Official Web

حکومت کے پاس عہدے پرکرنے کااختیارنہیں،وزیراعظم کے مرضی سے تقرریوںکے اختیارات کاجائزہ لیںگے، سپریم کورٹ ،نیب کوقاسمی تعیناتی کیس کی تحقیقات کاحکم اصلاحات کاوقت آگیا،غلطیاں ٹھیک کرینگے،چیف جسٹس

قاسمی کی بطورچیئرمین پی ٹی وی نامزدگی کیسے ہوئی؟فواد حسن فواد کدھر ہے؟ آپ ہی سب کچھ چلارہے تھے،، چیف جسٹس کااستفسار، پرنسپل سیکرٹری نے کہاجی میںفوادحسن فواد ہوں،جسٹس ثاقب نے کہاپیچھے ہوکرکھڑے ہو
پرویز رشید کا قاسمی کو بطور چیئرمین نام پیش کرنے کا اعتراف،پروگرامز کی ویڈیو طلب،دیکھنا ہے اس میںکون سے گوہر نایاب ڈھونڈے گئے؟مقدمہ زیرالتواءہے موجودہ سیکرٹری اطلاعات کو عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا،ریمارکس
اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرکاری ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر ادیب عطاءالحق قاسمی کو بھاری معاوضے اور مراعات دینے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہاہے کہ امریکہ کے صدر کو کھوکھا الاٹ کرنے کا اختیار نہیں، یہاں لوگوں کو بڑی بڑی پوسٹوں سے نوازاجاتاہے۔سپریم کورٹ نے ایم ڈی پی ٹی وی تقررکیس میں پرنسپل سیکریٹری وزیر اعظم فواد حسن فواد کو طلب کیا۔ عدالت کی ہدایت پر فواد حسن فواد ساڑھے گیارہ بجے پیش ہوئے۔سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کمرہ عدالت میں موجود رہے۔پیر کو سپریم کور ٹ میں ایم ڈی پی ٹی وی تقررکیس کی سماعت کے دو ران سرکاری وکیل رانا وقار نے بتایاکہ عطاالحق قاسمی کے تقررکے دو حصے ہیں۔چیف جسٹس نے پوچھاکہ عطاالحق قاسمی کی تعیناتی کی نوٹیفکیشن دکھائیں ،تقرری کانوٹیفکیشن کس نے بھیجا تھا۔ سرکاری وکیل نے بتایاکہ تقرری کی سمری وزارت اطلاعات نے بھیجی۔چیف جسٹس نے کہاکہ سمری سے قبل کسی نے نوٹ بھیجا ہوگا۔چیئرمین کاعہدہ خالی ہے ،ایم ڈی پی ٹی وی کاعہدہ تاحال خالی ہے ،محمدمالک کے جانے کے بعد یہ عہدہ خالی ہے،ہمیں یہ بتائیں عطاالحق قاسمی کی تقرری کاعمل کہاں سے شروع ہوا ،کیاوزیراعظم سے کوئی ہدایات آئیں ،ہمیں اصل سمری دکھائیں ،اگر تقرری غیرقانونی ہے تواسے غیرقانونی قرار دیں گے، اگرتقرری غلط ہوئی تو پیسے ان سے وصول کریں گے جنھوں نے تقرری کی،جنہوں نے عہدے کافائدہ لیارقم ان سے وصول ہوگی،حکومت کے پاس عہدے پر کرنے کااختیار نہیں ہے،امریکہ کے صدر کوکھوکھاالاٹ کرنے کااختیار نہیں ،یہاں بڑی بڑی پوسٹوں سے نوازاجاتاہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ کدھر ہے فواد حسن فواد؟آپ ہی سب کچھ چلارہے تھے۔پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم نے کہاکہ جی میں فواد حسن فواد ہوں۔چیف جسٹس نے کہاکہ پیچھے ہو کر کھڑے ہو۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تمہاری پروموشن اب گریڈ بائیس میں ہوئی ہے۔جب یہ سب ہوا تم گریڈ اکیس میں تھے۔ فواد حسن فواد نے کہاکہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ گریڈ بائیس کا نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیوں نہ یہ معاملہ نیب کوبھیج دیں ،نیب انکوائری کر کے جائزہ لے کیاتقرری قانونی تھی ،ہمارے پاس تحقیقات کرانے کااختیار ہے،کیوں نہ نیب تحقیقات کرے کہ تقرری میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں یانہیں۔