پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں، الیکشن جولائی میں ہوں گے،نگران وزیراعظم کا فیصلہ ماضی کی طرح کا نہیں ہوگا، آئین کے تحت کریں گے،شاہد خاقان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ ججز کا چہرہ عوام کے سامنے آنا چاہیے کیونکہ انہوں نے تاریخی فیصلے کرنے ہیں اس لیے کمزور شخص کو جج لگائیں گے تو بھگتنا پڑتا ہے۔ ججز کی پارلیمانی نگرانی دنیا بھر میں ہوتی ہے، امریکا سمیت دنیا بھر میں جج کی تعیناتی کے وقت اس کی پوری زندگی کھنگالی جاتی ہے، اسی لیے یہی معیار رکھنا چاہیے، اگر کمزور شخص کو جج لگائیں گے تو بھگتنا پڑتا ہے،پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں، الیکشن جولائی میں ہوں گے،سینیٹ انتخابات سے پہلے حکومت کے جانے اور اسمبلی توڑنے کی باتیں پہلے بھی ہوتی رہیں، اسمبلی تحلیل کرنے کے دو طریقے ہیں، نوازشریف اور پارٹی فیصلہ کرے اور مجھے بتائیں تو میں اسمبلی تحلیل کروں گا اور اگر اپوزیشن میں ہمت ہے تو تحریک عدم اعتماد پیش کرے، اسمبلی تحلیل کا تیسرا کوئی طریقہ نہیں ہے۔نگران وزیراعظم کا فیصلہ ماضی کی طرح کا نہیں ہوگا، نگران وزیر اعظم کا فیصلہ آئین کے تحت کریں گے، میرے خلاف کوئی سازش نہیں ہو رہی اور سازش پر کبھی یقین نہیں کیا۔ جو مظاہرے کرتے ہیں ان کی عقل کو داد دیتا ہوں، جو لعنتی ہیں انہیں خود سمجھ آجائے گی، حیران ہوں کہ اسمبلی رکن اور پارٹی سربراہ اسمبلی کو گالی دیتے ہیں،جتنی شفاف یہ حکومت ہے ملکی تاریخ میں کبھی نہیں آئی، یہاں وزیراعظم کے آفس میں نقد رشوت لی جاتی تھی، یہاں گیس کے کنکشن اور 45 ہزار کلاشنکوف کے لائسنس بیچے گئے۔این آر او چور کرتے ہیں ہم چور نہیں ہیں، آمروں سے کوئی پوچھنے والا نہیں، سیاستدانوں کو عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے، سیاستدانوں کو کبھی ہائی جیکر اور کبھی سسلین مافیا کہا جاتا ہے، مشرف نے غلط فیصلہ کیا، اسے کوئی پوچھنے والا نہیں، وہ لندن اور دبئی میں مزے کر رہا ہے۔جمہوریت کو چلنے دیں، ہر ادارہ جگہ بنانے کی کوشش کررہا ہے لیکن عوام اسے قبول کرتے ہیں جو فطرت کے مطابق ہو۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اورپاکستان میں چینی سرمایہ کاری کا موازنہ درست نہیں، ایسٹ انڈیا کمپنی نے جہاز اور فوجی لا کر پہلے فتح کیا پھر تجارت کی مگریہاں چینی سرمایہ کاری لا کر پاکستان کی مدد کر رہے ہیں۔ 20 ہزار چینی باشندے پاکستان میں ہیں، چینی حکومت نے پاکستان میںاپنے شہریوں کے جرائم میں ملوث ہونے کا سخت نوٹس لیا ہے، ڈو مور پر امریکہ کو کہہ چکے ہیں کہ پہلے ہی بہت کر چکے،دہشت گردی کے خلاف پاکستان اپنی اور دنیا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ختم نبوت کا بل منظور کرنے میں تمام جماعتیں شامل تھیں،حافظ حمد اللہ کی ترمیم منظور کر لی جاتی تو یہ معاملہ کھڑا نہ ہوتا لہٰذا اس حوالے سے راجہ ظفر الحق رپورٹ عوام کے پاس جانی ہے ،اس کا تفصیل سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔بچوں کے جرائم سے متعلق قوانین میں کمی نہیں ہے۔پیر کو وزیراعظم آفس میں پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ پوری دنیا میں یہ نظام ہوتا ہے کہ کورم ہو نہ ہو ایوان کا اجلاس جاری رہتاہے چاہے ایوان میں ایک رکن موجود ہو پارلیمان میں ہونیوالی بحث ریکارڈ کا حصہ ہوتی ہے ،پارلیمانی رپورٹرز کا بہت اہم کردارہے ان کے ذریعے حلقے کے عوام کو پتہ چلتا ہے کہ ان کا نمائندہ اسمبلی میں کیا کر رہا ہے ،الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت اپنی جگہ مگر پرنٹ میڈیا حلقے کے عوام میں بہت اہمیت ہوتی ہے وہ اپنے نمائندے کی تفصیلی خبر پرھتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو کسی قسم کا فوجی تھریٹ کبھی نہیں تھا،ہماری فوج نے جو