Official Web

ماحولیاتی تبدیلیوں سے عالمی تباہی روکنے میں صرف 12 سال رہ گئے ہیں!

پیرس: اقوامِ متحدہ سے وابستہ دنیا کے ممتاز ترین ماحولیاتی اور آب و ہوا کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر اگلے 12 برسوں میں ہم نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو محدود کرنے سمیت دیگر اہم اقدامات نہ کئے تو اس کے بعد سیلاب، طوفان، موسمیاتی شدت، خشک سالی، فصلوں کی تباہی کا عمل تیز ہوسکتا ہے جس کے پورے سیارے پر غیرمعمولی منفی نتائج برآمد ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ کے تحت بین الحکومتی پینل برائے تبدیلی آب و ہوا (آئی پی سی سی) نے پیر کے روز اپنی رپورٹ میں زور دیا ہے کہ ہمارے سیارے کے اوسط درجہ حرارت میں ایک درجے سینٹی گریڈ کا اضافہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ اب اگر اس درجہ حرارت میں 1.5 اضافہ روکنا ہے تو آج سے ہی جرأت مندانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ بصورتِ دیگر اس نصف درجہ حرارت میں اضافے سے خشک سالی، قحط، شدید گرمی، موسمی شدت، جنگلات کی آگ، سیلاب اور طوفان جیسی آفات میں اضافے سے کروڑوں افراد متاثر ہوں گے کیونکہ زمین کا انتہائی نازک اور حساس نظام اس گرمی پر بھی کئی طرح سے متاثر ہوگا۔

واضح رہے کہ جب اوسط درجہ حرارت میں اضافے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے بعد سے ہونے والا اوسط درجہ حرارت میں اضافہ۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے ممالک میں بہت پیچھے ہے لیکن جرمن واچ کے مطابق یہ دنیا کے اُن سات ممالک میں شامل ہے جو کلائمیٹ چینج سے شدید متاثر ہوں گے۔

آئی پی سی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں پیرس معاہدے پر عمل کرنا ضروری ہے۔ لیکن اس معاہدے کے بعد سائنس اور سیاست کی نہ رکنے والی بحث شروع ہوگئی تھی اور زمین پر گرمی بڑھانے والی گرین ہاؤس گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سب سے بڑے مخرج امریکا نے اس سے جان چھڑانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا، پیرس معاہدے پر عمل درآمد کا پابند نہیں رہا۔

پیرس معاہدہ رکازی ایندھن (فوسل فیول) کے استعمال میں کمی کے علاوہ منصوبہ بندی، انفرا اسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، زراعت، شہریات اور دیگر اہم اصلاحات پر بھی زور دیتا ہے۔ لیکن اب پوری دنیا آب و ہوا میں تبدیلی کے ہولناک اثرات دیکھ رہی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ہم ریکارڈ گرمی کے سال و ماہ نوٹ کرچکے ہیں۔ اس سال دنیا کے بڑے سمندروں میں ہولناک سیلاب بھی ہمارے سامنے ہیں۔

رپورٹ کے اجراء کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک ویب سائٹ پر اپنے مضمون میں کہا ہے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے سردمہری پر سخت پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی مسئلہ ہے جس کا عالمی حل ڈھونڈنا ہوگا۔ آلودگی پھیلانے والے بڑے ممالک کی جانب سے سست روی پر انہوں نے شدید مایوسی کا اظہار بھی کیا۔

واضح رہے کہ ناسا کے ماہرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انیسویں صدی کے بعد سے اب تک عالمی درجہ حرارت میں 0.9 فیصد اضافہ ہوچکا ہے جسے ایک درجے سمجھنا بہتر ہوگا۔ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اپنے بچوں اور ان کے بچوں کی بقا و سلامتی کےلیے سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

Comments
Loading...