سابق سیکرٹری اطلاعات نے بتایاکہ وزارت اطلاعات کی جانب سے تقرری کی سمری وصول ہوئی۔ سابق ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات نے کہاکہ میرے پاس سمری آئی پی ونگ سے آئی تھی ،چیف جسٹس نے پوچھاکہ کس نے سمری بھیجی تھی ،آئی پی ونگ کوسمری کس نے بنانے کاکہا۔ چیف جسٹس نے پوچھاکہ سمری کس نے جاری کروائی کہ عطاالحق قاسمی کوممبر بورڈ بنادیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات نے کہاکہ بورڈ کاایک ممبر میڈیاسے ہوتاہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ مجھے سمری موو کرنے والے کانام بتائیں، اگر یہاں جھوٹ بولا تو واپس سیکرٹریٹ نہیں جاو گے۔جس پر فواد حسن فواد نے کہامیں نے کبھی غلط بیانی سے کام نہیں لیا۔چیف جسٹس بولے یہ وضاحت کیوں دینی پڑ رہی ہے،کیا آپ پر کسی نے الزام لگایا ہے،ہم سے دوسری بات نہ کریں،فواد حسن فواد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی غلط بیانی نہیں کی،مجھے وضاحت کرنے کا موقع دیں،میری طرف سے ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات کو کوئی ہدایت نہیں دی گئی،وزیراعظم آفس سے بھی کوئی ہدایات اطلاعات کی وزارت کو نہیں دی۔اس موقع پر عطاالحق قاسمی کی وکیل عائشہ حامد بولیں کہ ان کے موکل کا میڈیاٹرائل ہو رہاہے ،عدالت کوبتایاگیا ہے عطاالحق قاسمی نے 27کروڑ خرچ کیے حالانکہ عطاالحق قاسمی نے 48لاکھ وصول کیے،جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ دیکھ لیتے ہیں اس کی تحقیقات کروالیتے ہیں لاکھوں روپے پٹرول کی مد میں وصول کیے گئے،اس دوران دوبارہ عطا الحق قاسمی کی وکیل بولیں کہ 27کروڑ روپے کی رقم عطاءا لحق قاسمی سے منسوب کرناان کی بدنامی ہے تو جسٹس اعجاز الاحسن بولے 27 کروڑ عطاءالحق قاسمی کی ایماءپر خرچ ہوئے ،چیف جسٹس بولے عطاالحق قاسمی کوسرکاری گھر میں لفٹ بھی لگواکردی گئی یہ ساری باتیں تحقیقات میں سامنے آجائیں گی،اگریہ رقم زیادہ اداہوئی توسب کورقم بھرناپڑے گی جس نے تقرری کی ہے سب سے رقم وصول کریں گے ،اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی رانا وقار نے عدالت سے درخواست کی کہ نیب کے آنے سے قبل انکی وضاحت سن لی جائے،ڈی جی آئی پی ونگ ناصرجمال نے سمری موو کی تھی،جس پر عدالت نے عطاالحق قاسمی کا پانچ سال کا ریکارڈ طلب کرلیا اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے مجھے وہ بندہ چاہیے جس کو عطاالحق قاسمی کے نام کاخیال آیا،اور ڈی جی آئی پی کوطلب کرلیااور کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے کو بھی طلب کرلیتے ہیں،تو سیکرٹری اطلاعات بولے27کروڑ کے اخراجات کی تفصیل میں تمام اخراجات شامل ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عطاالحق قاسمی نے تنخواہ کی مد میں کتنی رقم وصول کی۔سیکرٹری اطلاعات نے جواب دیا کہ عطاالحق قاسمی کی تنخواہ 15لاکھ تھی،ساڑھے تین کروڑ روپے تنخواہ2سال میں وصول ہوئی،چیف جسٹس نے کہا کہ ساڑھے تین لاکھ میڈیکل اخراجات ہیں؟سفری اخراجات 10لاکھ روپے ہیں عطااالحق قاسمی کومرسڈیز کار دی گئی، عطاالحق قاسمی کی گاڑی کی دیکھ بھال کے اخراجات کیسے اور کس قانون کے تحت دئیے گئے2سال میں 24لاکھ کے اخراجات تفریح کی مد میں ہیںلاہور کے کیمپ آفس میں کتنے اخراجات آئے؟