Official Web

اوپن اکاؤنٹ پر درآمدی اشیا کی کلیئرنس ڈیلر کی منظوری سے مشروط

اسلام آباد: 

 وفاقی حکومت نے درآمد کنندگان کی اوپن اکائونٹ کی بنیاد پر اشیا درآمدکرنے والے درآمد کنندگان کے لیے درآمدی اشیا کی کسٹمزکلیئرنس سے پہلے با اختیار ڈیلرز کا منظور کردہ الیکٹرونک امپورٹ فارم کو لازمی قراردیدیا ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایکسچینج پالیسی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے باقاعدہ تحریری طور پر رولز جاری کردیے ہیں جس میں اوپن اکائونٹ کی بنیاد پر اشیا درآمد کرنے والے درآمد کنندگان کی درآمدی اشیا کی کلیئرنس کے لیے با اختیار ڈیلرز سے منظور شدہ الیکٹرونک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) حاصل کرنے کے میکنزم اور با اختیار ڈیلرز کو یوزر آئی ڈی اور پاس ورڈز جاری کرنے سمیت دیگر تمام ضوابط جاری کردیے ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کسٹمز کے درآمدی اشیا کی کلیئرنس کے نظام وی بوک میں درآمدی اشیا کی رجسٹریشن و منسوخی کی ذمے داری پاکستان کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی ہوگی اور کسٹمز ڈپارٹمنٹ وضع کردہ پروسیجر کے مطابق وی بوک میں درآمدی اشیا کی رجسٹریشن ختم کرے گی۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ بطور ڈیلرز کے اکائونٹ ہولڈرز اورصارفین درآمد کنندگان کی تصدیق اور ان کے کوائف کے درست ہونے سے متعلق سی ڈی سی اور اپنے صارفین سے متعلق مکمل جانکاری رکھنے (کے وائی سی) کی ذمے داری اور تصدیق کی ذمے داری با اختیار ڈیلرز کی ہوگی۔

اوپن اکائونٹ کی بنیاد پر اشیا درآمد کرنے کے خواہاں درآمد کنندگان و کمپنیوں کے مینجرز، پارٹنرز اور ڈائریکٹرز کی جانب سے الیکٹرونک امپورٹ فارم کرنے کے لیے رولز اینڈ ریگولیشن پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ درآمد کنندگان کے درآمدی بلز کے واجبات کی صورت میں با اختیار ڈیلرز کو مزید الیکٹرونک امپورٹ فارم منظور نہ کرنے کے اختیارات ہوں گے۔

علاوہ ازیں باختیار ڈیلرز کو وی باک میں اپنی مزید مجاز برانچز شامل کرنے یا ختم کرنے کے لیے متعلقہ گروپ اور بزنس ہیڈ و ڈائریکٹرکے ذریعے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی فارن ایکسچینج آپریشن ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی کو درخواست دینا ہوگی۔

اگر اگر کسی نئے بینک کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایکسچینک پالیسی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے لائنسنس جاری کیا جاتا ہے تو اس صورت میں وہ بینک وی بوک میں شامل ہوسکتا ہے اور اس متعلقہ بینک کی برانچز کو وی بوک میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ بینک کے گروپ و بزنس ہیڈ ٹو دی ڈائریکٹر کے ذریعے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی فارن ایکسچینج آپریشن ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی کو درخواست دینا ہوگی۔

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ بااختیار ڈیلرز کو ا پاکستان کسٹمز کی جانب سے الیکٹرونک فارم ای (ای ایف ای) جاری کرنے کے لیے فراہم کیے جانے والے یوزر آئی ڈی اور پاس ورڈز کو وہ باکس میں الیکٹرونک امپورٹ فارم جاری کرنے اور منظور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا جبکہ با اختیار ڈیلرز کو نئے یوزر آئی ڈی اور پاس ورڈ حاصل کرنے کے لیے درکار دستاویزات کے ہمراہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی فارن ایکسچینج آپریشن ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی کو درخواست دینا ہوگی جو کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کسٹمز ڈپارٹمنٹ کو بھجوائی جائے گی اور پاکستان کسٹمز ڈپارٹمنٹ براہ راست با اختیار ڈیلرز کو نیا یوزر آئی ڈی اور پاسورڈز جاری کرے گا۔

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کسٹمز کی جانب سے وی بوکس میں جاری کردہ یوزر آئی ڈی اور پاس ورڈ کی رازداری کو یقینی بنانا متعلقہ با اختیار ڈیلرز کے تمام ملازمین و اسٹاف کی ذمے داری ہوگی اور اس یوزر آئی ڈی و پاس ورڈ کے غلط استعمال کی صورت میں تمام تر ذمے داری با اختیار ڈیلرز پر عائد ہوگی۔

Comments
Loading...