غزنی حملے میں پاکستان کے ملوث ہونےکا بھارتی الزام مسترد کرتےہیں، دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے غزنی حملہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بھارتی وزیراعظم کے الزام مسترد کرتے ہوئے  اسے من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

دفترخارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ افغانستان کے شہر غزنی میں ہونے والے حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بھارتی وزیراعظم کا بیان حقائق کے برخلاف اور جھوٹ پر مبنی ہے، غزنی میں حملے میں کسی پاکستانی کے ملوث ہونے کا ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہم ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارت کا آئی ایس آئی پر الزام لگانا کوئی نئی بات نہیں، اگر بھارت میں سیلاب یا طاعون کی وبا آئے تو اس کا ذمہ دار بھی آئی ایس آئی کو قرار دیا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کی موجودگی بھارتی وزیر اعظم کے دعوؤں کی نفی ہے، پاکستان کلبھوشن کیس عالمی عدالت انصاف میں لڑے گا۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے جہاں قابض فوج نے کشمیریوں کے خلاف ظلم و بربریت کا بازار گرم کررکھا ہے، اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تو اقوام متحدہ کے کمیشن آف انکوائری کا دورہ کرنے کی اجازت دے، انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے بھی یوم آزادی پاکستان منایا اور کئی مقامات پر پرچم کشائی کی جب کہ  بھارت کے یوم آزادی کو کشمیریوں نے یوم سیاہ کے طور پر منایا ہم سید علی گیلانی سمیت دیگر حریت راہنماؤں کی نظر بندی کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان عید الاضحی پر افغانستان میں جنگ بندی کا خیر مقدم کرے گا،پاکستان بار بار کہہ رہا ہے افغانستان کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے،انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2019 تک پاک افغان بارڈر باڑ کی تکمیل مشکل ہے جس کی وجہ پاک افغان بارڈر کی طوالت اور مشکل ترین ہونا ہو سکتی ہے۔ عمران خان کے خلاف بھارتی میڈیا کے واویلا پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی میڈیا کو بڑا ہونے کی ضرورت ہے۔

Comments
Loading...