پاک امریکا تعلقات کی بنیاد وقار اور باہمی احترام پر ہونی چاہیے وزیر داخلہ احسن اقبال کی وائٹ ہاﺅس میں تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو

پاک امریکا تعلقات کی بنیاد وقار اور باہمی احترام پر ہونی چاہیے، دباﺅ کے ہتھکنڈے استعمال کرکے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا، دونوں ممالک کو سلامتی کے حوالے سے ایک دوسرے کے جائز تحفظات کا ادراک، دہشت گردی کو شکست اور افغانستان میں استحکام کے مشترکہ اہداف حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے
وزیر داخلہ احسن اقبال کی وائٹ ہاﺅس میں تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو
واشنگٹن ۔ 9 فروری (اے پی پی) وزیر داخلہ احسن اقبال نے پاکستان اور امریکا کے درمیان منصوبہ بندی سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو سلامتی کے حوالے سے ایک دوسرے کے جائز تحفظات کا ادراک کرنا چاہیے اور دہشت گردی کو شکست اور افغانستان میں استحکام کے مشترکہ اہداف حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔ وہ اپنے دورہ امریکا کے دوران وائٹ ہاﺅس میں دعائیہ ناشتے کی سالانہ تقریب کے موقع پر پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ تقریب میں دیگر کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک تھے۔ وزیر داخلہ نے اس موقع پر امریکی کانگریس کے ارکان، صحافیوں اور امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے رہنماﺅں سے ملاقاتیںکیں اور انہیں پاک امریکا تعلقات اور پاکستانی معیشت کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعاون کی طویل تاریخ ہے اور اس تعاون سے دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچا ہے، پاکستان امریکا کے ساتھ باہم احترام کی بنیاد پر مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے، اس معاملے پر کھلی بحث کی ضرورت ہے، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور انہیں سلامتی کے حوالے سے ایک دوسرے کے جائز تحفظات کا ادراک کرنا چاہیے، باہمی تعلقات کی بنیاد وقار اور باہمی احترام پر ہونی چاہیے کیونکہ دباﺅ کے ہتھکنڈے استعمال کرکے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا عالمی سطح پر افغانستان میں سب سے بڑا سٹیک ہولڈر تھا جبکہ پاکستان میں امن و سلامتی افغانستان میں استحکام سے منسلک ہے، پاکستان میں امن کےلئے افغانستان میں امن ضروری ہے اور دونوں ممالک اپنا محل وقوع تبدیل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امریکی امداد کی ضرورت نہیں لیکن پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈا اور انسانی وسائل کی ترقی میں امریکا کا نہایت اہم مقام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2013 ءمیں مسلم لیگ (ن) کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، ہم نے اپنے محدود وسائل کے بل بوتے پر دہشت گردی پر قابو پایا اور دہشت گرد گروپوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ وزیر داخلہ نے اس موقع پر پاکستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ کسی بھی اطلاع کے موصول ہونے کی صورت میں امریکا کو پاکستان کو آگاہ کرنا چاہیے، پاکستان کی حکومت اس پر کارروائی کرے گی، دونوں ملکوں کو دہشت گردی کے خطرے سے مل کر لڑنے کی ضرورت ہے، بعض خرابی پیدا کرنے والے پاکستان اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینا چاہتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی طویل تاریخ ہے اور انہیں مستقبل میں مل کر کا م کرنے کےلئے مشترکہ بنیادیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی کردار کے برعکس نتائج ہوں گے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ پاکستان اپنا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا، جنوبی ایشیا میں امن خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہوگا۔ امریکی امداد میں کٹوتی کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اس حوالے سے تبدیل شدہ اپروچ کے ساتھ کام کر رہی ہے، پاکستان نے اپنے وسائل سے دہشت گردی کو شکست دی ہے اور مشکل ترین حالات کا سامنا کیا ہے۔

Comments
Loading...