Official Web

لودھراں ضمنی انتخاب ، قواعدو ضوابط کی خلاف ورزیاں مشاہدہ کی گئیں: فافن

اسلام آباد(نیوزرپورٹر) لودھراں کے قومی حلقہ این اے 154 کے ضمنی انتخابات پولنگ ڈے پر ووٹرز کو غیر قانونی طور پر قائل کرنے،ووٹنگ کی مشکوک رفتار اور پولنگ سٹیشنوں کے اندر اور باہر غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات سے متاثر دکھائی دیئے ، مجموعی انتخابی عمل پر امن رہا ، ووٹنگ کی مجموعی شرح تقریبا 45.4 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کی جانب سے پیر کو جاری انتخابی مشاہدہ رپورٹ کے مطابق انتخابی عمل کے دوران زیر مشاہدہ پولنگ سٹیشنوں پر انتخابی قواعدو ضوابط کی خلاف ورزیوں کی اوسط شرح فی پولنگ سٹیشن 2.7 مشاہدہ کی گئی جو کہ گزشتہ ماہ چکوال میں پی پی 20 کے ضمنی انتخابات سے کچھ زیادہ ہے۔ فافن کے مطابق مشاہدہ کاروں نے پولنگ ڈے پر پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر غیر قانونی انتخابی مہم کی 99 خلاف ورزیاں نوٹ کیں۔ مشاہدہ کی گئی دیگر خلاف ورزیوں میں سے 90 کا تعلق ضروری انتخابی سامان جیسا کہ بیلٹ بکس، گنتی کے فارمز اور پیکٹس کو سر بمہر کرنیوالے مواد کی دستیابی بارے ہے۔ مزید برآں مشاہدہ کاروں نے ووٹرز کی شناخت کے عمل سے متعلقہ 77 خلاف ورزیاں رپورٹ کیں، رپورٹ کی جانیوالی خلاف ورزیوں میں سے 26 کا تعلق ووٹ کی رازداری، 21 کا پولنگ سٹیشنز کی سیکیورٹی اور 11 کا دیگر انتخابی عمل کیساتھ تھا۔ علاوہ ازیں سیکیورٹی اہلکاروں نے فافن کے 12 مشاہدہ کاروں کو الیکشن کمیشن کا ایکریڈیشن کارڈ ہولڈر ہونے کے باوجود پولنگ سٹیشنز کے اندر جا کر ووٹنگ اور گنتی کا عمل مشاہدہ کرنے سے روکا۔ فافن نے اس ضمنی انتخاب کی پولنگ ڈے مشاہدہ کاری کا عمل 31 مرد اور 19 خواتین مشاہدہ کاروں سمیت 50 تربیت یافتہ غیر جانبدار مشاہدہ کاروں کے ذریعے انجام دیا۔ ہر ایک مشاہدہ کار نے زیر مشاہدہ ہر ایک پولنگ سٹیشن پر 60 سے 120 منٹ صرف کئے اور اپنے مشاہدات الیکشن ایکٹ 2017 کےقواعدو ضوابط اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہینڈ بک میں درج ہدایات کی روشنی میں تیار ایک معیاری چیک لسٹ پر درج کئے۔یہ ابتدائی رپورٹ رپورٹ حلقے میں قائم کل 338 پولنگ سٹیشنز میں سے زیر مشاہدہ 122 (36 فیصد) پولنگ سٹیشنز کے مشاہدہ پر مبنی ہے۔ فافن کے مشاہدہ کاروں نے19 پولنگ سٹیشنوں کے 21پولنگ بوتھوں پر ووٹنگ کی شرح میں غیر معمولی تیز ی کا مشاہدہ کیا جہاں مشاہدہ کے دوران 45 سے زیادہ ووٹ فی گھنٹہ پول کئے گئے جبکہ کسی بھی پولنگ بوتھ پر ایک گھنٹے میں 45 سے زیادہ ووٹ پول نہیں کرائے جا سکتے۔ ووٹنگ کی سب سے زیادہ شرح ایک پولنگ سٹیشن کے ایک پولنگ بوتھ پر مشاہدہ کی گئی جہاں ایک گھنٹے میں 93 ووٹ پول کئے گئے۔ مشاہدہ کاروں نے دو پولنگ سٹیشنوں پر فارم 45 (گنتی فارم) کی تعداد امیدواروں کی تعداد سے کم مشاہدہ کی اسی طرح پانچ پولنگ سٹیشنوں پر بیلٹ پیپر کی گنتی کا فارم 46 بھی امیدواروں کی تعداد کے مطابق نہ پایا گیا۔79 پولنگ سٹیشنوں پر بیلٹ بکس کی تعداد رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سے مطابقت نہ رکھتی تھی جبکہ چار پریذائیڈنگ آفیسرز نے پیکٹس کو سر بمہر کرنیکا مواد نہ ملنے کی رپورٹ کی۔ مشاہدہ کاروں کے مطابق زیر مشاہدہ 240 پولنگ بوتھوں میں سے 74 پولنگ بوتوں پر پولنگ آفیسر زووٹرز کی شناخت کیلئے بآواز بلند نام نہیں پکار رہے تھے جس کی وجہ سے پولنگ ایجنٹس کو ووٹر کی شناخت میں مسائل کا سامنا رہا، جبکہ تین پولنگ بوتھوں پر مشاہدہ کاروں نے رپورٹ کیا کہ انتخابی عملہ شناخت شدہ و وٹرزکے نام پر خط تنسیخ نہیں پھیر رہے تھے جبکہ پولنگ ایجنٹس کو بھی پولنگ بوتھ کے قریب بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ووٹنگ کا عمل جانچنے مین مشکلات کا سامنا تھا۔ مشاہدہ کاروں نے ووٹرز کی رازداری کی خلاف ورزی کے 26 واقعات رپورٹ کئے جبکہ 28 پولنگ سٹیشنز پر مختلف جماعتوں کے امیدواروں کے انتخابی کیمپ مقررہ حد 400 میٹر کی حدود کے اندر دیکھے گئے جبکہ 46 پولنگ سٹیشنز پر امیدواروں کی طرف سے ووٹرز کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنیکا عمل بھی مشاہدے میں آیا۔ فافن کے مشاہدہ کاروں نے چھ پولنگ سٹیشنز کی دیواروں پر امیدواروں کی طرف سے چسپاں انتخابی مواد بھی مشاہدہ کیا گیا۔ مشاہدہ کاروں نے متعدد پولنگ سٹیشنز پر جگہ کی تنگی مسائل دیکھے جبکہ بستی رسالہ کے ایک پرائمری سکول میں قائم تین پولنگ سٹیشن ایسے پائے گئے جن میں 11 بوتھ بنائے گئے تھے جن پر تفویض کئے گئے ووٹرز کی تعداد 4178 تھی۔الیکشن کمیشن نے اس حلقے میں 338 پولنگ سٹیشن قائم کئے جن میں مردوں اور خواتین کیلئے 49،49 جبکہ 240 پولنگ سٹیشنز مردو خواتین کے مشترکہ پولنگ سٹیشنز قرار دیئے گئے ۔ ان پولنگ سٹیشنز پر مردوں کے 566اور خواتین کے 477 پولنگ بوتھ سمیت مجموعی طور پر 1043 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے۔۔ ضلع لودھراں کی تین تحصیلوں میں پھیلے اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 431002 ہے جن میں 236496 (55 فیصد) مرد اور194506 (45 فیصد) خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ حلقے میں ووٹرز کی یہ تعداد عام انتخابات 2013 کے مقابلے میں 60852 یا 16 فیصد زیادہ ہے جبکہ اس عرصے میں نئے درج ہونیوالے ووٹرز میں مردوں کا تناسب 15 اور خواتین کا 18 فیصد بنتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ نشست 15 دسمبر 2017 کو عدالت عظمیٰ کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی جہانگیر خان ترین کو نا اہل قرار دینے کے باعث خالی قرار دی گئی۔فافن نے اس حلقے میں قبل از الیکشن مشاہدہ کاری بھی کی اور اس دوران پاکستان مسلم لیگ(ن)،پاکستان تحریک انصاف اور دیگر امیدواروں کی طرف سے نہ صرف انتخابی مہم کی خلاف ورزیوں کو نوٹ کیا بلکہ پولنگ ڈے سے 12 گھنٹے قبل اسکی رپورٹ ذرائع ابلاغ کیلئے بھی جاری کی اس رپورٹ کے مطابق مشاہدہ کاروں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق برائے امیدواران کی متعدد خلاف ورزیوں کوریکارڈ کیا، جن میں ن لیگ کی طرف سے ووٹرز کو ووٹ کے بدلے نوکریوں کی فراہمی کے وعدے اور لودھرا ں و بہاولپور کے درمیان سپیڈو بس سروس کا اجرا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر کی طرف سے حلقے میں مفت طبی کیمپوں کا انعقاد کیا گیا۔

Comments
Loading...