صاف پانی کیس، چیف جسٹس نے شہبازشریف کوطلب کرلیا

صاف پانی ازخودنوٹس کیس، شہبازشریف کوآج پیش ہونے کاحکم
وزیراعلیٰ آکربتائیںکہ گندے پانی کی نکاسی کےلئے کیااقدامات کئے،لاہورکایہ حال ہے تو باقی شہروںکی کیاحالت ہوگی،لوگ آلودہ پانی پینے پرمجبور ہیں،ریمارکس ،پانی فروخت کرنےوالی کمپنیوںکے حوالے سے رپورٹ ایک ہفتے میں طلب
45ہزارمیں ایک گھرکابجٹ بناکردکھائیں، چیف سیکرٹری سے استفسار،لاہورکے سرکاری ہسپتالوں،ینگ ڈاکٹرزکی سہولیات،تنخواہوںکی شکایات کی رپورٹ طلب، فیصلوںپرعملدرآمدنہ کرنےوالے نتائج بھگتیں گے ،جسٹس ثاقب نثار

لاہور (آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار ، جسٹس منظور ملک اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے صاف پانی سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے وضاحت کےلئے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو آج گیارہ بجے طلب کرلیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں صاف پانی کیس کی سماعت کی،ایڈووکیٹ عائشہ حامدنے عدالت کے روبرو رپورٹ جمع کروادی ، جس میں انکشاف کیاگیاکہ روای میں لاہور کا 540ملین گیلن گنداپانی پھینکا جارہاہے جبکہ لاہور کا گندا پانی راوی میں پھینکاجارہاہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لاہورتوپنجاب کادل ہے، دل میں کیاپھینکاجارہاہے، حیرانگی کی بات ہے لاہورکی یہ صورت حال ہے تو باقی شہروں کاکیاحال ہوگا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کوفوری پیش ہونے کاحکم دیا،فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگرسندھ کاوزیراعلیٰ عدالت پیش ہوسکتا ہے توپنجاب کاکیوں نہیں،چیف سیکرٹری پنجاب نے کچھ دیر بعد بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مصروفیات کے باعث آج پیش نہیں ہوسکتے،انہوں نے استدعاکی کہ عدالت پیش ہونے کےلئے وقت دےں، جس پرعدالت نے صاف پانی کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو آج دن گیارہ بجے پیش ہونے کا حکم دیدیاہے جبکہ عدالت نے چیف سیکرٹری کوحکم دیاکہ صاف پانی سے متعلق سات روزمیں رپورٹ جمع کروائیں۔ دریں اثناءعدالت نے بوتلوں میں پانی فروخت کرنے کے حوالے سے کیس میں کمپنیوں کے پانی کے نمونے چیک کروانے کی ہدایت کی ہے۔ فاضل جج نے قرار دیا کہ غریب آدمی صاف پانی سمجھ کر پانی کی بوتلیں خریدتا ہے لیکن ان کو خریدا ہوا پانی بھی صاف نہیں مل رہا۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ہوا اور پانی زندگی کا اہم حصہ ہیںلیکن یہ دونوں چیزیں ہی میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمرہ عدالت کی ہوا کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی آلودگی ہو گی۔حکومت کو ان چیزوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔دریں اثناءچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی فل بنچ نے مرغیوں کو دی جانے والی خوراک سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے مرغیوں کو دی جانے والی خوراک اور بازار میں فروخت ہونے والے چکن کے نمونوں کے ٹیسٹ کروانے کا حکم دے دیا۔ فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عورتوں اور بچوں میں چکن کے استعمال سے ہارمونز میں تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں، عدالتی معاون نے بتایا کہ مرغیوں کی دی جانے والی خوراک میں قدرتی اجزاءشامل کرنے سے ہارمونز میں زیادہ فرق نہیں پڑتا، عدالت نے نمونوں کے ٹیسٹ کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی پولٹری فارمز سے مرغی اور اس کی خوراک کے نمونے حاصل کر کے ٹیسٹ کروائے گی۔ فاضل چیف جسٹس نے قرار دیا کہ ٹیسٹ رپورٹ سے پتہ چل جائے گا کہ چکن میں کون سے مضر صحت ہارمونز موجود ہیں اور کمیٹی کو 2 ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاںثاقب نثار نے فاسٹ فوڈز فروخت کرنے والی بین الاقوامی فوڈز چین کے استعمال شدہ تیل کی فروخت کی رپورٹ طلب کر لی۔ فاضل چیف جسٹس نے قرار دیا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب ڈی جی فوڈ، اسلام آباد منسٹری فوڈ کو اجینو موٹو کی درآمد کرنے والی کمپنیوں کے متعلق رپورٹ پیش کریں ۔ فاضل چیف جسٹس نے ڈی جی فوڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ذ مہ داری پوری نہیں کر سکتے تو کسی اور کو موقعہ دیں، یہ انسانوں کی صحت کا معاملہ ہے خاموش نہیں رہ سکتے ۔ ان سب معاملات کی ذمہ داری صوبے کی چیف ایگزیکٹو پر عائد ہوتی ہے، کل صوبے کے چیف ایگزیکٹو عدالت آئیں تو ان سے پوچھیں گے صحت کے معاملے پر کیا اقدامات کیے، چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری صاحب یہ سب آپکے ماتحت ہے ان چیزوں کو دیکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے ڈی جی فوڈ کو مچھلی فروشوں، حلوہ پوری، سموسے پکوڑے فروخت کرنے والوں کی دکانوں میں استعمال ہونے والے آئل کو چیک کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ ہنگامی طور وہ شہر کے ہوٹلوں میں چھاپے ماریں اور ان کا معیار چیک کریں فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم شہریوں کو کیا کھلا رہے ہیں، افسوس کی بات ہے کہ شہری ہیپاٹائٹس اور پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی مدد کے لئے بیٹھے ہیں کوئی مسئلہ ہو تو ہمیں بتائیں۔ کھانے پینے کی اشیاءمیں بہتری آنی چاہیے۔ عدالت نے اسلام آباد منسٹری فوڈ کو اجینو موٹو کی درآمد کرنے والی کمپنیوں کے متعلق رپورٹ 2 ہفتوں میں پیش کرنے کی بھی ہدایت کر دی۔ سپریم کورٹ نے تمام سرکاری ہسپتالوں کے ایم ایس سے مسائل کی رپورٹ کر لی جبکہ ینگ ڈاکٹرز کی سہولیات اور تنخواہوں کی شکایات کی بھی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جب ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے کو اہمیت نہیں دی جائے گی تو وہ کہاں جائیں گے، ریاست کو اپنے ملازمین کیلئے مالک نہیں بننا بلکہ کفالت کرنی ہے،عدالت اپنے دائرہ اختیار سے آگے نہیں جائے گی، ہم تو صرف آئین اور قانون پر عملدرآمد کرا رہے ہیں، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے والے نتائج بھگتیں گئے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے لاہور رجسٹری میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں زائد فیسوں کی وصولی ،سرکاری ہسپتالوں کی ناقص صورتحال اور ہسپتالوں کے ویسٹ کے حوالے سے کیسز کی سماعت کی ۔عدالتی حکم پر چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن (ر) زاہد سعید ، سیکرٹری صحت سمیت لاہور کے تمام ہسپتالوں کے ایم ایس عدالت میں پیش ہوئے۔جنرل سیکرٹری ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ ینگ ڈاکٹرز کو 45ہزار روپے ماہانہ وظیفہ ادا کیا جاتا ہے۔ جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نے استفسار کیا کہ چیف سیکرٹری صاحب ڈاکٹروں کا سروس سٹرکچر کیوں نہیں بنایا گیا، ڈاکٹرز جتنی تنخواہ لے رہے ہیں اتنی تنخواہ تو سپریم کورٹ کے ڈرائیور کی ہے، ڈاکٹرز راتوں کو جاگ کر پڑھتے اور ڈگری حاصل کرتے ہیں مگر انہیں آپ کیا تنخواہیں دے رہے ہیں، جب ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے کو اہمیت نہیں دی جائے گی تو وہ کہاں جائیں گے، آپ 45 ہزار روپے میں ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اگر ڈاکٹر کو موقع مل جائے تو وہ یورپ یا امریکہ چلا جاتا ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ریاست کو اپنے ملازمین کیلئے مالک نہیں بننا بلکہ کفالت کرنی ہے ہمارے علم میں ہے کہ عدالتیں فیصلہ کرتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ جاو¿ عملدرآمد بھی جج سے کراو¿، پرانی باتیں دہرانے کی بجائے آگے بڑھیں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ عدالت اپنے دائرہ اختیار سے آگے نہیں جائے گی، ہم تو صرف آئین اور قانون پر عملدرآمد کرا رہے ہیں، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے والے نتائج بھگتیں گئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈاکٹر عاصم کمرہ عدالت میں موجود ہیں جس پر ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ میں موجود ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان سے جانا نہیں آپ ہر پیشی پر عدالت حاضر ہوں، لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ صحت کے شعبہ میں خرابیوں کے ذمہ دار ہیں، اب ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ باہر جانے والوں کو بلانا کیسے ہے۔ ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ میں کہیں نہیں بھاگ رہا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ینگ ڈاکٹرز بالکل ہڑتال نہ بلکہ ہمیں اپنی شکایات تحریری طور پر دیں، رپورٹ کو آرٹیکل 190، 5، 204 کے تحت ریاست کی ذمہ داریوں کے پیرائے میں پرکھا جائے گا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کے حوالے سے کیس میں ریمارکس دیئے کہ چاہتے ہیں کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں اعلیٰ قسم کی ایمرجنسی ہوں جہاں پر اچھا نظام موجود ہو، 2، 2ماہ کے بچوں کو کیئر نہیں مل رہی، میں چلڈرن ہسپتال کا خود دورہ کروں گا اور دیکھا جائے گا کہ وہاں بچوں کو سہولیات میسر ہیں کہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سب نے ملکر ایک بہتر نظام تیار کرنا ہے، یہ آپ سب کی ذمہ داری اور فرض ہے کہ مریضوں کی خدمت کریں جس جذبے سے سپریم کورٹ نے ان معاملات کو دیکھا، آپکو بھی اسی جذبے سے کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہسپتال جسکو میں نے اپنے بچپن اور جوانی میں دیکھا اس کی حالت بھی بہتر کرنا چاہتا ہوں، بتایا جائے کس کس سرکاری ہسپتال میں بہتری لائی گئی ہے۔ ایم ایس سروسز ہسپتال نے بتایا کہ سروسز ہسپتال میں پہلے 400بیڈز تھے جنہیں بڑھا کر 614 کر دیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ لاہور میں آخری ہسپتال کب اور کہاں بنایا گیا؟۔ عدالت نے لاہور کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے ایم ایس سے مسائل کی رپورٹ طلب کر لی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہسپتالوں کے ویسٹ کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالتی کمیشن سے تعاون نہ کرنے پر سیکرٹری پرائمری اینڈ سپیشلائزز ہیلتھ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کام نہیں کر سکتے تو کہیں اور تبادلہ کروا لیں ،اگر آپ تبادلہ نہیں کروا سکتے تو ہم وزیراعلیٰ سے کہہ دیتے ہیں ۔دو ہفتے کا وقت گزرنے کے بعد آج صبح تین بجے عدالتی کمیشن کو رپورٹ دی ،آپ نے صبح رپورٹ دی جو ہمیں موصول ہی نہیں ہو سکی۔

Comments
Loading...