اداروں پرحملہ کرنے پرآرٹیکل 6کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے،پارلیمنٹ غلط قانون سازی نہیں کرسکتی، سپریم کورٹ، نہیں مانتاکوئی ڈکیت پارٹی صدربن کرحکومت کرے،چیف جسٹس

اداروںپرحملہ کرنے پرآرٹیکل 6کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے،پارلیمنٹ غلط قانون سازی نہیں کرسکتی، سپریم کورٹ،سوئس اکاﺅنٹس سے پیسہ واپس لانے کےلئے کمیٹی بنادی
نہیںمانتاکوئی ڈکیت پارٹی صدربن کرحکومت کرے،چیف جسٹس
اللہ نہ کرے کوئی جھوٹا چوراچکااورمنشیات فروش پارٹی صدربن جائے، نااہل شخص ارکان پارلیمنٹ سے وہ سب کروائے گاجووہ خودنہیں کرسکتا، پنجاب میںماورائے عدالت قتل کرنےوالوںکوترقیاںملیں، ہم انصاف کرینگے
پیسہ واپس لانے کی بھرپورکوشش کرینگے،جسٹس ثاقب،جرمنی وسوئٹرزلینڈسے اکاﺅنٹس کی معلومات لیں،جسٹس اعجازالاحسن،افراتفری نہیں مچنی چاہیے، انتخابی اصلاحات،بیرون ملک اکاﺅنٹس،آﺅٹ آف ٹرن پروموشن کیسزمیںریمارکس
اسلام آباد(خبرنگارخصوصی)سپریم کورٹ میں نواز شریف کی پارٹی صدارت کیخلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ میں نہیں مانتا کوئی ڈکیت پارٹی صدر بن کر ملک پر حکومت کرے ، اللہ نہ کرے کوئی چور اچکا پارٹی سربراہ بن جائے، توہین عدالت کا مرتکب ریاست کا وفادار نہیں ہوتا ،کیا توہین عدالت کا مرتکب شخص پارٹی صدر بن سکتا ہے؟ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے لیکن ایسے قانون بنانے کے اختیار نہیں جو غلط ہوں ، ہماراوزیر اعظم کہتا ہے میرے وزیراعظم وہی ہیں میں صرف نمائندہ ہوں ،،پارٹی سربراہ آلودہ ہوگا تو باقی پارٹی شفاف کیسے ہوگی ،دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اداروں پر حملہ کرنے پر بھی آرٹیکل چھ کی کارروائی ہو سکتی ہے ، جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کیخلات دائر دررخواستوں کی سماعت کی ، دوران سماعت الیکشن کمشین کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے سینٹ ٹکٹ کے نمونے عدالت میں پیش کیے گئے تو چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ مشاہد حسین کے لیے پارٹی ٹکٹ پر نوازشریف نے دستخط کیے، فرحت اللہ بابر نے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے پارٹی ٹکٹ پر عمران خان کے دستخط ہیں جس پر وکیل سلمان اکرم کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62 ،63 کا تعلق اہلیت اور نااہلیت سے ہے، آرٹیکل 63 اے پارٹی سربراہ اور اراکین سے متعلق ہے ،الیکشن ایکٹ 2017 آئین سے متصادم نہیں ہے، پارلیمنٹ چاہے تو آرٹیکل 17میں ترمیم کرسکتی ہے، کسی پارٹی رکن کی غلطی کو معاف کرنا یا ریفرنس بھیجنا سربراہ کا اختیار ہے، دونوں صورتوں میں یہ سیاسی جماعت کااندرونی معاملہ ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں ان کے وزیراعظم وہی ہیں، ہم یہ دیکھ رہے ہیں پارٹی صدر کی حیثیت کیاہوتی ہے، سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میرے خیال سے پوری پارلیمنٹ نوٹس لے رہی ہو گی، جس پر چیف جسٹس بولے ہم بھی نوٹ کررہے ہیں، پارلیمنٹ کو قانون بنانے کااختیار ہے تاہم ایسے قانون بنانے کااختیار نہیں جو غلط ہوں ، میں نہیں مانتا کوئی ڈکیت پارٹی صدر بن کرملک پر حکومت کرے، وزیراعظم کہتے ہیں میں تو صرف نمائندہ ہوں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ نیلسن منڈیلا بھی کئی سال جیل میں رہے،اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیلسن منڈیلا پرسیاسی کیس تھا فوجداری نہیں ،کیا توہین عدالت کا مرتکب شخص پارٹی صدر بن سکتاہے، توہین عدالت کامرتکب ریاست سے وفادار نہیں ہوتا جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرٹیکل 63 ون کوآرٹیکل 17میں شامل نہیں کیا جاسکتا، جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں نااہل شخص پارٹی صدر بن سکتاہے، جس پر وکیل سلمان اکرم کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62ون ایف کی نااہلی پارلیمنٹ کے حوالے سے ہے لہذا آرٹیکل 63ون کو آرٹیکل 17 میں شامل نہیں کیا جاسکتا، سیاسی جماعت کے اراکین کی مرضی وہ جس کوسربراہ بنائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ نااہل شخص اراکین پارلیمنٹ سے وہ سب کروائے گا جو خود نہیں کرسکتا، سلمان اکرم نے دلائل میں کہا کہ کیا پارٹی صدارت کے لیے پابندی ہوگی اور کیا نااہل شخص سیاسی جماعت میں سیکرٹری جنرل سیکرٹری فنانس کاعہدہ نہیں رکھ سکتا، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ کیا قتل اور ڈکیتی میں سزا کاٹنے والا سیاسی جماعت بناسکتاہے، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اللہ نہ کرے کوئی چور اچکا پارٹی صدر بن جائے، کسی کی ذات سے کوئی غرض نہیں، پاکستان کے سارے سیاسی رہنما اچھے ہیں تاہم عدالت نے فیصلے میں مستقبل کو بھی مد نظر رکھنا ہے۔
چیف جسٹس
دوسراانٹرو لیڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاﺅنٹس سے پیسہ واپس لانے کیلئے کمیٹی بنادی۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاﺅنٹس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ سیکرٹری فنانس اور گورنر اسٹیٹ بینک عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے بیرون ملک اکاﺅنٹس اور املاک بنا رکھی ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک بتائیں کہ سوئٹزرلینڈ میں موجود اکاﺅنٹس سے پیسہ کیسے واپس پاکستان آسکتا ہے؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اتنا سارا پیسہ بیرون ملک چلا گیا، ممکن نہیں کہ ساری رقم کالے دھن کی ہو ¾ کچھ ایسے بھی ہوں گے جو قانونی طریقے سے رقم لے گئے ہوں تاہم اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو غیر قانونی طریقے سے رقم لے کر گئے ہیں، کہاجاتا ہے یہ پیسہ واپس آجائے تو ہمارے سارے قرضے اتر جائیں۔گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے بتایا کہ بیرون ملک اکاﺅنٹس کے حوالے سے معاہدے ہو رہے ہیں اور سوئٹزرلینڈ سے بھی دو طرفہ معاہدہ ہو گیا ہے، پیسہ واپس لانے کےلئے ہم اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔جسٹس اعجازالاحسن نے حکم دیا کہ جرمنی و سوئٹرز لینڈ سے ہزاروں لوگوں کے اکاو¿نٹس کے بارے میں معلومات لیں، بھارت نے بھی سوئٹرز لینڈ سے سینکڑوں لوگوں کی معلومات لی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملائیشیا میں بھی لوگ سرمایہ کاری کررہے ہیں، کیا متحدہ عرب امارات میں بھی پاکستانی اپنی جائیداد خرید سکتے ہیں؟۔چیف جسٹس نے گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی سربراہی میں چیئرمین ایف بی آر اور سیکرٹری خزانہ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے حکم دیا کہ مل جل کر طریقہ کار بنائیں، کمیٹی ایک ہفتے میں گائیڈ لائن دے کہ بیرون ملک سے رقم کیسے واپس لانی ہے، کمیٹی حکومت کے کسی بھی ادارے سے معلومات لینے کی مجاز ہوگی، مقصد یہ ہے کہ غیرقانونی طریقے سے بھیجی رقم واپس لائی جائے، پیسہ واپس لانے والوں کو رعایت دینے کے معاملے پر غور کریں گے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کارروائی سے کوئی افراتفری نہیں مچنی چاہیے ¾ جو بھی کام کرنا ہے قانون کے مطابق کریں، اگر قوانین میں سقم ہے تو ہمی نشاندہی کروائیں، یہ بھی بتائیں کونسی