کراچی: مبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق طالبہ کے قتل کا مقدمہ درج

کراچی: نارتھ کراچی انڈہ موڑ کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران جاں بحق ہونے والی میڈیکل کی طالبہ نمرہ بیگ کے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔

ایس ایس پی سینٹرل پولیس کے مطابق نمرہ بیگ کے قتل کا مقدمہ سرسید تھانے میں سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جب کہ مدعی پولیس اہلکار عدنان تھانہ نور جہاں میں تعینات ہے۔

 مقدمے میں پولیس مقابلہ، قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایس ایس پی سینٹرل پولیس نے بتایا کہ نمرہ بیگ کے قتل کا مقدمہ مقابلے میں ہلاک ڈاکو ریاض اور زخمی ملزم کے خلاف درج کیا گیا ہے جن کا تعلق رحیم یار خان سے ہے جب کہ دونوں ملزمان کے کرمنل ریکارڈز کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔

نمرہ بیگ کی موت کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی کراچی نے ڈی آئی جی سی آئی اے عارف حنیف کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی بھی قائم کی ہے۔

ایس ایس پی سینٹرل پولیس کا کہنا تھا کہ دو ڈی آئی جیز اور 3 ایس ایس پیز کی کمیٹی تحقیقات کررہی ہے صرف پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے اگر پولیس کے خلاف ثبوت ملتے ہیں تو دونوں اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

 نمرہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جیو نیوز نے حاصل کرلی

جیو نیوز کو موصول ہونے والی 23 سالہ نمرہ  کی پورٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نمرہ کو 10 بجکر 21 منٹ پر جناح اسپتال لایا گیا جس کے سر کے سیدھے حصے پر گولی لگی۔

رپورٹ کے متن کے مطابق نمرہ کے سر پر لگنے والے زخم کی لمبائی ڈھائی سینٹی میٹر تھی اور اسے لگنے والی گولی رائفل فائر آرم کی تھی تاہم گولی قریب سے لگنے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق گولی لگنے کے باعث نمرہ کے سر کی ہڈی میں فریکچر بھی ہوا تھا۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل نارتھ کراچی انڈہ موڑ کے قریب شارع نور جہاں پر فائرنگ کی زد میں آکر  22 سالہ میڈیکل کی طالبہ نمرہ بیگ سر میں گولی لگنے کے باعث شدید زخمی ہوگئی تھیں۔

نمرہ کو فوری طور پر جناح اسپتال لایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی تھیں۔

Comments
Loading...