پاک بھارت کشیدگی؛ شہباز شریف کی حکومت کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی

اسلام آباد: 

اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں، آخر مذاکرات کرنے پڑتے ہیں اور جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں شہبازشریف نے کہا کہ آج پاکستان تاریخ کے اہم موڑ  پر ہے، اس نازک وقت میں سیاسی قیادت کو اجتماعی بصیرت اور تدبر سے کام لینا ہوگا، تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر حکومت کو بھرپور تعاون کی پیش کش کرتے ہیں، دنیا کو متحدہ پاکستان اور متحدہ پارلیمنٹ کی ایک ہی آواز آئے گی، کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

شہبازشریف نے کہا کہ بھارت کے جہاز ایل او سی کی خلاف ورزی کر کے پاکستانی حدود میں آئے اور جلدی سے بم گرا کر واپس چلے گئے، اس کے بعد پاک فضائیہ کے شاہینوں نے فوری اور موثر کارروائی کرتے ہوئے ہندوستان کے 2 جہاز گرا کر 1965 کی جنگ کی یاد تازہ کردی،اس کارروائی پر پاک فوج، فضائیہ کے افسران و جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس بہادری کا مظاہرہ کیا گیا اس سے ثابت ہوا کہ افواج پاکستان اس دھرتی کے چپے چپے کی حفاظت کریں گی اور پہلے کی طرح کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی، اسکوارڈن لیڈر حسن صدیقی نے جو کارنامہ انجام دیا اس سے وہ قوم کے ہیرو اور آنکھوں کا تارا بن گئے ہیں۔

شہبازشریف نے کہا کہ پلوامہ واقعے کی پاکستان نے مذمت کی ، نریندر مودی جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو اس نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید اور املاک کو آگ لگائی، دنیا بھر کے ممالک نے مودی کا داخلہ بند کیا اور اسے انسانیت کا قاتل قرار دیا، اب الیکشن میں ان کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے  اور پلوامہ واقعے کی آڑ میں  مودی نے جنونی کیفیت پیدا کی ہے ، انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی پہلی بار نہیں ہوئی اور یہ لڑائی پہلی بار نہیں ہے، دونوں ممالک تین جنگیں لڑ چکے ہیں، بھوک و افلاس کے خاتمے کے لیے جو وسائل استعمال ہونے چاہیے تھے وہ جنگ کی نذر ہوگئے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں، آخر کار مذاکرات کرنے پڑتے ہیں، جب تک کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا تو خطے میں امن قائم نہیں ہوسکےگا، بھارتی مظالم جاری رہے تو  کشمیر کی ہر وادی میں برہانی وانی اور عادل ڈار پیدا ہوں گے، بھارت کو کشمیریوں کا حق دینا ہوگا جب کہ  پاکستان کو کشمیریوں کی سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھنی ہوگی

Comments
Loading...