Official Web

این آئی سی ایل کرپشن؛ سپریم کورٹ کا احتساب عدالت کو 2 ماہ میں فیصلے کا حکم

عدالت عظمیٰ نے احتساب عدالت کو این آئی سی ایل کرپشن کیس کا 2 ماہ میں فیصلہ کرنے کاحکم دیاہے۔

نیب پراسیکیوٹرنے چیف جسٹس کے استفسارپربتایاکہ ملزم محسن حبیب وڑائچ بیرون ملک مفرور ہے۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ جب نام ای سی ایل میں تھا تو وہ ملک سے کیسے بھاگا ؟اطلاع ہے کہ وہ لندن میں ہے اور افغانستان کی سرحدسے فرارہوکرلندن پہنچا۔

نیب پراسیکیوٹرکا کہنا تھا ملزم کو ملک لانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں،انھیںبہت جلدپکڑا جائے گا،عدالت عظمیٰ نے سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی ہائوسنگ سوسائٹی کے لیے زمین کے معاملے میں پیشرفت نہ ہونے پر ڈائریکٹر جنرل فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

عدالت نے ڈی جی ہائوسنگ فائونڈیشن کو جمعے کوپیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ اربوں روپے لینے کے باجود زمین کا قبضہ نہیں دیا جا رہا،چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی جی ہائوسنگ فائونڈیشن سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی ہائوسنگ سوسائٹی کے خلاف سازشیںکرتا ہے، تین سال سے یہ بندہ اس سیٹ پر بیٹھا ہوا ہے لیکن کسی میں جرات نہیںکہ اس کو عہدے سے ہٹائے۔

عدالت نے ڈی جی ہائوسنگ فائونڈیشن کو طلب کیا تووکیل نے کہا کہ ڈی جی ہائوسنگ ملک سے باہرہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ پرسوں انھیں عدالت میں پیش کریں ورنہ توہین عدالت کی کاروائی کرینگے۔جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کی درخواست ضمانت کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو طلب کرلیا۔

جسٹس منظور ملک نے استفسار کیاکہ نیب حکام ملزم کوکیوںگرفتارکرنا چاہتے ہیں۔نیب وکیل کا کہنا تھا ہمارا موقف ہے کہ معاملے پر وزیراعلیٰ سے منظوری نہیں لی گئی۔یاد رہے کہ سابق آ ئی جی سندھ غلام حیدرجمالی پر غیرقانونی بھرتیوںکا الزام ہے۔

سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان چیف ایپلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرکے گلگت بلتستان آرڑر 2018 بحال کر دیا،چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میںفل بینچ نے بدھ کو وفاقی حکومت کی طرف سے گلگت بلتستان کیلیے جاری پیکیج کا آرڈر2018 معطل کرنے اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کے گلگت بلتستان چیف اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کیخلاف وفاقی حکومت کی اپیل منظورکرلی۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان کے شہریوںکو بنیادی حقوق فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گلگت بلتستان کے لوگوںکو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو ملک کے دوسرے شہریوںکو حاصل ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کی کچی آبادیوں سے متعلق از خود نوٹس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کچی آبادیوں سے متعلق رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کی کچی آبادیوں میں تین ہزار 805 گھرآباد ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آبادمیںکچی آبادیاں نہیں بننی چاہئیں تھیں لیکن اگربن گئی ہیں تواب وہاں انسان رہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے وہاں جا کر خود دیکھاان آبادیوں میںاکثریت ہمارے اقلیتوں کے بھائیوں کی ہے جوگندے نالوںمیں رہتے ہیں، لوگوںکو رہائش دینا حکومت کا کام ہے۔چیئرمین سی ڈی اے عدالت میں پیش ہوئے اورکچی آبادیوں کی حالت زار بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی۔عدالت نے مزید سماعت پیرتک ملتوی کردی۔

Comments
Loading...