تو سیکرٹری اطلاعات نے عدالت کو بتایا کہ 11 لاکھ روپے کیمپ آفس کے اخراجات آئے،پروگرام کے اخراجات 75 لاکھ روپے کے نزدیک تھے،اس دوران عطائ الحق قاسمی کی وکیل عائشہ حامد بولیں اور عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے پروگرام کرنے کا معاوضہ نہیں لیا، جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار بولے پروگرام کے میزبان کو 50 لاکھ روپے دیئے گئے،عطاءالحق قاسمی کے پروگرام کے اشتہار کہاں دیئے گئے،جس پر سیکرٹری اطلاعات نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عطا الحق قاسمی کے پروگرام کے مختلف اخبارات میں اشتہار دیئے گئے،پی ٹی وی کا دیگر میڈیا اداروں کےساتھ اشتہارات کا بارٹر سسٹم کے تحت معاہدہ ہے،اشتہارات کے جواب میں اخبارات کے 4532 پرومو چلائے گئے،عطا الحق قاسمی کی وکیل بولیں کہ بطور چیئرمین 15 لاکھ کی تنخواہ بلاجواز نہیں ہے، تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ وزیر اعظم کے پاس قانون کے تحت کام کا اختیار ہے،دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کے پاس لاتعداد اختیارات ہے جس کو مرضی تقرری کر دیں، اصلاحات کا وقت آگیا ہے،جہاں جہاں غلطیاں ہوئی ہیں اصلاح کریں گے،عطاالحق قاسمی کے نام کا خیال یا خواب کیسے آیا،موجودہ سیکرٹری اطلاعات کو عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا،سیکرٹری ایمانداری کے ساتھ کام کریں تو عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے،اس دوران چیف جسٹس نے ایف بی آر حکام کو ہدایت کرتے ہوئے عطا الحق قاسمی کے دس سال کے ٹیکس گوشواروں کا ریکارد بھی طلب کیا،اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار بولے کہ پی ٹی وی کارپوریشن کے 7 ڈائریکٹرز ہیں،تمام ڈائریکٹرز کا تقرر وفاقی حکومت کرتی ہے، تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی وی کے ڈائریکٹر کے لئے کوئی اہلیت ہے،کیا کابینہ سے ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی منظوری لی گئی،جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ چئیرمین کی تقرری کی منظوری وزیر اعظم نے دی،وزیر اعظم نے یہ منظوری بطور چیف ایگزیکٹو دی،عطاءالحق قاسمی کا تقرر بطور ڈائریکٹرز ہوا تھا،پی ٹی وی بورڈ نے عطائ الحق قاسمی کو چیئرمین منتخب کیا،جس پر جسٹس اعجازالاحسن بولے کہ بورڈ کو بتایا گیا عطاالحق قاسمی کو وزیراعظم چیئرمین لگانا چاہتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ عطاءالحق قاسمی کے پروگرام کی ویڈیو بھی منگوا لیں،پی ٹی وی بورڈ میٹنگ کا ریکارڈ بھی منگوا لیں،عطائ الحق قاسمی کی تنخواہ کس نے فکس کی یہ بھی منگوا لیں،دیکھنا ہے پروگرام میں کون سے کھوئے گوہر نایاب ڈھونڈے گئے،بورڈ کے الیکشن دیکھا دیں جس میں چئیرمین منتخب کیا گیا،جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جنوری 2016 میں بورڈ کی میٹنگ ہوئی،اس موقع پر دوبارہ چیف جسٹس نے پوچھا کہ جس شخص نے عطا الحق قاسمی کا نام پیش کیا اسکا نام بھی بتا دیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پی ٹی وی کے لئے پروفیشنل ایم ڈی ہونا چاہیے، بظاہر پی ٹی وی ایک