رقوم غیر قانونی طریقے سے منتقل ہوئی، پہلا کام ان لوگوں کا پتا چلانا ہے جو ٹیکس دئیے بغیر پیسا باہر لے گئے، یہ بھی دیکھیں جو پیسا باہر سے پاکستان لائیں ان کو کیا مراعات ملیں گی ¾یہ ٹیکس کی ادائیگی اور عوامی مفاد عامہ کا مسئلہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر قوانین میں سقم ہوئے تو ہم ممکن ہے ریاست کو قانون سازی کا کہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ سے معلومات لینے کے تمام اقدامات مکمل ہیں جبکہ دوبئی کو بھی 55 افراد کی فہرست دے دی ہے، بس پارلیمنٹ نے معاہدے کی توثیق کرنی ہے، معاہدے کی توثیق ہونے پر سوئٹزر لینڈ سے معلومات لے سکتے ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے کہا کہ پاناما لیکس میں 444 لوگوں کے نام آئے، 2 لوگوں سے 6.62 ارب روپے ریکور بھی کیے جاچکے ہیں، 363 لوگوں کو ایف بی آر نے نوٹسز جاری کیے تاہم 78 لوگوں کے پتے نہیں مل سکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا 78 افراد سے متعلق کوئی اشتہار دیا گیا، نوٹسز 2016 میں جاری ہوئے اب تک کیا ہوا، کیا آفشور کمپنی والوں سے وضاحت مانگی ہے؟۔ مبر ایف بی آر نے کہا کہ نادرا کو فہرست دی تھی، نادرا 185 لوگوں کی معلومات نہ دے سکا۔ممبر ایف بی آر نے بتایا کہ 72 لوگوں نے آف شور کمپنیوں سے اپنا تعلق تسلیم کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان 72لوگوں سے پوچھیں آف شور کمپنی کس طرح بنائی ، دیکھ لیتے ہیں کن لوگوں نے بیرون ملک کروڑوں ڈالرز کی جائیدادیں خرید رکھیں ہیں، قرعہ اندازی کے ذریعے 10 لوگوں کے نام نکال کر ہمیں دے دیں، کسی کو ٹارگٹ نا کیا جائے۔عدالت نے سماعت غیرمعینہ مدت کےلئے ملتوی کردی۔دریں اثناءسپریم کورٹ میں آو¿ٹ آف ٹرن پروموشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پولیس کی آو¿ٹ آف ٹرن ترقی پر سندھ میں ہم نے پابندی لگائی ہے اب پنجاب میں کیسے اجازت دے دیں، پنجاب میں ایسے لوگوں نے بھی ترقیاں کیں،جنہوں نے ماورائے عدالت قتل کیے،پنجاب میں تو یہاں تک بھی ہوا ہے بندہ مار لو آو¿ٹ آف ٹرن پروموشن لے لو۔جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں پولیس افسران کی آو¿ٹ آف پروموشن سے متعلق مقدمے کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی دوران سماعت چیف جسٹس نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث صاحب آپ کوٹرائل پر توجہ دینی چاہیے جس پر خواجہ حارث نے جواب میں کہا کہ ہم نے کبھی ٹرائل کورٹ سے التوا نہیں لیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کاایشو ہمارے پاس نہیں ہے، میں نے عمومی بات کی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پوچھنے پر بتارہے ہیں کہ احتساب عدالت سے کبھی تاریخ نہیں لی، اپنے رجسٹرار آفس سے کہہ دیتے ہیں جب تک ٹرائل ہے آپ کے مقدمات نہ لگائیں، صرف پیرکوآپ جاتے ہیں 2دن کیس چلتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ وہاں (احتساب عدالت) فیصلہ کروائیں اپنا بوجھ ختم کروائیں وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ احتساب عدالت خود سے تاریخ ڈال دیتی ہے، میں نے کبھی احتساب عدالت سے تاریخ نہیں لی، ریکارڈ منگواکردیکھ لیں،دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کی آو¿ٹ آف ٹرن ترقی پر سندھ میں ہم نے پابندی لگائی پنجاب میں کیسے اجازت دے دیں، پنجاب میں ایسے لوگوں نے بھی ترقیاں کیں،جنہوں نے ماورائے عدالت قتل کیے ، عدالتوں کے ذریعے دی گئی آوٹ آف ٹرن پروموشنزکو ہی واپس لے لیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ کام کرنے والوں کوتمغے اور پیسے دلوا دیں گے، بتائیں عدالتوں سے آوٹ آف ٹرن پروموشن لینے والوں کو کیسے چھوڑیں، ہم نے انصاف کرناہے، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بھی ہوا ہے کہ بندہ ماردیو!