کام کیا ہے پوری دنیا نے اکھٹے ہوکر بھی افغانستان میں وہ کام نہیں کیا،افغانستان میں جو بجٹ خرچ کیا جارہا ہے وہ ہمارے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے،افغان آپس میں بیٹھیں گے تو مسئلہ حل ہوگا،انہوں نے کہاکہ ملک میں سرمایہ کاری آرہی ہے اورجو کام نواز شریف کی حکومت نے پانچ سالوں میں کیا ہے وہ کام 65سالوں میں بھی نہیں ہوسکے اس پر اسمبلی سمیت ہر جگہ بحث کروالیں ہم اس کے لیے تیار ہں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ڈومور کا پاکستان نے واضح جواب دے دیا ہے ہم سے زیادہ ڈومور کسی نہیں کیا،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چھ ہزارفوجی جوانوں اورہزاروں عام شہریوں کی شہادتیںدی ہیں،وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پاکستان کے دولاکھ فوجی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ہم نے افغانستان میں اس قوت کو شکست دی ہے جس کو پوری دنیا ملکربھی شکست نہیں دے سکی تھی،انہو ں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف متفقہ فتویٰ قومی بیانیہ کا حصہ بن گیا ہے،اس چلنے دیا جائے یہ بڑی کاوش ہے،ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ہر ادارہ اپنی جگہ بنانے میں رہتا ہے لیکن کامیابوہی ہوتی ہے جس کو عوام قبول کریں،دنیا بھر میں ججز کے حوالے سے اوورسائٹ کمیٹی ہوتی ہے جو بھی جج لگایا جائے اس کا چہرہ عوام کے سامنے ہونا چاہیے،جس شخص کو جج تعینات کیا جائے اس کے حوالے سے تمام معلومات عام ہونی چاہیئں کیونکہ اس نے 25سے 30سال تک ملک میں انصاف کر نا ہوتا ہے زندگی اورموت کے فیصلے کرنے ہوتے ہیں اس لیے تمام ملکوں میں ججز تعینات کرنے سے پہلے اس کی پوری زندگی کھنگالی جاتی ہے،این آراوکرنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ این آر او وہ کرتے ہیں جو چور ہوتے ہیں ہم نے کوئی ڈاکہ نہیں مارا ،جتنی صاف اورشفاف موجودہ حکومت ہے پوری تاریخ میں نہیں آئی مشرف سے این آراوہم بھی کرسکتے تھے لیکن ہم نے ایسانہیں کیا،ایک اورسوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں ہے ،ا س پارلیمنٹ کے چارمہینے باقی رہ گئے ہیں اسمبلی تحلیل کرنے کے دوہی طریقے ہیں ایک تو پارٹی قائد میاں نوازشریف فیصلہ کریں اورمجھے بتادیں تو میں اسملبی تحلیل کردوں گاجبکہ دوسراطریقہ یہ ہے کہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئیں اورتحریک کامیاب ہوجائے اورنیا منتخب ہونیوالا اسمبلی تحلیل کردے،ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں نہ کبھی سازشوں کا حصہ بنا ہوں اورنہ ہی میں اس کاحصہ ہوں اگرکسی کو بھی اسمبلی توڑنی ہے تو وہ شوق پورا کرلے اگر آج بھی اسمبلی ٹوٹی تو الیکشن جولائی میں ہی ہوں گے،جس نے بھی سیاست کھیلنی ہے وہ کھیل لے اورانتخابات کا انتظارکرے،ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ پراسیکیوٹر جنرل کا تقررچیئرمین نیب کی مشاورت سے ہونا ہے انہوں نے پانچ نام بھجوائے تھے اس پر حکومتی موقف انہیں دے دیا ہے اورتین نام بھی بھجوادیئے ہیں نگراں وزیراعظم کا فیصلے میں ابھی چار ماہ باقی ہیں ،لیکن یہ فیصلہ ایسا نہیں ہوگا جیسا پچھلی بار کیا گیا ،نگراں وزیراعظم کے دور میں کیش رشوت لی جاتی رہی،سب ریکارڈ کا حصہ ہے اب ایسا نہیں ہوگا ماضی میں گیس کنکشن بیچے گے اور45ہزار کلاشنکوف کے لائسنس دیئے گئے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میرے خلاف کوئی سازش نہیں ہورہی،میں سازشوں پر یقین نہیں رکھتا اورایسا بندہ جس کے صرف چارماہ رہتے ہوں اس کے خلاف سازش ہونی بھی نہیں چاہیے،انہوں نے کہاکہ جو مظاہرے کررہے ہیں وہ اپنے آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں عمران خان اورآصف علی زرداری طاہر القادری کی قیادت میں مظاہرے کررہے