میموگیٹ کیس: سپریم کورٹ نے حسین حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے میموگیٹ کیس کی سماعت کے دوران حلف کی خلاف ورزی پر امریکا میں مقیم سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے میموگیٹ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیس کے سلسلے میں کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بشیر میمن نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ حسین حقانی کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کرتے ہوئے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لیے انٹرپول کو خط لکھ دیا ہے۔

سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ حسین حقانی نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی، لہذا ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے حوالے سے ایک کیس کی سماعت کے دوران میموگیٹ کیس کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ حسین حقانی وطن واپس آکر میمو گیٹ کاسامنا کریں۔

بعدازاں 2 فروری کو چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ تشکیل دیتے ہوئے میموگیٹ کیس کو سماعت کے لیے مقرر کردیا۔

تاہم 5 فروری کو اپنے ایک بیان میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے میمو گیٹ کیس دوبارہ کھولے جانے کو ‘سیاسی تماشہ’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے بعد 4 چیف جسٹس آئے، کسی نےکیس کو ہاتھ نہیں لگایا’۔

مذکورہ کیس کی 8 فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا تھا کہ ‘حسین حقانی کی واپسی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟’

جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ حسین حقانی کی واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

میمو گیٹ اسکینڈل کیا ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے گزشتہ دورِ حکومت میں اُس وقت امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر حسین حقانی کا ایک مبینہ خط (میمو) سامنے آیا تھا۔

حسین حقانی کی جانب سے بھیجے جانے والے میمو میں مبینہ طور پر یہ کہا گیا تھا کہ ایبٹ آباد میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی حملے کے بعد ممکن ہے کہ پاکستان میں فوجی بغاوت ہوجائے۔

میمو گیٹ میں اُس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے امریکا سے معاونت مانگی گئی تھی تاکہ حکومت ملٹری اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو قابو میں رکھ سکے۔

اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا جس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مذکورہ میمو درست ہے اور اسے امریکا میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

کمیشن نے کہا تھا کہ میمو لکھنے کا مقصد امریکی حکام کو اس بات پر قائل کرنا تھا کہ پاکستان کی سول حکومت امریکا کی حامی ہے۔

اس معاملے کو اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر نواز شریف سپریم کورٹ میں لے کر گئے تھے جس کے بعد حکومت نے حسین حقانی سے استعفیٰ لے لیا تھا اور وہ تب سے بیرون ملک مقیم ہیں۔

Comments
Loading...