آوٹ آف ٹرن پروموشن لے لو، بندے مارنے والوں کوپنجاب نے ترقیاں دیں، چیف جسٹس نے کہا عدالتی فیصلے سے چاہے کتنے بھی لوگ متاثرہوں اصول طے کرنے ہیں بعد ازاں عدالت نے پولیس آوٹ آف ٹرن پروموشن کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی ۔ جبکہ سپریم کورٹ نے تارکین وطن سے شناختی کارڈ کی زائد فیسوں کے حوالے نادار کی تجاویز پر عملدرآمد نہ ہونے پر سیکرٹری داخلہ کو منگل کو طلب کر تے ہوئے حکم دیا ہے کہ سیکرٹری داخلہ بتائیں تجاویز پر عملدرآمد کے لئے اب تک کیا اقدامات کیے گئے جبکہ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تارکین وطن اتنا زر مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں لیکن انکو کیا ریلیف دیا جا رہا ہے۔جمعرات کے روز تارکین وطن سے شناختی کارڈ پر زائد فیسوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیئرمین نادرا عثمان مبین عدالت میں پیش ہوے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان اوریجن کارڈ کی فیس کم نہیں ہوئی؟ چیئرمین نادرا نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے تجاویز دے دی ہیں منظوری حکومت نے دینی ہے، حکومت کو کم فیس کرنے کے لیے دو آپشن دیئے ہیں، ایک آپشن ہے کہ تمام کارڈز کے ریٹ کم کیے جائیں ، نائیکوپ کی قیمت 10ڈالر 15ڈالر اور بیس ڈالر تجویز کی ہے، پہلے قیمت 33سے 51 ڈالر تھی، زون بی کے لیے فیس 80 سے 100 ڈالر تھی،اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہاں پاکستانیوں کو شناختی کارڈز فیس پر سبسڈی دی جاتی ہے، اس سبسڈی کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے وصول کیا جاتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تارکین وطن کے لیے جرمانہ ہے، یہاں کہ لوگ کم مگر تارکین وطن زیادہ قیمت ادا کریں، سیکرٹری داخلہ وضاحت کریں وفاقی وزیر کو نہیں بلا رہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کل طارق فضل چوہدری آئے ہمیں اچھا لگا، وفاقی وزیر سے ڈپٹی اٹارنی اور چیئرمین نادرا رابطہ کریں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نادرا کا کام تو اب آن لائن ہو رہا ہے، اتنی بڑی تنخواہوں پر بیرون ملک لوگ رکھے ہوئے ہیں، کیا نادرا کو بیرون ملک اپنے دفاتر بند نہیں کر دینے چاہیے؟ بیرون ملک کے دفاتر بند کر دینے سے نائیکوپ اور پی او سی کارڈ پر کاسٹ کم ہو گی، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ تارکین وطن اتنا زر مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ تارکین وطن کو کیا ریلیف دیا جا رہا ہے، 1 سال از خود نوٹس کیس کو چلتے ہوئے ہو گیا ہے ابھی تک کوئی ریلیف نہیں ملا، وفاقی وزیر سیکرٹری داخلہ کیساتھ آ کر ہمیں بتائیں، تارکین وطن کا دل پاکستان کیساتھ دھڑکتا ہے، تارکین وطن ملک چھوڑ کر تو نہیں چلے گئے،جسٹس عمر عطائ بندیال نے کہا کہ 8ماہ سے حکومت نے نادراکی تجاویز پر کچھ نہیں کیا، بعد ازاں عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ عدالت کو بتائیں تجاویز پر کیا اقدامات کیے گئے عدالت کا کہنا تھا کہ نادرا اپنی تجاویز وزارت داخلہ کودے چکاہے یہ تجاویز جولائی 2017 سے وزارت داخلہ کے پاس پڑی ہیں، ہماری خواہش ہے وفاقی وزیر بھی معاملے کودیکھیں عدالت وفاقی وزیر کو طلب نہیں کر رہی لیکن وہ خود آنا چاہیں تو ان کی مرضی ہے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی۔

Comments
Loading...