’تنہا رہنے والی خواتین معاشرے کو تسلیم نہیں‘

انڈین فلم انڈسٹری میں ایسی بہت کم اداکارائیں ہیں جو اپنے کرداروں سے اتنی متعارف ہوتی ہیں کہ آپ کسی اور کو اس کردار میں تصور ہی نہیں کر سکتے۔ تبسم فاطمہ ہاشمی یعنی تبو ایسی ہی چند اداکاراؤں میں سے ایک ہیں۔

‘ماچس،’ ‘استِتو،’ ‘چاندنی بار’ اور ‘حیدر’ جیسی فلمیں اس کی ایک مثال ہیں۔ سنجیدہ سینیما میں انتہائی جذباتی اور سنجیدہ کرداروں کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرنے والی تبو نے جب پچھلے سال ‘گول مال اگین’ جیسی کامیڈی فلم کی تو لوگ حیران رہ گئے۔ لیکن شاید یہی ایک مضبوط اور باصلاحیت اداکار کی پہچان ہے کہ وہ اپنے مختلف کرداروں سے لوگوں کو محظوظ کرتے رہیں۔

46 سالہ تبو غیر شادی شدہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے معاشرے میں لوگوں کو یہ بات تسلیم کرنے میں دشواری ہوتی ہے کہ کوئی خاتون اپنی مرضی یا پسند سے تنہا رہنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔’تبو کی یہ بات کافی حد تک درست کہی جا سکتی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں جہاں لڑکی کو ہوش سنبھالتے ہی کہا جاتا ہے کہ وہ پرایا دھن ہے اسے کسی دوسرے کے گھر جانا ہے وہ کسی اور کی امانت ہے اب ایسے میں لڑکی ‘دوسرے کے گھر’ نہ جانے کا فیصلہ کرے تو سوال تو اٹھیں گے۔

اس طرح کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ صرف لڑکیوں میں ہی نہیں لڑکوں میں بھی تاکہ مجموعی طور پر معاشرہ ان روایات اور نظریات کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔

Comments
Loading...