Official Web

سپریم کورٹ نے ایل این جی معاہدے کی تمام تفصیلات طلب کرلیں

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں قطر کے ساتھ لیکیوفائڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی خریداری سے متعلق معاہدے کی تمام تفصیلات فوری طلب کرلیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایل این جی معاہدے کے خلاف شہری کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ مہنگے داموں ایل این جی درآمد کا معاہدہ کیا گیا جس سے ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘کیا نیب کا کوئی نمائندہ عدالت میں موجود ہے’ جس پر عدالت کو نفی میں جواب ملا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کا کوئی نمائندہ یہاں موجود ہونا چاہیے۔

عدالت نے نیب سے کیس کی انکوائری کی تفصیلات فوری طلب کرتے ہوئے سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کردیا۔

قطر اور پاکستان کے درمیان ایل این جی معاہدے پر دستخط۔ فوٹو: فائل

یاد رہے کہ نواشریف کے دور حکومت میں سابق وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطر کے ساتھ ایل این جی درآمد کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے تحت پاکستان 16 برسوں تک ملک کی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے گیس خرید سکے گا۔

امریکی جریدے ‘بلوم برگ’ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ایل این جی کی ڈیل کی وجہ سے 10 سال میں 61 کروڑ ڈالر بچائے گا جب کہ سینیٹ کی پیٹرولیم کمیٹی کے سربراہ اور تحریک انصاف کے رہنما محسن عزیز نے سینیٹ میں رپورٹ پیش کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے قطر سے دو سال تک مذاکرات کیے مگر قطر نے گیس کی قیمت کم کرنے سے انکار کیا تو مذاکرات جمود کا شکار ہو گئے۔ اس موقع پر 2015 میں پاکستان نے اوپن مارکیٹ سے مائع گیس کے 120 کارگو خریدنے کا ٹینڈر جاری کیا۔ جس پر رائل ڈچ شیل، سوئٹزرلینڈ کی گن وور اور برٹش پٹرولیم نے گیس سپلائی کی پیشکشیں کیں۔

سب سے سستی پیشکش گن وور نے کی۔ اس موقع پر قطر نے مذاکرات پھر سے شروع کر دیے اور پاکستان سے کہا کہ وہ اس قیمت پر مائع گیس فراہم کرنے کو تیار ہے جس کی پیشکش گن وور نے کی ہے۔ یوں پاکستان کو 61 کروڑ ڈالر کی بچت ہوگی۔

قطر سے کیے جانے والے معاہدے کی تفتیش جو سینیٹ کمیٹی کر رہی تھی اس کے سربراہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر محسن عزیز ہیں۔

Comments
Loading...