Official Web

سیلز ٹیکس نوٹسز، آئل ملز کی بندش سے کاٹن انڈسٹری کی بقا خطرے میں پڑ گئی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے سیلزٹیکس کے جاری کردہ نوٹسز پر متعدد آئل ملوں کی جانب سے اپنی پیداواری سرگرمیاں معطل کرنے کے باعث مقامی کاٹن جننگ انڈسٹری کی بقا بھی خطرے میں پڑگئی ہے۔

کاٹن جننگ سیکٹر کے باخبرذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر ایف بی آرنے ایس آر او 188 کے تحت کاٹن سیڈ آئل کی فروخت پر 2 فیصد اور آئل کیک (کھل بنولہ) کی فروخت پر5 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر کے کاٹن سیڈ کی فروخت کو فکسڈ سیلز ٹیکس سے مشروط کردیا تھا لیکن فکسڈ سیلزٹیکس کی معطلی اور اس معطلی کا اطلاق مذکورہ ایس آر او کے اجرا کی تاریخ 12مارچ2015سے کرنے کے سبب ایف بی آر کی جانب سے کمپوزٹ جننگ یونٹس اور آئل ملز کو رواں سال کے دوران کروڑوں روپے کے سیلز ٹیکس کے نوٹسز جاری کیے گئے جس کے نتیجے میں متعدد آئل ملز مالکان کی جانب سے بطوراحتجاج آئل ملز نہ چلانے کا فیصلہ کیا جس کے باعث ملکی کاٹن انڈسٹری کا مستقبل داؤ پر لگ گیاہے۔

کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ بیشتر آئل ملز مالکان نے ایف بی آر کی جانب سے ممکنہ طور پر اپنے بینک کھاتے منجمد ہونے کے خدشات پر اپنے بینک اکاؤنٹس سے تمام رقومات کا بھی انخلا کردیا اورایف بی آر کے جاری کردہ نوٹسز کے خلاف متعلقہ عدالت عالیہ سے حکم امتناعی بھی حاصل کرلیا ہے، اس صورتحال کے پیش نظر مقای کاٹن انڈسٹری میں زبردست تشویش کی لہرپائی جارہی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ ایف بی آر نے 12 مارچ 2015 کو ایک ایس آر او نمبر 188 کا اجرا کرتے ہوئے کاٹن سیڈ آئل کی فروخت پر عائد 2 فیصد اور آئل کیک (کھل بنولہ) کی فروخت پر 5 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر کے فی 40 کلوگرام کاٹن سیڈ کی فروخت پر 6 روپے فکسڈ سیلز ٹیکس عائد کیا تھا تاہم مذکورہ ایس آر او کے اجرا کے کچھ ہی عرصے بعدسندھ اور پنجاب کے کچھ کاٹن جنرزنے سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں رٹ دائر کی۔

ان کاٹن جنرز اورآئل ملز مالکان کے موقف سے اتفاق کیالیکن ایف بی آر نے ان عدالتی فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرتے ہوئے ہائی کورٹس کے فیصلے معطل کرنے کی اپیل کی تاہم سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ایس آر او 188 بتاریخ 12 مارچ 2015 کو اس ایس آر او کی منظوری وفاقی کابینہ سے نہ ہونے کے باعث اس کی تاریخ اجرا سے ہی منسوخ کر دیا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایف بی آر نے کروڑوں روپے سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے نوٹسز جاری کر دیے لہٰذا انہوں نے فوری طور پر مختلف ہائی کورٹس سے ان نوٹسز کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرتے ہوئے بیشتر آئل ملز مالکان نے رواں سال آئل ملز نہ چلانے کا فیصلہ کیا ۔

Comments
Loading...