غیرملکی کرنسیوں کو برآمد کرکے ملک امریکی ڈالر درآمد کررہی ہیں جبکہ اپنے پاس موجود سرپلس ڈالر کے ذخائر کو بینکوں میں سرنڈر کررہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ملک بوستان نے بتایا کہ اقتصادی محاذ پر اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہوا تو آئندہ ہفتے بھی زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوگی اور زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں امریکی ڈالر کی قدر 120 روپے تا 125 روپے درمیان رہے گی۔

Comments
Loading...