اگست میں پاکستانی ٹیم کا امریکا میں سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں شرکت کا امکان

رواں برس اگست میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دورہ زمبابوے مشکل دکھائی دے رہا ہے اور اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ اگر زمبابوے کرکٹ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی میزبانی کرنے سے انکار کیا تو پاکستانی ٹیم امریکا میں ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے ساتھ تین ملکی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ افسر نے تصدیق کی کہ زمبابوے کرکٹ کے ایم ڈی فیصل حسین نے دو ہفتے قبل لاہور آکر پی سی بی حکام سے ملاقات کی اور بتایا کہ موجودہ حالات میں زمبابوے کے لیے دو ٹیسٹ، دو ٹی ٹوئنٹی اور سہ فریقی کرکٹ ٹورنامنٹ کرانا مشکل ہے۔

اس لیے پلان بی کے تحت پاکستان کرکٹ بورڈ نے ویسٹ انڈیز بورڈ کی پیشکش کو قبول کرکے امریکا میں کھیلنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصل حسین اپنے بورڈ کا حتمی جواب اگلے دو ہفتے میں دیں گے۔

امریکا میں کرکٹ آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹورنامنٹ کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے، تاہم مالی معاملات طے ہونا ابھی باقی ہیں۔

فلوریڈا کا شہر فورٹ لیڈر ڈیل اس سے قبل نیوزی لینڈ، بھارت، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے انٹرنیشنل میچوں کی میزبانی کرچکا ہے جبکہ ویسٹ انڈین بورڈ سینٹرل برو ورڈ ریجنل پارک میں کیریبین لیگ کے میچ بھی کراچکا ہے۔یہ گراؤنڈ آئی سی سی سے منظورہ شدہ ہے۔

ہیوسٹن ماضی میں 2002 میں ڈبل وکٹ ٹورنامنٹ کراچکا ہے۔ یہاں ایک پاکستانی نے نیا کرکٹ اسٹیڈیم بنایا ہے جس پر پہلی بار انٹرنیشنل میچ کرائے جائیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ میں پاکستان سپر لیگ فائنل کے بعد ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم لاہور  آئے گی۔

سیریز میں تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل 29، 31 مارچ اور یکم اپریل کو قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

ویسٹ انڈین بورڈ نے اس سے قبل پاکستان کے ساتھ پانچ سالہ معاہدہ کرنے پر حامی بھری تھی، لیکن اب اس نے پانچ سالہ معاہدہ کرنے سے معذرت کر لی ہے تاہم مارچ-اپریل کی سیریز کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

اس سلسلے میں ویسٹ انڈیز بورڈ کی پلیئرز ایسوسی ایشن سے بات چیت کامیاب رہی ہے اور پاکستانی کرکٹ ٹیم اگست میں جوابی سیریز کے لیے امریکا جائے گی، جہاں ویسٹ انڈین بورڈ میزبانی کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے درمیان معاملات طے پانے کے بعد ٹورنامنٹ ڈبل لیگ کی بنیاد پر ہوگا اور چھ لیگ میچوں کے بعد دو ٹاپ ٹیمیں فائنل میں کھیلیں گی۔

چوں کہ امریکہ میں میچ زیادہ ہوں گے اس لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ویسٹ انڈین بورڈ سے ہونے والی آمدنی کا شیئر مانگا ہے۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

Comments
Loading...