ہیں میں ان کی عقل کی داددیتا ہوں،عمران خان اورشیخ رشید کی طرف سے اسمبلی پر لعنت بھیجنے سے متعلق سوال کے جواب پروزیراعظم نے کہاکہ لعنتیوں کو خود سمجھ آجائیگی جو پارٹی سربراہ ہیں اوررکن اسمبلی ہونے کے باوجود اسمبلی کو گالیاں نکالتے ہیں،اپوزیشن سے سیاسی مکالمہ کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ گالیاں دینے والوں سے کیا مکالمہ کیاجائے اب سیاسی مکالمہ جولائی میں پولنگ اسٹیشن پر ہی ہوگا،ایک اورسوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں ہے اپوزیشن کا کام احتجاج کرنا ہوتا ہے اگراپوزیشن ایوان میں ایجنڈا پھاڑنے کی بجائے وہاں بحث کرے اورمسائل کو سامنے لائے توبہتر ہوگا،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ختم نبوت کے معاملے پر ن لیگ قصوروار نہیں حقائق موجو دہیں حکومت اس معاملے پر بیک فٹ پر نہیں گئی یہ حکومت کا بل نہیں تھا پارلیمانی کمیٹی کا بل تھا جسے اسمبلی نے منظورکیا سینیٹ میں گیا اورپھر سینیٹ کمیٹی میں بھی اس پر بحث ہوئی پھر سینیٹ میں سینیٹرحافظ حمد اللہ نے اس کی نشاندہی کی ن لیگ نے حافظ حمد اللہ کی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا جبکہ پیپلزپارٹی نے اس کی مخالفت کی ،ہمارا موقف بہت واضح ہے ،ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ(ن)کی انتخابی مہم کی قیادت محمد نوا زشریف کریں گے ووٹ بینک میاں نواز شریف کا ہے ،جس طرح پیپلزپارٹی کو بے نظیرکے علاوہ ووٹ نہیں مل سکتا اسی طرح ن لیگ کو بھی نواز شریف کے علاوہ ووٹ نہیں مل سکتا،راجہ ظفرالحق کی رپورٹ عام کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پارلیمانی کمیٹی کے 104اجلاس ہوئے ہیں اس تمام ریکارڈ کو دیکھ رہے ہیں کہ کیا محرکات تھے ہر چیز کا جائزہ لیکر یہ رپورٹ عام کی جائیگی،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف ہم دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی جنگ بھی لڑرہے ہیں سیاسی حکومتوں سے بازپرس ہوتی ہے آمریت میں جو بھی فیصلہ کیا جاتا ہے کوئی بھی اس سے نہیں پوچھتا،مشرف سے بھی کوئی پوچھنے والا نہیں ،دبئی ،لندن اوردیگرممالک میں اس کی جائیدادیں ہیں اوروہ آرام سے زندگی گزارر ہا ہے لیکن سیاستدان ادھر ہی ہیں ان کو نیب کی عدالتوں میں پیش ہوناپڑرہا ہے ،جب ایٹمی دھماکہ کیاگیا تو ایک منتخب حکومت تھی دو،دوگھنٹے برطانیہ اورامریکہ سے منتخب قیادت کو فون آتے تھے لیکن قومی قیادت نے وہی فیصلہ کیا جو ملک کے مفاد میں تھا اگردہشت گردی کے خلاف جنگ کے فیصلے کے وقت بھی منتخب حکومت ہوتی تو حالات مختلف ہوتے،ایک سوا ل کے جواب میںوزیراعظم نے کہاکہ ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کر ے تو بہتر ہوگا،چین سے بڑی تعداد میں باشندوں کے پاکستان آنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ ایسٹ انڈیا کمپنی جہازلیکر آئی تھی جنہوں نے پہلے یہاں قبضہ کیا اورپھر تجارت کی سی پیک منصوبے کو ایسٹ انڈیا کمپنی سے تشبیہ دینا درست نہیں،جب ایسٹ انڈیا کمپنی آئی تھی توجی ڈی پی کا بڑا حصہ برصغیر میں تھا،اوران کے سارے سلسلے یہاں چلتے تھے مگر اس کے برعکس چینی کمپنیاںسرمایہ کاری لیکر یہاں آئی ہیں جو کہ پاورپلانٹس،موٹرویز،پورٹس،اورائیرپورٹس سمیت دیگر منصوبوں پر خرچ ہورہی ہے اس سے ملک کا فائدہ ہے کسی ملک نے خود کما کر ترقی نہیں کی،چین ہماری مددکررہاہے،منصبوے مکمل ہونے پر اس کے قرضے کی رقم واپس کی جائیگی اورمنصوبے اثاثے بن کر یہیں رہیں گے،ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہاکہ ڈالر کی قیمت طلب اوررسد کے مطابق ہوتی ہے،ایک اور سوال کے وزیراعظم نے کہاکہ اگلا بجٹ تیار کررہے ہیں اسے پیش کون کرے گا اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا،

Comments
Loading...