Official Web

پناہ گزینوں،روسی مداخلت سےمتعلق سوالات پرٹرمپ چراغ پا،رپورٹر کامائیک چھینےکاحکم

واشنگٹن: امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج پر وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے رپورٹر جم اکوسٹا پر چڑھ دوڑے اور انہیں ‘بدتمیز اور خوفناک انسان’ قرار دیتے ہوئے عملے کو ان کا مائیک چھین لینے کا حکم دے دیا۔

بعدازاں وائٹ ہاؤس نے مذکورہ رپورٹر کا پریس پاس بھی ‘اگلے احکامات’ تک معطل کردیا۔

سی این این اور دیگر تمام چینلز پر دکھائی گئی براہ راست نشریات میں دیکھا گیا کہ کس طرح امریکی صدر نے سی این این کے رپورٹر کے سوالات سے زچ ہوکر انہیں برا بھلا کہا۔

پریس کانفرنس کے دوران جب مائیک جم اکوسٹا کے ہاتھ میں آیا تو انہوں نے سب سے پہلے  وسطی امریکا سے جنوبی سرحدوں کی جانب ہجرت کرنے والے پناہ گزینوں کے ساتھ نسلی تعصب کا معاملہ اٹھایا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی الیکشن کی انتخابی مہم کے آخری جلسے سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ میکسیکو سے امریکا میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں نے اگر فورسز پر پتھراؤ کیا تو انہیں براہ راست گولی مار دی جائے گی۔

تاہم صحافی کے سوال پر ٹرمپ نے جواب دیا، ‘میں انہیں ملک میں داخلے کی اجازت دینا چاہتا ہوں لیکن انہیں قانونی طریقے سے آنا ہوگا۔’

صحافی جم اکوسٹا نے کہا کہ ‘وہ ہزاروں میل دور بیٹھے ہیں، یہ حملہ نہیں ہے۔’

جس پر ٹرمپ نے کہا، ‘میرا خیال ہے کہ آپ مجھے ملک چلانے دیں۔ آپ سی این این چلائیں اور اگر آپ نے یہ ٹھیک طرح سے کیا تو آپ کی ریٹنگز بہت اچھی ہوجائیں گی۔’

اکوسٹا نے جیسے ہی دوسرا سوال کرنا چاہا، ٹرمپ نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ ‘بس بہت ہوگیا’۔

ٹرمپ نے صحافی جم اکوسٹا کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ امریکی چینل کے لیے شرمناک ہے کہ اس نے تم جیسے رپورٹر رکھے ہوئے ہیں—۔فوٹو /اے ایف پی

جس پر وائٹ ہاؤس کے عملے کی ایک رکن نے صحافی سے مائیک چھیننا چاہا۔

اس موقع پر جم اکوسٹا نے کہا کہ ‘کیا میں ایک اور سوال پوچھ سکتا ہوں’۔

تاہم ٹرمپ نے جواب دیا، ‘بس کافی ہے’۔

وائٹ ہاؤس کے عملے کی رکن نے صحافی سے دوبارہ  مائیک لینا چاہا، لیکن وہ ایک اور سوال کرنا چاہ رہے تھے۔

اور جیسے ہی جم اکوسٹا نے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے حوالے سے سوال پوچھنا چاہ، ٹرمپ آگ بگولہ ہوگئے اور جم اکوسٹا کو چُپ ہونے کا کہتے ہوئے بولے، ‘میں کسی روسی مداخلت کو نہیں مانتا، یہ سب افواہ ہے، بیٹھ جاؤ، بہت ہوگیا’۔

ٹرمپ نے مزید کہا، ‘امریکی چینل کے لیے شرمناک ہے کہ اس نے تم جیسے رپورٹر رکھے ہوئے ہیں، تم ایک بدتمیز اور خوفناک انسان ہو، تمہیں سی این این میں نہیں ہونا چاہیے’۔

امریکی صدر نے صحافی کو برا بھلا کہتے ہوئے مزید کہا، ‘تم غلط خبریں دیتے ہو اور چینل چلاتا ہے، تم لوگوں کے دشمن ہو’۔

پریس کانفرنس کے دوران امریکی صحافی نے ایک اور صحافی کو بھی ‘نسل پرستانہ سوال نہیں کرو’ کہہ کر چُپ کرا دیا۔

بعدازاں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری ساری سینڈرز کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں اعلان کیا گیا کہ جم اکوسٹا کا پریس پاس ‘اگلے احکامات’ تک معطل کیا جارہا ہے۔

جم اکوسٹا نے اس پابندی سے متعلق ٹوئیٹ بھی کی۔

Jim Acosta

@Acosta

I’ve just been denied entrance to the WH. Secret Service just informed me I cannot enter the WH grounds for my 8pm hit

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے اس رویے کے بعد سی این این نے اپنے بیان میں کہا، ‘امریکی صدر کی جانب سے پریس پر حملوں کا معاملہ بہت آگے بڑھ چکا ہے، یہ صرف خطرناک ہی نہیں ہیں بلکہ یہ مایوس کن حد تک امریکی روایات کے خلاف ہیں۔’

Comments
Loading...