زینب قتل کیس کا فیصلہ محفوظ، 17 فروری کو سنایا جائے گا

لاہور: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زینب قتل کیس میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سجاد احمد نے مسلسل چوتھے روز کیس کی سماعت کی۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے زینب قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جو 17 فروری کو سنایا جائے گا۔

استغاثہ کی جانب سے زینب کیس کے ملزم عمران کے خلاف 56 گواہان پیش کیے جب کہ پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹس کے مطابق عمران ہی زینب کا قاتل ہے۔

خیال رہے کہ زینب قتل کیس کا مرکزی ملزم عمران پہلے ہی اعتراف جرم کرچکا ہے جب کہ گزشتہ روز اس کے وکیل نے ملزم کے اعتراف جرم کے بعد کیس سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

زینب قتل کیس—کب کیا ہوا؟

پنجاب کے ضلع قصور سے اغواء کی جانے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا، جس کی لاش گذشتہ ماہ 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔

زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور قصور میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق بھی ہوئے۔

بعدازاں چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیا اور 21 جنوری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے زینب قتل کیس میں پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے تفتیشی اداروں کو 72 گھنٹوں کی مہلت دی۔

جس کے بعد 23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا، جس کی تصدیق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کی۔

ملزم عمران ان دنوں پولیس کی تحویل میں ہے جس کے خلاف کوٹ لکھپت جیل میں ٹرائل جاری ہے۔

Comments
Loading...