ڈوبتا ہوا جہاز ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ عطاالحق قاسمی کی 15 لاکھ تنخواہ کس نے مقرر کی،قانون میں چیئرمین کی تنخواہ اور مراعات کیاہیں،وزارت اطلاعات کی آفیسر صبا محسن نے عدالت کو بتایا کہ کہ پہلے چیئرمین ایک آفیشو ہوتے تھے صبامحسن،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عطاالحق قاسمی کی تنخواہ من مرضی سے مختص کی گئی،کیا بادشاہ ہے جتنی مرضی تنخواہ مقرر کردی گئی،جسٹس اعجاز الاحسن بولے چئیرمین کاعہدہ تواعزازی ہوتاہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ توسیدھاساددھانیب کاکیس ہے نیب نے دس دن میں کیس کی تحقیقات کرکے رپورٹ دے،اس دوران سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ پی ٹی وی جب شروع ہواتو نیوز چینل تھا،میں وزیربناتوپی ٹی وی پروگرام مارکیٹ سے خریدتاتھا،کوشش تھی کہ پی ٹی وی اپنی پروڈکشن کرے اس دوران پرویز رشید نے عطاالحق قاسمی کا نام بطور چیئرمین تجویز کرنے کا اعتراف کیا،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عطاالحق قاسمی کی کارکردگی پرکوئی بات نہیں کررہے ،ہم صرف قانون کی حکمرانی دیکھ رہے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عطاالحق ادبی آدمی ہیں وہ کمپنی کیسے چلاسکتے ہیں ،پرویز رشید نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی چلانے کی کی ذمہ داری چیف ایگزیکٹو کی تھی،چیف جسٹس نے کہا کیاپی ٹی وی کوچلانے کے لیے پروفیشنل آدمی نہیں تھا،عطاالحق قاسمی کومینجمنٹ کاتجربہ نہیں تھا،سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ میری کوشش تھی ایسا چیئرمین لگایاجائے جوپی ٹی وی کوکلچرل ویلیو کوبحال کرے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ جو گفتگو کررہے ہیں اس کے قانونی نتائج ہوں گے،اس دوران چیف جسٹس نے ناصر جمال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا تھا کہ آپ اس سارے معاملے میں معصوم ہیں۔لیکن اب لگتا ہے آپ بھی اس سارے معاملے کا ایک پارٹ ہیں۔صبا محسن۔ ناصر جمال۔اپنے جواب اور بیان حلفی عدالت میں جمع کرائیں،چیف جسٹس نے کہا کہ قاسمی صاحب کب سے کب تک پی این سی اے میں سربراہ رہے اور کس کے وقت میں رہے۔ تفصیلات فراہم کی جائیں،سابق وفاقی وزیر پرویز رشید نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ اپنا جواب اور گزارشات عدالت میں جمع کرواچکے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ تمام دستاویزات منگوا لیتے ہیں اس کیس کا فیصلہ خود کریں گے،تمام فریقین اپنا جواب جمع کروا دیں،اس دوران عدالت کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ مقدمہ زیر التوا ہے سیکرٹری اطلاعات کو عہدے سے نہ ہٹایا جائے،جبکہ فواد حسن فواد کو روسٹرم پر بلا لیا اور چیف جسٹس نے فواد حسن فواد سے پوچھا کہ پرنسپل سیکرٹری کی کیا ذمہ داریاں ہیں،اور کہا کہ آپ صاف ستھرے بیورو کریٹ ہیں۔کیا آپ نے یہ سمری دیکھی تھی۔جس پر فواد حسن فواد نے کہا کہ انھوں نے ان کو چیئر مین بنانے کا حکم نہیں دیا،جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ نیب ریکارڈ کا جائزہ لے جسکے بعد کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔۔

Comments
Loading...