ٓٓانتخابی اصلاحات کیس،سینیٹ ٹکٹس پارٹی سربراہ دے رہاہے ،فیصلہ خلاف آیاتوکیاہوگا،سپریم کورٹ

عدالت نے فیصلہ خلاف دیاتوسینیٹ ٹکٹس دئیے جارہے ہیں ان کاکیاہوگا؟چیف جسٹس کے نااہل شخص کوپارٹی سربراہ بنانے کیخلاف درخواستوںکی سماعت کے دوران ریمارکس، لیگی وکیل کی عدم پیشی پرکیس آج تک ملتوی
جسٹس ثاقب نثار کاشاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کوگرفتاری کے دوروزبعدہی کمرکی تکلیف کے باعث ہسپتال منتقل کرنے کانوٹس لے لیا، آئی جی جیل خانہ جات سے 24گھنٹے میںرپورٹ طلب
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے نااہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کیخلاف درخواستوں کی سماعت مسلم لیگ ن وکیل سلمان اکرم راجہ کی عدم پیش پر آج بدھ تک ملتوی کردی ۔کیس کی مختصر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سارے ٹکٹس پارٹی ہیڈ جاری کررہاہے، اگرعدالت نے فیصلہ خلاف دیا توسینٹ ٹکٹس دئیے جارہے ہیں ان کاکیاہوگا، بعد ازاں عدالت نے سلمان اکرم راجہ کیس تیار کرکے آنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج بدھ تک ملتوی کردی۔جب کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے شاہزیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کو ہسپتال منتقل کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات سے 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے۔تفصیلات کے مطابق یکم فروری کو سپریم کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس سے متعلق سول سوسائٹی کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت سجاد تالپور اور سراج تالپور کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔گرفتاری کے بعد اگلے ہی روز شاہ رخ جتوئی کو اسلام آباد سے کراچی منتقل کر دیا گیا تھا جہاں دو روز بعد ہی کمر کی تکلیف کے باعث شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم کو جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔جس کا چیف جسٹس ثاقب نثار نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں سیشن جج جنوبی کی عدالت نے شاہزیب قتل کیس میں نامزد شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کو ضمانت کر رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور شاہ رخ جتوئی کو جب رہا کیا گیا تو اس وقت بھی وہ جناح ہسپتال میں زیر علاج تھے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں شاہ زیب قتل کیس کے ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں بھی رکھے جانے کا حکم دیا تھا۔عدالت عظمی کے حکم پر وزارت داخلہ نے شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے تھے۔ 2012ءمیں کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں پولیس آفیسر اورنگزیب کے جوان سالہ بیٹے شاہ زیب کو جھگڑے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے ازخود نوٹس لیے جانے کے بعد ملزمان کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔
سپریم کورٹ

Comments
Loading...