کلبھوشن کیس پاکستان میں بھارتی مداخلت کا واضح ثبوت ہے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل

سٹریٹجک استحکام خطے کے ملکوں کی مشترکہ زمہ داری ہے،کلبھوشن کیس پاکستان میں بھارتی مداخلت کا واضح ثبوت ہے، پرامن خلائی ٹیکنالوجی ہر ملک کا حق ہے، بھارتی فورسز نے گذشتہ سال ایل او سی اورورکنگ باونڈری کی 1970خلاف ورزیاں کیں، ہماری مسلح افواج بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار پریس بریفنگ
اسلام آباد ۔ 9 فروری (اے پی پی) پاکستان نے کہا ہے کہ سٹریٹجک استحکام خطے کے ملکوں کی مشترکہ زمہ داری ہے، پاکستان میں بھارتی کی تخریبی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،کلبھوشن کیس پاکستان میں بھارتی مداخلت کا واضح ثبوت ہے۔خلائی ٹیکنالوجی ہر ملک کا حق ہے لیکن یہ پر امن مقاصد کیلئے ہونا چاہیئے۔پاکستان کا بھی پر امن مقاصد کیلئے مستحکم خلائی پروگرام جاری ہے۔پاکستان پر امن ہمسائیگی پر یقین رکھتا ہے ،ہماری مسلح افواج بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔جمعہ کو دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی ہر ملک کا حق ہے لیکن یہ پر امن مقاصد کیلئے ہونا چاہیئے۔پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ کے خلاف ہے۔بھارت کے خلائی ٹیکنالوجی اور میزائل پروگرام سے خطے میں طاقت کا توازن خراب ہوگا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں بھارت کی تخریبی سرگرمیاں اور سی پیک منصوبے کو سبو تاژ کرنے کی کوششیں کسی ڈھکی چھپی نہیں تاہم پاکستان پر امن ہمسائیگی پر یقین رکھتا ہے۔ہماری مسلح افواج بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ہیں۔کلبھوشن کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر سزا ہوئی ہے۔بھارت آج تک اس بات کا جواب نہیں دے سکا کہ کلبھوش یادیو کے پاس مبارک حسین کا پاسپورٹ کہاں سے آیا۔ ترجمان نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال جنوری میں کلبھوش کی ریٹائرمنٹ سے متعلق دستاویزات بھارت سے طلب کیں لیکن یہ تاحال موصول نہیں ہوئیں، کلبھوش نے مزید تخریبی سرگرمیوں کا اعتراف کیا ہے۔افغانستان سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ افغان مسئلے کو صرف افغان حکومت اور عوام کی قیادت میں پر امن مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان حزب اسلامی اور افغان حکومت کے درمیان امن معاہدے کی مکمل حمایت کرتا ہے اور طالبان کے دیگر گروپوں کےساتھ بھی اس طرح مذاکرات ہونے چاہییں۔ترجمان نے کہا کہ پاک افغان مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے افغان وفد اسلام آباد میں موجود ہے۔مہاجرین کی باعزت واپسی اجلاس کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔کشمیر سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارتی فورسز نے گذشتہ سال ایل او سی اورورکنگ باونڈری کی 1970سے زیادہ خلاف ورزیاں کیں جبکہ رواں سال کے دوران اب تک دو سو سے زیادہ خلاف ورزیاں کی جا چکی ہیں۔جس میں درجنوں بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کے مصائب اور ان پر بھارتی مظالم میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں۔ترجمان نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو کشمیری عوام پر مظالم سے روکیں اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

Comments
Loading...