Official Web

ہفتہ رفتہ ؛ روئی کی قیمتوں میں 100 تا 200 من تک اضافہ

کراچی: 

 مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے ٹیکسٹائل واسپننگ ملوں کی روئی کی بڑھتی ہوئی خریداری سرگرمیوں اورمارکیٹ میں پھٹی کی رسد میں بتدریج اضافے کے باوجود روئی کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان غالب رہا جبکہ کاروباری حجم میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ہفتے وارکاروباری کے دوران فی من روئی کی قیمت میں 100 تا 200 روپے کا اضافہ ہوا جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی کی جانب سے فی من روئی کی اسپاٹ قیمت 250 روپے کے اضافے سے 8250 روپے پر بندکیاگیا۔

صوبہ سندھ میں فی من روئی کی قیمت 8150 تا 8225 روپے رہی اورفی40 کلوگرام پھٹی کی قیمت 3700 تا 3900 روپے رہی جبکہ صوبہ پنجاب میں فی من روئی کی قیمت 8300 تا 8400 روپے اورفی 40 کلوگرام پھٹی کی قیمت 3500 تا 3800 روپے رہی اسی طرح صوبہ بلوچستان میں فی من روئی کی قیمت 8150 تا 8250 روپے فی 40 کلوگرام پھٹی کی قیمت 3800 تا 4000 روپے رہی، کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چئیرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ محرم الحرام کے بعد روئی کی رسد میں اضافہ ہوگا جسکے نتیجے میں دیگرمتعدد جننگ فیکٹریاں بھی فعال ہوجائیں گی۔

روئی کی جننگ انڈسٹری کی فعالیت کے سبب کاروباری حجم میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے اور ٹیکسٹائل مصنوعات اور کاٹن یارن کی طلب اور قیمت میں ممکنہ کمی کے باعث روئی کی قیمتوں میں بھی کمی کے امکانات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گیس ٹیرف میں 46 فیصد اضافے کے باعث پہلے سے بحران میں مبتلا شعبہ ٹیکسٹائل سیکٹرمزیدزبوں حالی کا شکارہوجائے گا،گیس ٹیرف میں مزکورہ اضافے کے خلاف شعبہ جاتی بنیادوں پرٹیکسٹائل سیکٹرز کی متعدد ایسوسی ایشنزکی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ گیس ٹیرف میں مزکورہ اضافے کو واپس لینے کے احکام جاری کرے۔

دریں اثنابین الاقوامی سطح کی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کی قیمتوں میں مجموعی طور پر کمی کا عنصرنمایاں رہا، نسیم عثمان نے بتایا کہ روئی کی قیمتوں میں عالمی سطح پر مندی کے علاوہ نیویارک کاٹن مارکیٹ، بھارت میں بھی اتار چڑھاؤ کے بعد مندی رہی جبکہ برازیل میں روئی کی قیمتوں میں اضافے کی بازگشت ہے کیوں کہ وہاں سے چین روئی کی درآمد کر رہا ہے۔

انٹرنیشنل کاٹن کراپ ایڈوائزری کمیٹی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مالی سال19-2018 کی سیزن میں دنیا میں کپاس کی پیداوار کے حامل ممالک میں روئی کی پیداوار میں 3 فیصد کمی کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ اسکے برعکس کھپت میں3 فیصد کا اضافہ متوقع ہے، اسی طرح روئی کے اسٹاک میں بھی 10 فیصد کمی کی پیشگوئی کی گئی ہے خصوصی طور پر چین میں روئی کے اسٹاک میں30 فیصد تک کی کمی کے امکانات ہیں۔

بین الاقوامی کاٹن مارکیٹس میں مجموعی طورپر روئی کے بھاؤ میں استحکام رہے گا یا اضافہ ہوگا۔ ملک میں کپاس کی پیداوار کا نظر ثانی تخمینہ لگانے کیلئے 12 ستمبر کو اسلام آباد میں کاٹن کراپ ایسسمنٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں کپاس کا نظر ثانی شدہ تخمینہ لگایا جائے گا جبکہ 18 ستمبر کو پی سی جی اے کی جانب سے کپاس کی پیداوار کی پہلی رپورٹ جاری کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ بھارت میں اب بمبئی اسٹاک ایکسچینج میں بھی روئی کے وعدے کے کاروبار کی اجازت دی گئی ہے نئے پاکستان کی نئی حکومت کے ٹیکسٹائل سیکٹر کے ایڈوائیزر جناب عبدالرزاق داؤد سے استدعا کی جاتی ہے کہ ملک کی معیشت کے وسیع تر مفاد میں فوری طورپر کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کی ہیج ٹریڈنگ شروع کرنے کی اجازت صادر کرے۔

Comments
Loading...