Official Web

گورانوکے آبی ذخیرے کو سیاحتی مقام میں ڈھالنے کیلیے معاہدہ

کراچی: 

تھرپارکر کو سیاحتی مقام میں ڈھالنے کی غرض سے تھر فاؤنڈیشن اور مقامی فاؤنڈیشن نے ایک معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) اور مقامی فاؤنڈیشن کے سماجی ونگز نے تھر پارکر میں موجود گورانوآبی ذخیرہ کی نشاندہی کی ہے جہاں کمپنی کان کنی کے دوران نکلنے والے زیرِ زمین پانی کے اخراج کو ذخیرہ کرتی ہے۔

واضح رہے کہ گورانوآبی ذخیرہ تھرپارکر کے شہر اسلام کوٹ سے 30 کلومیٹر دور تعلقہ اسلام کوٹ میں واقع ہے۔ ریت کے ٹیلوں کے درمیان 15سو ایکٹررقبے پر قائم اس آبی ذخیرے کوسندھ اینگرو کو مائننگ کمپنی نے تعمیر کیا ہے۔ آبی ذخیرہ پر ہرسال ہزاروں نقل مکانی کرنے والے پرندے بھی آتے ہیں۔ اس آبی ذخیرہ میں کمپنی کی توسط سے افزائش کردہ مختلف اقسام کی مچھلیاں بھی موجود ہیں جبکہ کمپنی کی جانب سے آبی ذخیرہ پر ایک پبلک پارک بھی تعمیر کیا گیا ہے۔

دونوں کمپنیوں کے مابین مفاہمتی یادداشت پردستخط کا مقصد باہمی تعاون کے ذریعے تھر پارکر کے ماحول کو بہتر بنانا اور تھر کی مقامی کمیونٹی کے لیے مشترکہ طور پر سماجی ترقی کے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

معاہدے پر تھر فاؤنڈیشن کی جانب سے تعمیر کیے گئے گورانو باغ پر منعقدہ تقریب میں دستخط کیے گئے۔ معاہدے پر تھر فاؤنڈیشن کی جانب سے نصیر احمد اور مقامی فاؤنڈیشن کی جانب سے عائشہ خان نے دستخط کیے۔

اس موقع پر سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شمس الدین شیخ، چیف آپریٹنگ آفیسرابولفضل رضوی اور منیجر ہیلتھ، سیفٹی اینڈانوائرمنٹ عمیر اسلم بٹ بھی موجود تھے۔ گورانو میں ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دینے کے علاوہ دونوں کمپنیاں مقامی لوگوں میں مورینگا کے پودے کی تجارتی مقاصد پر پیداروار کے لیے بھی مدد فراہم کریں گی۔

Comments
Loading...